Column

تنخواہ وہی خرچے ڈبل

تنخواہ وہی خرچے ڈبل
میری بات
روہیل اکبر
آج کے دور میں سب سے بڑی چیخ اگر کسی ایک جملے میں سمائی ہوئی ہے تو وہ یہی ہے’’ تنخواہ وہی خرچے ڈبل‘‘۔ یہ صرف ایک لائن نہیں رہی بلکہ ہر گھر کی کہانی بن چکی ہے۔ ہر آنکھ کی نمی اور ہر دل کی بے بسی کا اظہار ہے۔ مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر نظر آتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی فکر شروع ہو جاتی ہے کہ آج کس خرچے کو پورا کیا جائے اور کس کو ٹالا جائے۔ بجلی کے بل ہاتھ میں آئیں تو دل دھڑکنے لگتا ہے، گیس کا بل الگ بوجھ بن جاتا ہے، اور اگر دوائیوں کی ضرورت پڑ جائے تو یوں لگتا ہے جیسے بیماری سے زیادہ اس کا خرچ مار ڈالے گا۔ ایک عام آدمی جو اپنی محنت کی کمائی سے گھر چلاتا ہے، وہ آج سب سے زیادہ پس رہا ہے، کیونکہ اس کی آمدن وہی ہے مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ بچوں کی اسکول فیس ادا کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے، کالج کی فیس تو گویا ایک خواب لگنے لگی ہے، اور والدین اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ تعلیم کو ترجیح دیں یا گھر کا چولہا جلائیں۔ گھر سے باہر نکلیں تو رکشہ کا کرایہ بھی عام آدمی کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں، روزگار کے لیے نکلنا بھی ایک مالی بوجھ بن چکا ہے، ہر طرف قیمتوں کا طوفان ہے، جس نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس سب کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان خود پر توجہ دے بھی سکتا ہے یا نہیں؟، کیا وہ اپنی صحت، اپنے خوابوں اور اپنی خوشیوں کے بارے میں سوچ سکتا ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پیٹ کی آگ بجھانے کی فکر ہو تو انسان اپنے وجود کو بھول جاتا ہے، وہ اپنی خواہشات کو دبا دیتا ہے، اپنے ارمانوں کو قربان کرتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کے گھر والے سکون سے رہ سکیں۔ یہ صورتحال صرف معاشی بحران نہیں، بلکہ ایک ذہنی اور جذباتی دبائو بھی بن چکی ہے، جہاں ہر شخص اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے، مگر باہر سے مضبوط بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف ذمہ داریوں کا بوجھ ہے اور دوسری طرف وسائل کی کمی اور ان دونوں کے درمیان پستا ہوا انسان اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ محنت کرنے والا بھی پریشان ہے اور ایمانداری سے جینے والا بھی مشکل میں ہے۔ یہ وقت صرف شکایت کرنے کا نہیں، بلکہ سوچنے کا ہے کہ آخر کب تک ایک عام آدمی اس بوجھ کو اٹھاتا رہے گا، کب تک وہ اپنے خوابوں کو قربان کرتا رہے گا، اور کب اسے اس کی محنت کا حقیقی صلہ ملے گا۔ اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ انسان اپنی خوشیوں کا حساب بھی خرچوں میں شامل کرنے لگا ہے، ہنسی بھی مہنگی لگتی ہے، اور سکون بھی قسطوں پر ملتا محسوس ہوتا ہے، جو چیزیں کبھی ضرورت تھیں آج وہ آسائش بن چکی ہیں، اور جو آسائش تھیں وہ خواب بن گئی ہیں۔ ہر مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے، تنخواہ آتے ہی یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ قرض لینا مجبوری بن گیا ہے، اور بچت ایک ناممکن خواہش، سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ اذیت میں ہے، جو مانگ سکتا ہے نہ دکھا سکتا ہے، بس خاموشی سے ٹوٹتا رہتا ہے۔ معاشرہ بے حسی کی چادر اوڑھ چکا ہے، جہاں کسی کے درد کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ حکمتِ عملیوں اور وعدوں کے درمیان پسنے والا عام انسان اب صرف زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے جینے کی نہیں۔ اس کے خواب فائلوں میں دفن ہو چکے ہیں، اور اس کی محنت کا پسینہ سوال بن کر بہہ رہا ہے کہ آخر اس کا قصور کیا ہے۔ یہ کہانی صرف ایک گھر کی نہیں، بلکہ پورے ملک کی بن چکی ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی سانسیں تک مہنگی کر دی ہیں۔ یہاں کا عام شہری ہر دن ایک نئی آزمائش سے گزرتا ہے، کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ، کبھی گیس کی قلت، کبھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور کبھی اشیائے خورونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں۔ سوال یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ کب اور کیسے سدھریں گے؟، کیا صرف وعدوں اور تقاریر سے حالات بدل جائیں گے، یا پھر عملی اقدامات کی ضرورت ہے؟۔ جبکہ حکومت کی ذمہ داری صرف اعلانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے عوام کے دکھ کو سمجھ کر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے، جو زمین پر نظر آئیں۔ پاکستان کے موجودہ حالات ایک گہری تشویش کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں معیشت مسلسل دبائو کا شکار ہے۔ روپے کی قدر میں کمی نے ہر چیز کو مہنگا کر دیا ہے، اور عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان طبقہ ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہے، مگر مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اور دوسری طرف صنعتیں بند ہو رہی ہیں یا کمزور پڑ رہی ہیں، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت بڑھ رہی ہے، مگر شہر بھی اب روزگار دینے سے قاصر نظر آتے ہیں، تعلیم کا معیار گر رہا ہے اور صحت کی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ اداروں پر اعتماد کمزور پڑ رہا ہے، اور عوام کے اندر مایوسی بڑھتی جا رہی ہے، ہر شخص یہی سوچ رہا ہے کہ اس کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا، کیا وہ بھی اسی جدوجہد کا شکار ہوں گے؟۔ مہنگائی نے نہ صرف جیب خالی کی ہے بلکہ امیدیں بھی چھین لی ہیں۔ اگر بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں، اور اس کا بوجھ سب سے زیادہ عام آدمی ہی اٹھائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سنجیدہ فیصلے کیے جائیں، ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو وقتی نہیں بلکہ دیرپا حل فراہم کریں، تاکہ آنے والی نسلیں ایک بہتر پاکستان دیکھ سکیں۔ اگر ہم نے آج بھی سبق نہ سیکھا تو کل شاید بہت دیر ہو جائے، اور تب ہر زبان پر یہی فریاد ہو گی کہ ہم نے وقت ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کیا اور یہ جملہ ہمیشہ کی طرح ہمارے حال کا آئینہ بنا رہے گا کہ ’’ تنخواہ وہی خرچے ڈبل‘‘۔

جواب دیں

Back to top button