Editorial

تلخیاں کم ، سمت درست کرنیکی ضرورت

وطن عزیز حالیہ دنوں میں معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے، معاشی بحران سے نکلنے کے لیے موجودہ اتحادی حکومت تو اپنے طور پر کوششیں کرہی رہی ہے لیکن سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ملک کو معاشی بحران سے جلد ازجلد نکالنے کے لیے جو کاوشیں کررہے ہیں وہ پوری قوم کے سامنے ہیں۔ چند روز قبل ہی جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے رابطہ کیا اور دوست ملکوں سے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گفتگو کی اور ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ اس رابطے کے نتیجے میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے حوالے سے جلد اچھی خبر متوقع ہے۔اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ سے پاکستان کے لیے قرض کی رقم جلد جاری کرنے کے لیے آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی۔ آئی ایم ایف نے13جولائی کو قرض کے لیے پاکستان کو اسٹاف لیول کی منظوری دے دی تھی لیکن یہ لین دین پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے 6 بلین ڈالر کے توسیعی فنڈ کی سہولت کا حصہ ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے متعلق ہی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاملات اگست کے شروع میں حل ہو جائیں گے اور ہم ڈیفالٹ سے بچ چکے ہیں لیکن ابھی بھی چوکنا رہنا ہو گا۔موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کے لیے جو بہتر فیصلے سمجھے وہ کئے اور آئی ایم ایف کے تمام تقاضے بھی پورے کئے جن کو پورا کرنے کے لیے زوردیا جارہا تھا یہ تقاضے پورے ہونے کے بعد بجلی اور پٹرول عام پاکستانیوں کےلیے ناقابل حد تک برداشت ہوچکے ہیں مگر پھر بھی زندہ رہنے کے لیے ان کی ضرورت تو ہے اور پھر ان اضافوں کے نتیجے میں ملک میں جس قدر مہنگائی بڑھ چکی ہے وہ بھی ناقابل برداشت ہے مگر زندہ رہنے کے لیے یہ ضروریات تو بہرصورت پوری کرنا ہی ہیں اس لیے حکومت معاشی بحران سے ملک کو نکالنے کے لیے اپنی جگہ ٹھیک ہے اور حکومت سے بوجھ عوام پر منتقل ہونے پر کم وسائل اور غریب پاکستانیوں کا واویلا بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ مگر کیا عام استعمال کی اشیا اور اشیا خورونوش کبھی چھ ماہ پہلے کے نرخوں پر ملیں گی یا پٹرول اور بجلی اتنے سستے ہوجائیں گے ؟ تو اس کا جواب ’’نہیں‘‘ کے سوا کچھ نہیں، جب عالمی منڈیوں اور عوام کے درمیان سے حکومت نکل چکی ہے تو اب عوام پاکستان عالمی منڈی کے نرخوں اور اس کا فیصلہ کرنے والوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ معاشی بحران کے بعد سیاسی بحران پر بات کی جائے تو سیاسی و نظریاتی اختلافات آج اس شدت تک پہنچ چکے ہیں کہ اِن کے سامنے معاشی بحران بہت چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔ رواں سال مرکز اور پھر پنجاب میں حکومتوں کی تبدیلی کے بعدحزب اقتدار اور حزب اختلاف بند گلی کی دیوار سے جالگے ہیں اور اب ماسوائے واپس مڑنے کے کوئی راستہ نظر نہیں آتا، دونوں جانب سے جو جو بیانیہ اختیارکیا جارہا ہے وہ عامۃ الناس کے سامنے ہے، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے باہمی اختلافات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ اب بات دونوں کے بس سے باہر نکلی ہوئی نظر آتی ہے،

