پٹرول لیوی اور احسن اقبال

پٹرول لیوی اور احسن اقبال
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
حکومت نے پٹرول پر ٹیکس لگا کر غریب عوام کا جینا تو محال کر دیا ہے تاہم مجھے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے اس بیان سے حیرت ہوئی لوگ ٹیکس نہیں دیتے اس لئے پٹرول پر لیوی لگائی گئی ہے۔ احسن اقبال صاحب کا یہ بیان ان کی حکومت کی کمزوری اور بیڈ گورننس کا عکاس ہے۔ پٹرول لیوی کی تصدیق ان کے بیان سے قبل انہی کی جماعت کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی تھی پٹرول پر حکومت نے ٹیکس لگایا ہے۔ تعجب ہے آبنائے ہرمز سے کسی پاکستانی تیل بردار جہاز کو روکا نہیں گیا اس کے باوجود پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ویسے تو مسلم لیگ نون کے رہنمائوں کا غریب عوام کو لولی پاپ دنیا پرانا وتیرہ ہے، جیسا کہ نگران دور حکومت میں شہباز شریف صاحب نے کے پی کے میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا وہ اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو سستا آتا فراہم کریں گے۔ آج ملک کو کوئی صوبہ نہیں جس میں آٹے کی قیمتیں اعتدال پر ہوں، روز بروز ان میں اضافہ موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ بات درست ہے ملک کے عوام مشکل گھڑی میں ہمیشہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتی ہیں جیسا کہ معرکہ حق کے دوران عوام کی یکجہتی دیکھنے میں آئی، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے سیاست دانوں کو غریب عوام کا بالکل احساس نہیں۔ سوال ہے مسلم لیگ نون کی حکومت اپنے ادوار میں بڑی بڑی شاہرائیں، پل اور انڈر پاس بنانے کی طرف خصوصی توجہ دیتی ہیں، آخر کیا وجہ ہے وہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی طرف توجہ دینے کی بجائے میگا پراجیکٹس کی طرف متوجہ رہتی ہے؟۔ ملک اور عوام کی بدقسمتی دیکھیں جن لوگوں کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات تھے انہی کو اقتدار دے کر غریب عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں شائد حکومت عوام کو مہنگائی سے نجات نہ دلا کر گزشتہ انتخابات میں مینڈیٹ نہ دینے کا بدلہ لے رہی ہے۔ گو فارم 47کا کرشمہ تھا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں لایا گیا۔ چنانچہ اس صورت حال سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا آئندہ انتخابات میں بھی حکمرانوں کو عوام سے ووٹ ملنے کی توقعات بہت کم ہیں، لہذا انہیں آئندہ انتخابات میں بھی فارم 47کا سہارا لینا پڑے گا۔ اگر ہم موجودہ حکومت کے کارہائے نمایاں کو دیکھیں تو عدلیہ کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں۔ ملک میں ایک چیف جسٹس ہوتا تھا جبکہ انہی کے دور میں دو چیف جسٹس صاحبان کام کر رہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن میں دیکھیں تو ارکان کی زیادہ تر تعداد کا تعلق حکمران جماعت اور اس کے حامیوں پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی دوسری ہائیکورٹس میں تبدیلی اسی حکومت کا کارنامہ ہے۔ تاسف ہے عدلیہ کے منصفوں کو صوبہ بد ر کر دیا گیا بار کونسلیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ورنہ مشرف دور میں جس طرح وکلا برادری نے یکجہتی کا مظاہر ہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی، مگر اب کچھ تو دال میں کالا ضرور ہے۔ آئینی ترامیم کر لی گئیں، ججوں کے تبادلے ہوگئے، وکلا نے چپ سادھ رکھی ہے؟۔ ملک و قوم کی بدقسمتی دیکھئے جن جن سیاست دانوں کے خلاف مقدمات تھے اقتدار میں آنے کے بعد قوانین میں ترمیم کرکے اپنے خلاف مقدمات ختم کرا لئے ۔ پاکستان دنیا میں شائد واحد ملک ہے جہاں کرپشن کرنے والوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور بے گناہوں کو جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔ حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے ایک روز انہیں ایک ایسی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے جہاں نہ کوئی وکیل، نہ کوئی سفارش کام آئے گی، بلکہ بے لاگ فیصلے ہوں گے، لہذا حکمرانوں کو اس روز سے ڈرنا چاہیے اور غریب عوام کی بددعائوں سے بچنا چاہیے۔ پی ٹی آئی جو عوام کے بہت ہمدرد کہلاتی ہے، اس کے ارکان اسمبلی مہنگائی کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں، جبکہ عمران خان کی بہنیں جو اسمبلی میں نہیں اپنے بھائی کی رہائی کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ عمران خان کی بہنوں نے بھائی کے لئے جدوجہد کرنے نئی مثال قائم کی ہے، تاہم افسوسناک پہلو یہ ہے پی ٹی آئی کے لوگ سانحہ ڈی چوک کے بعد اس قدر خوف زدہ ہیں وہ سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں، جبکہ یہی بات حکومت کے لئے خوش آئند ہے۔ عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ پی ٹی آئی کے بانی کے ساتھ ہے، لیکن وہ اپنے لیڈر کی رہائی کے لئے پولیس تشدد اور مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی جہاں اور خوبیاں ہو ں گی وہاں ان کا ایک منفی پہلو یہ ہے وہ مردم شناس نہیں ہیں۔ اگر وہ مردم شناس ہوتے وہ اقتدار میں آنے کے بعد صاف ستھرے اور کرپشن سے دور رہنے والوں کو وزارتیں دیتے۔ دراصل عمران خان کے ساتھ طالع آزمائوں کی تعداد زیادہ تھی جو مشکل گھڑی میں ساتھ چھوڑ گئے، ورنہ وہ اپنی لیڈر کے ساتھ مخلص ہوتے پریس کانفرنس نہیں کرتے۔ اگرچہ اب بھی بہت سے پریس کانفرنس کرنے والے عمران خان کی ہمدردیوں کے حصول کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں، مگر مستقبل قریب میں انہیں بانی پی ٹی آئی کا قرب حاصل ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ہم وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے بیان پر بات کر رہے تھے، حکومت کو عوام کے مسائل سے بالکل سروکار نہیں ہے، جب تک انہیں طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل رہے گی وہ اقتدار میں رہیں گے۔ بانی پی ٹی آئی جلد باز نہ ہوتا اور اقتدار سے ہٹنے کے بعد اپوزیشن میں رہتے ہوئے حکومت کو ٹف ٹائم دیتا تو حالات کچھ اور ہوتے لیکن طاقتور حلقوں سے ٹکرائو کی پالیسی پی ٹی آئی کو اقتدار سے اور دور کر دیا ہے۔ جہاں تک پی ٹی آئی کے ورکرز کی جلسے اور جلوس نکالنے کی بات ہے وہ اب کے پی کے تک محدود ہر کر رہ گئی ہے۔ شائد اسی لئے بانی پی ٹی آئی کی بہن نے بھائی کی رہائی کے لئے بیرون ملک پاکستانیوں سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔





