ColumnNasir Naqvi

حسینؓ سب کا ۔۔ ناصر نقوی

ناصر نقوی

 

1444ہجری کا آغاز ہو چکا ہے، شہادتوں کے اس مہینے کی آمد پر بچپن سے پچپن تک یہی بحث سنتے آئے ہیں کہ کربلا کی تپتی ریت پر اپنی اور اپنے رفقاء کی قربانی دینے والا آقائے دوجہاں کا نواسہ کیا خاص مذہب و مسلک کا ہے یا پھر سب کا ہے؟ اسلامی مہینے کے آغاز پر چاند دیکھنے پر عالم اسلام سوگوار اور پریشان ہوتا اس لیے نظر آتا ہے کہ ایک جانب صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ عزا خانے علم عباس علمدار سے سج جاتے ہیں بلکہ محسوس کریں تو فضاء میں ہائے حسینؓ،ہائے سکینہ، ہائے پیاس، کی آواز سنائی دیتی ہے، لیکن تکرار اور بحث و مباحثہ اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے علماء اور ذاکرین نے جوش خطابت میں امام حسینؓ کو متنازعہ بنا دیا ہے جو بلا امتیاز سب کے ہیں،

کون حسینؓ؟ نواسہ رسولؐ ، جگر گوش بتول، شیر خدا ،فاتح خیبر کا بیٹا جس نے دین اسلام کی سربلندی اور قرآن و سنت کی بقا کے لیے اپنا چھ ماہ کا علی اصغرؓ بھی قربان کر کے بقائے دین کے لیے وہ کچھ کردیا کہ نبی بنے، امام بنے، ولی بنے، کسی میں دوسرا حسینؓ بننے کی جرأت نہ ہوئی،

اگر تاریخ پر غیر جانبدارانہ نظریں دوڑائی جائیں تو تمام راز عیاں ہو جائیں گے کہ بچپن سے جوانی تک جس انداز میں آپؓکو پالا گیا، ناز نخرے اٹھائے گئے، ویسا کوئی دوسرا نہیں ملے گا۔ باپ شیر خدا، داماد رسولؐ، ماں طاہرہ اور صاحبزادی رسولؐ، ناناسرور کونین محبوب خدا،دادا سرپرست رسولؐ خدا، عرب کا نامی گرامی سردار، ذرا سوچیں؟ ہے کوئی دوسرا حسینؓ جیسا، دوش رسالت کا سوار، جس کے درزی رضوان جنت، جسے محبوب خدا ﷺ جنت کے جوانوں کا سردار قرار دے، حسینؓ کی والدہ عورتوں کی سردار، والد باب العلم پھر بھی اسے ایک فاسق و فاجر، بدچلن اور بددماغ دنیاوی شہزادے سے ملا کر یہ کہا جائے کہ ’’معرکہ کربلا‘‘ حق باطل کی نہیں، دو شہزادوں کی جنگ تھی؟

اگر حکومت کے تمنائی نواسہ رسولؐ بھی ہوتے تو جنگ میں کبھی بھی عورتوں اور بچوں کو نہ لے کر جاتے، ان کا مقصد تو صرف اور صرف دین حق
اور کلمہ طیبہ کی سربلندی تھا۔ کائنات کے حقیقی وارث بلکہ مقصد کائنات حضورؐ اکرم آقائے دوجہاں نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا تھا’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘،۔ دنیا والوں کو اس حدیث پاک کا مطلب سمجھ نہیں آیا، برسوں اس بحث میں ضائع کر دئیے کہ حسینؓ تو نواسہ رسولؐ ہیں، سب جانتے ہیں، سب مانتے ہیں لیکن بھلا حضور اکرم ہادی برحق حسینؓ سے کیسے ہو گئے؟ بس یہی مقصد سمجھانے کیلئے امام حسینؓ نے حاکم وقت یزید بن معاویہ کو چیلنج کیا، وہ امامت کی اس منزل پر فائز اور جانتے تھے اگر یزید کے بیعت کی حکم عدولی کی تو انجام کیا ہو گا۔ انہیں پتہ تھا کہ اگر رسولؐ کے گھرانے والے یزید جیسے منکر مسجد و منبر کی مخالفت کریں گے تو یزید اپنے اقتدار کے نشے میں آخری حد تک بڑھ جائے گا۔