دونوں کے معاملات دونوں تک محدود رہیں تو بھی نہ چاہتے ہوئے برداشت کرلیا جائے مگر افسوس اب ریاست کے اُن اہم
اداروں کو باہمی لڑائی میں بے دردی سے کھینچا جارہا ہے، محبت اور جنگ میں سب جائز کی اصطلاح اب سیاست میں بھی عام نظرآتی ہے کہ مِیٹھا مِیٹھا ہَپ ہَپ کَڑوا کَڑوا تُھو تُھو، یعنی جب ادارے اپنے حق میں فیصلہ دیں تو مِیٹھا مِیٹھا ہَپ ہَپ مگر جب اپنی منشا کے خلاف کوئی چیز آئے تو کَڑوا کَڑوا تُھو تُھو۔ یہ انتہائی نامناسب اور افسوس ناک رویہ ہے مگر بدقسمتی سے سیاست میں یہ رویہ کئی دہائیوں سے محسوس بھی ہوتا ہے اور نظر بھی آتا ہے خصوصاً انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایسا رویہ اختیار کرنا تو جیسے جمہوریت کا حسن یا روایت بن چکا ہے، جیتنے والا اپنی جیت پر شاکی ہوتا ہے تو ہارنے والا اپنی شکست کا الزام ریاستی اداروں پر لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتا ہے، آج ملکی سیاست میں شاید کوئی ایسی جماعت ہو جو اپنی شکست کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے ریاستی اداروں کو اپنی شکست کا ذمہ دار نہ ٹھہرائے وگرنہ کئی دہائیوں سے ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ جیتنے والا بھی اپنی جیت پر مطمئن نہیں ہوتا اور ہارنے والے کے پاس تو ریاستی اداروں کو اپنی شکست کا ذمہ دار ٹھہرانے کا آپشن ہی استعمال کرتا ہے۔ ہماری بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم جس جانب دیکھیں وہیں اصلاحات کی ضرورت نظر آتی ہے مگر کرے تو کرے کون؟ وہی کریں جو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں؟ وہی جو ایک دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کرتے؟ وہی جو اپنی جیت کو مینڈیٹ اور ہار کو ریاست کے اہم اداروں پر ڈال دیتے ہیں اور پھر جوش خطابت میں ایسی ایسی باتیں بول جاتے ہیں جو بالغ نظری کے برعکس ہوتی ہیں اور یہ سب کچھ اُس دور میں ہورہا ہے جس دور کو ففتھ جنریشن وار کا دور کہاجاتا ہے اور صرف گولہ بارود کی جگہ نظریات بدل کر قوموں کو اور سلامتی کے اہم اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے۔

انتہائی افسوس کہ جو سیاست دان اپنے آپ کو سیاست کاناقابل شکست کھلاڑی سمجھتے ہیں ان کی زبان سے بھی قومی سلامتی کے ادارے محفوظ نہیں رہے۔ آج کے ملکی حالات انتہائی حساس نہج پر ہیں مگر کوئی بھی ایک قدم پیچھے ہٹانے کو تیار نہیں بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے سوشل میڈیا یعنی ففتھ جنریشن وار چھیڑ رکھی ہے جس کی تباہی کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ ایک دوسرے کو زیر کرنے کی خواہش نے قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ اور قربانیوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اورشاید آئندہ بھی نہ ملے۔ جو ہماری حفاظت کرتے ہیں اُن کی عزت و تکریم کی حفاظت کی ذمہ داری ہم پر فرض ہے مگر کیا کہا جائے کوئی بھی حالات کا ادراک نہیں کررہا، عوام بدترین معاشی حالات میں کس طرح ایک ایک دن زندگی گزار رہے ہیں جس طرح سیاست دانوں کو زبانی جمع خرچ کے سوا کوئی ادراک نہیں بالکل اسی طرح اقتدار میں رہنے یا اقتدار میں آنے کی حکمت کا تو پتا ہے مگر اس کے لیے کیا کیا ناقابل تلافی نقصان کیا جارہا ہے جانتے تو سبھی ہیں مگر اعتراف اور ادراک کوئی نہیں کرتا۔ اِس لیے ہم سیاسی قیادت سے ملتمس ہیں کہ خدارا بند گلی سے باہر نکل آئیں ملک و قوم اور قومی سلامتی کے اداروں کی جانب توجہ کریں، عوام اپنی جگہ پریشان اور قائد اعظم کی قوم اب منتشر ہے اس کو متحد کریں اور اقوام عالم بالخصوص مسلمہ اُمہ میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کریں وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button