Column

مدرز ڈے سے چھتر ڈے تک

مدرز ڈے سے چھتر ڈے تک
صورتحال
سیدہ عنبرین
مہذب دنیا نے سال کے مختلف ایام کو مختلف رشتوں اور مختلف جذبوں سے جوڑ رکھا ہے، اس میں تعلیم، صحت، امن، محبت، دوستی کے ساتھ ساتھ ماں اور باپ کے رشتے قابل ذکر ہیں۔ ماں سے منسوب دن چڑھتے ہی سب کو اپنی اپنی ماں یاد آ جاتی ہے، جن کی مائیں اب دنیا میں نہیں رہیں انہیں ماں کی کمی زیادہ محسوس ہوتی ہے، جن کی مائیں حیات ہیں ان میں وہ بہت خوش قسمت ہیں جو ماں کی دعا لے کر گھر سے رخصت ہوتے ہیں اور جن کے واپس گھر پہنچنے تک ماں کو چین نہیں آتا۔ ماں اور باپ دونوں کی انسان کی زندگی میں بہت اہمیت ہے، کوئی کسی سے کم نہیں۔ باپ سایہ ہے تو ماں درس گاہ ہے، جسے یہ پہلی درس گاہ میسر نہ رہے وہ دنیا بھر کی درس گاہوں کی خاک چھان لے نامکمل رہتا ہے۔ ماں بننا بہت بڑا اعزاز ہے، لیکن ماں بننے کے ساتھ ساتھ جو ذمہ داریاں ہیں وہ بھی کچھ کم نہیں، ذمہ دار مائوں کی اولاد کامیاب رہتی ہے، اور ایسے ہی کامیاب نوجوان مرد و زن ہمارے مستقبل کے وارث ہیں، نہ کہ تعلیم و تہذیب سے بے بہرہ اور وقت ضائع کرنے والی نسل ہمارے ملک کے مستقل میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے، یہ لوگ تو اپنے گھر، معاشرے اور ملک پر بوجھ ہوتے ہیں، مائوں کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ دیکھیں وہ ملک کے بوجھ میں اضافہ کر رہی ہیں یا اس کے مستقبل کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، جو مائیں اپنی اولاد کو ٹی وی، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ملازمائوں کے حوالے کر کے سمجھیں گی کہ ان کا فرض پورا ہو گیا، ان کی اولاد انہیں ایک دن انہی چیزوں کے حوالے کر کے اپنی دنیا میں مست ہو جائے گی، اسے اطمینان ہو گا کہ اس نے دنیا کی ساری سہولتیں ماں کیلئے مہیا کر دی ہیں، وہ ان کے سہارے باقی سانس با آسانی پورے کر سکتی ہے۔ مائوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنی اولاد کو مشینوں اور ٹیکنالوجی کے حوالے کر کے اپنے فرض سے غفلت نہ کریں۔
ہماری سوچ اور عقیدے کے مطابق ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی ہے، لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روز محشر ماں سے سوال نہ کیا جائے کہ جنت کو آباد کرنے میں اس نے کس قسم کی نسل تیار کی ہے۔
ماں بننے سے پہلے سو مرتبہ سوچ لیں کہ آپ ماں بننے کیلئے اور ماں کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہیں یا نہیں، چار بچوں کی ماں بن جانے، پھر انہیں قتل کر کے آشنا کے ساتھ فرار ہونے والی بھی ماں ہی کہلاتی ہے، کیا اس کے قدموں تلے بھی جنت ہو گی؟۔ کوئی کسی کو فرار ہونے سے نہیں روک سکتا، لیکن بے گناہ بچوں کو قتل ہونے سے بچایا جا سکتا ہے، جو مائیں بچے پیدا کرنے کے بعد بھی مطمئن نہیں اور آشنا کے ساتھ بھاگ جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں، ان سے گزارش ہے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے گلے نہ گھونٹیں، بلکہ اپنے ہاتھوں سے یہ بچے ان کی گود میں ڈال دیں جو اولاد کو ترس رہے ہیں، جن میں اس قدر حوصلہ نہیں وہ اپنے بچے ایسے اداروں کے حوالے کر دیں جو مقدور بھر انسانیت اور لاوارث بچوں کی خدمت اور پرورش کر رہے ہیں، اس حوالے سے ’’ ایدھی‘‘ ایک معتبر نام ہے، جہاں لائے گئے بچے اب خود کئی بچوں کے ماں باپ بن چکے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک صاحب ہیں، جن کا اسم گرامی زمرد خان ہے، وہ بھی ایسا ہی ایک ادارہ چلا رہے ہیں، انہیں یہ نیک کام شروع کئے کئی دہائیاں ہو چکی ہیں، وہ ایک نیک