انہیں یہ بھی علم تھا کہ اگر وہ ثابت قدم نہ رہے تو یزید دین حق کو اللہ اور رسولؐ کے فرمان کے مطابق نہیں، اپنی من مرضی میں تبدیل کر کے خلاف اسلام معاملات کو جائز قرار دے گا۔ لہٰذا نانا کے دین کو بچانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ثابت قدمی اور صبر و تحمل کا دامن مضبوطی سے تھام کر قرآن و سنت کا راستہ اختیار کریں۔ کچھ لوگوں کا آج کے جدید دور میں بھی یہ خیال ہے کہ جب حکومت وقت کی سب بیعت کر رہے تھے تو امام حسین ؓ نے بیعت کیوں نہیں کی؟ لیکن حضرت مولاناابو الا علی مودوی کہتے ہیں کہ یہ سوال غلط ہے کہ امام حسینؓ نے سب کے بیعت کرنے کے باوجود کیوں نہیں کی؟

حقیقی سوال یہ ہے کہ جب امام حسینؓ نواسہ رسولؐ نے بیعت نہیں کی تو سب نے بیعت کیوں کی؟ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور تخت نشینی سے جو خرابی رونما ہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور اور اس کے حقیقی مقصد سے محض متصادم نہیں، بالکل خلاف تھیں۔ یزید حلال کو حرام ہی نہیں، حرام کو حلال قرار دے کر اسلامی شعار کی کھلم کھلا نفی کر رہا تھا۔ اگر امام حسینؓ اور ان کے جانثار کربلا میں بھاری بھرکم لشکر سے گھبرا کر مصلحت پسندی اختیار کر لیتے تو آج نماز، روزہ اور توحیدالٰہی سب کچھ ؟ وہ محبوب خداﷺ کے نواسے اور شیر خداؓکے بیٹے تھے۔انہیں صرف ایک مقصد حاصل کرنا تھا کہ اللہ کی توحید اور اس کے محبوبؐ کا دین اس طرح بچ جائے جس طرح قرآن و سنت کے احکامات ہیں۔ اس دور میں عدل پر ظلم و ستم کا قبضہ تھا۔ پرہیز گاری اور متقی لوگوں کی بجائے عیش و عشرت اور راگ رنگ کے رسیا لوگوں کا حکم چلتا تھا۔ سیاست بھی اخلاق و کردار کے مقابلے میں جھوٹ فریب اور تضاد بیانی کا شاہکار بن چکی تھی۔ ایسے میں امام حسینؓ مدینے سے حج کیلئے نکلے لیکن جب کعبہ میں دشمنوں کے تیور بدلے بدلے دیکھے تو حج کو عمرے میں تبدیل کر کے جلد از جلد کعبے سے اس لیے نکل گئے کہ مقام مقدس پر کسی بھی سازش کے تحت خاندان رسالت اور ان کے رفقا کا خون نہ بہایا جائے۔ ان کی قربانی اور فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقصد سربلندی اسلام کو جان سے عزیز رکھتے تھے کیونکہ حکومت یا تخت اقتدار کیلئے لڑنا مرنا ہرگز ان کا مسلک نہیں تھا۔ کوئی بھی شخص جو گھرانہ رسولؐ و فاطمہ کی عظمت سے واقف ہے وہ ذرا برابر بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ خلق خدا کے لیے رحمت بننے والے کبھی حصول اقتدار کے لیے زحمت بھی بن سکتے ہیں پھر بھی چند گروہ آج بھی دین حق اور کلمہ طیبہ کی سربلندی کی معرکہ آرائی کو دو شہزادوں کی لڑائی کہہ کر تاریخی حقائق مسخ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