نام شخصیت ہیں، ان کے ادارے میں پرورش پانے والے اور تعلیم حاصل کرنے والے بچے آج معاشرے کے فعال شہری بن کر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جناب زمرد خان نے ایک مرتبہ اسلام آباد کو آزاد کرانے کی کوشش کی تھی۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ ایک فاتر العقل شخص ہاتھ میں کلاشنکوف لے کر اسلام آباد کی ایک معروف شاہراہ پر اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر آ گیا، اس نے شاہراہ بند کر دی، اور کئی گھنٹے تک گن پوائنٹ پر اسلام آباد کو یرغمال بنائے رکھا، کئی گھنٹے گزر گئے، وہ شخص اسلام آباد کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا، ایسے کڑے وقت میں جناب زمرد خان نے اس مسلح شخص سے کلاشنکوف چھیننے کی کوشش کی، وہ اسلام آباد کو تو آزاد نہ کرا سکے، لیکن انہوں نے بلامبالغہ سیکڑوں نہیں ہزاروں بچوں کو غربت اور بے راہ روی کی بھٹی سے آزاد کرایا۔ ایسی ہی ایک شخصیت میاں اکبر رشید صاحب ہیں، جو لاہور میں ایسا ہی ایک بے مثل ادارہ چلا رہے ہیں، ’’ ریمپ‘‘ کے نام سے چلنے والے اس ادارے میں وہ لائے گئے بچوں کو خوراک، رہائش، لباس، تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تربیت بھی مہیا کرتے ہیں، ادارے کی عمارت کئی کنال پر پھیلی ہے، اس پر رہائشی بلاک اور تعلیمی بلاک ہیں، جہاں تعلیم کے ساتھ جسمانی نشوو نما پر خاص توجہ دی جاتی ہے، ادارے میں موجود اساتذہ اور بچوں سے ملیں تو یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ماحول میں دین اسلام اور پاکستانیت نظر آتی ہے، تمام بچے میاں اکبر رشید صاحب کو ’’ ابو جان‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، جبکہ جواب میں انہیں باپ کی شفقت ملتی ہے۔ بچوں کی نگہداشت کیلئے اس ادارے میں ’’ مدرز‘‘ موجود ہیں، ہر ایک ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آٹھ بچوں کا ہمہ وقت خیال رکھے۔ ’’ مدرز‘‘ کے طور پر کام کرنے والی خواتین کو رہائش و خوراک کے ساتھ معقول تنخواہ دی جاتی ہے۔ تمام خواتین و مرد حضرات ایک مشنری جذبے سے کام کرتے نظر آتے ہیں۔ ادارہ بچوں کو سکول لانے، لے جانے کیلئے اپنی گاڑیاں استعمال کرتا ہے، اس طرح یہاں قیام پذیر بچے اپنی ضروریات کے حوالے خود کفیل ہیں۔ جناب اکبر رشید صاحب کے ادارے کو کسی صوبائی یا مرکزی حکومت سے کوئی گرانٹ نہیں ملتی، وہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اس ادارے کو کامیابی سے چلا رہے ہیں، یہ ادارے حکومت کی توجہ کے طالب ہیں۔
مائیں اگر اپنے خداداد کردار پر توجہ دیں تو وہ ملک کی ایسی عظیم خدمت انجام دے سکتی ہیں جس کیلئے اسے بلند مقام دیا گیا ہے، اور اس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے، ورنہ ماں تو جناب ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی تھی، جو اسے جیفرے ایپسٹین کے ’’ سکول‘‘ میں بھیج کر مطمئن ہو گئی، اس نے کبھی تصور نہ کیا ہو گا کہ اس کا بیٹا عمل زندگی میں انسانوں کو کس طرح تباہ کرے گا۔ ماں تو نیتن یاہو کی بھی تھی، اس کے وہم و گمان میں نہ ہو گا کہ اس کا بیٹا زمین پر دجال کا سا کردار ادا کرے گا۔
’’ مدرز ڈے‘‘ کے مثبت پہلو ہیں، مائوں کیلئے ضروری ہے بچوں پر نظر رکھیں، اور سوال کرتی رہیں کہاں سے آئے ہو، کہاں جا رہے ہو، کہاں غائب رہتے ہو، کیا کما رہے ہو اور کہاں سے لوٹ کر لا رہے ہو، کس کو اجاڑ رہے ہو؟۔ مدرز ڈے کے علاوہ ایک ’’ چھتر ڈے‘‘ بھی ہونا چاہئے تاکہ اگر مائیں اپنے بچوں سے یہ سوال نہ پوچھ سکیں تو قوم ایسے بچوں کو چھتر مار کر حساب لے سکے۔

جواب دیں

Back to top button