تاریخ اسلام میں اسلامی عقائد کی بقاء کی اس سے بڑی جنگ کوئی دوسری نہیں، امام مظلوم کربلا نے کلمہ حق کیلئے پورا کنبہ لٹا کر دین حق کو سربلند کیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ صرف 72نفوس حق نے جس طرح بھاری بھرکم حکومتی لشکر کا تین روزہ بھوک پیاس میں مقابلہ کر کے اپنی جانیں قربان کر دیں، کوئی دوسری مثال ایسی نہیں، اس لیے کہ مقصد امام حسینؓ صرف یہی تھا کہ آقائے دوجہاں کی دی ہوئی قرآن و سنت، ایسے بچے کہ رہتی دنیا تک توحید خدا کے پروانے دکھائی دیں پھر سب نے دیکھا اور آج تک دیکھ رہے ہیں کہ طاقت اور اپنی من مانی کا خواہش مندیزید ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کے بعد بھی مر گیا اور حسینؓ آج بھی زندہ ہے، گلی گلی شہر شہر یاحسینؓ یا حسینؓ کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں بلکہ تاقیامت یہ منظر نظر آتا رہے گا۔اسی لیے خواجہ معین چشتیؒ فرماتے ہیں:

شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ
سرداد نداددست بردست یزید
حقا کہ بنائے لاالہ است حسینؓ

روحانی شخصیت واصف علی واصف کہتے ہیں:
حسین مثبت، حسین کامل، حسین داخل، حسین عاقل
یزید منفی، یزید ناقص، یزید خارج، یزید باطل
یہی کرشمہ ہے سچ کا واصف، یہی کرامت ہے کربلا کی
شہید کر کے یزید فانی، شہید ہو کر حسینؓ باقی
دنیا میں آقائے دو جہاںﷺ کی بعثت سے پہلے اور بعد میں بے شمار شہادتیں ہوئیں لیکن کسی شہادت کو وہ مقام اور دوام نہیں مل سکاجو امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کو ملا۔ انہوںنے مقصد حیات کو صرف اور صرف مقصد الٰہی کی امانت سمجھتے ہوئے قربان کر دیا اور اس عظیم مقصد کی راہ میں بھوک پیاس، قید و بندکی صعوبتیں رکاوٹ نہیں بن سکیں۔ ’’معرکہ کربلا،، میں شہادتوں کے بعد خواتین اور بچوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اس کی مثال بھی پوری تاریخ اسلام میں کہیں نہیں ملتی۔ فلسفۂ شہادت امام حسینؓپرکھیں تو شہادت، پیغام سیرت مصطفیٰ ﷺکا ایک درخشاں باب دکھائی دے گا۔ پھر بھی امام حسینؓ اور معرکہ کربلا کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جائے تو یقیناً یہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑائی کے متراد ف ہو گا۔ تاریخ اسلام کی اس منفرد قربانی نے امام حسینؓ کو ہر لحاظ سے منفرد بنا دیا۔ اسلامی سال کے پہلے مہینے کا پہلا عشرہ روایتی انداز میں اسی لیے منایا جاتا ہے کہ حسینؓ کسی ایک مذہب و مسلک کا نہیں،یہ ایسی داستان ہے جس میں مظلومیت میں بھی صبر و استقامت بازی جیت گئی، لہٰذا اسے اگر مشیر کاظمی کی زبان میں کہاجائے تو اس طرح ہو گا:
حسینؓ تیرا، حسینؓ میرا، حسینؓ اْن کا، حسینؓ اِن کا
حسین جگ کا، حسین رب کا، حسین سب کا
وہ خشکیوں کا، سمندروں کا، وہ صوفیوں کا، قلندروں کا
حسین گر نہ شہید ہوتا تو آج گھر گھر یزید ہوتا
نبیؐ کی سنت عیاںنہ ہوتی، خدا کے گھر میں اذاں نہ ہوتی
عشرہ محرم الحرام میں مجالس عزا، امام حسینؓ کانفرنس، جلوس عزا و ماتم داری غرضیکہ برصغیر میں مختلف اور روایتی انداز میں غم حسینؓ منایا جاتا ہے پھر بھی مخالفین اپنی رائے رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ چودہ سو سال گزر گئے مخالفت بھی ہوئی اور ذکر بھی، یہ اسلام کی سربلندی اور بقاء کی جنگ تھی۔ امام حسینؓ نے دین کی حرمت کی خاطر ایسی قربانیاں دیں کہ انہیں کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ
ہر زمانہ میرے حسینؓ کا ہے
حق نبھانا میرے حسینؓ کا ہے
جن پہ خالق درود پڑھتا ہے
وہ گھرانا میرے حسینؓ کا ہے
جن کی خاطر یہ کائنات بنی
ایسا نانا میرے حسینؓ کا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button