CM RizwanColumn

کربلا، علم اور جہالت کا معرکہ ۔۔ سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

 

تاریخ اسلام کے اہم اور محیر العقول واقعہ سانحہ کربلا سے سرسری طور پر ہر ذی شعور مسلمان واقف ہے۔ سانحہ کربلا کو بالعموم مذہبی اور سیاسی پس منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ قدرے معمول اور سطحیت پسندی کی بات ہے کہ رحمت اللعالمینﷺ کے علمی اخلاقی اور روحانی ورثا یعنی امام حسینؓاور ان کے اصحاب کی عظیم ترین قربانی کو محض ان دو یعنی سیاسی اور مذہبی حوالوں سے ہی جانا اور بیان کیا جائے مگر دیگر پہلو نظر انداز کر دیئے جائیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ رحمت اللعالمینﷺ نے اپنی ذاتِ اقدس کو علم کا شہر اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو شہرِ علم کے دروازے کا مرتبہ عطا فرمایا۔ تو پھر کیا یہ سوال اٹھانا جائز نہیں کہ اس سلسلہ علم کے وارث کو اس علمی سرمایہ کی وراثت سے کیوں محروم رکھا جائے۔ راقم کو اس منفرد علمی نقطے کا اعتراف اور انکشاف اپنے ایک دوست عمران محبوب یوسف زئی جو کہ ماہر علوم سماجیات اور فروغ علم کے لیے کوشاں ہیں اور ساتھ ہی تشریف فرما ملک اشتیاق جیسے علم دوست صنعت کار سے غیررسمی گفتگو کے دوران ہوا۔ جب کافی پیتے ہوئے دوران بحث یہ سوال اٹھا کہ کیا وارثان نبی ﷺ کا تاریخ میں بس اتنا کردار تھا کہ واقعہ کربلا ہو اور حسینؓ شہید ہوں اور بس؟یقیناً جواب نفی میں ہے اور یہ الگ بات ہے کہ واقعہ کربلا کو محض سیاسی اور مذہبی حوالوں تک محدود کر دیا گیا ہے لیکن کیا وارثِ علم حضرت حسینؓ نے، اپنے نانا نبی ﷺ جو شہر علم قرار پائے اور معلم مبعوث ہوئے، ان سے کچھ علم حاصل نہیں کیا ہو گا، جو کہ وہ اپنے ناناﷺ کی اُمت کوآگے پہنچا کرخود کو قابل وارثِ علم ثابت کرتے؟ یقیناً حاصل کیا کیونکہ وہ وارث ہی کیا جو ورثہ کی ترسیل نہ کرے اور وہ علم ہی کیا جو ختم ہو جائے۔ لہٰذا امام حسینؓ کو محض کربلا تک محدود کر
دینے کا مطلب عظیم ورثہ علم سے محرومی ہوگااور اس کا نتیجہ تو پھر یہی ہوگا کہ اس قدر لاپرواہی اور نااہلی کے باعث ہم نہ مسلمان بن سکیں گے نہ ہمارا دین مکمل ہوگا اور نہ ہی دنیا کو اس طرح حاصل کر سکیں گے جو کہ منشائے ایزدی ہے۔ کربلا اور فلسفہ امام حسینؓ کو محض روایتی پہلوئوں تک محدود کرنے کی بجائے وسیع پس منظر میں پرکھا جائے اور اس کے نتائج کی روشنی میں امتِ مسلمہ کے مسائل سے آگاہی حاصل کر کے، ان کے حل کے لیے تدبیر کیا جائے اور اس سوال کا جواب ڈھونڈا جائے کہ اگر ہم حق پر ہیں تو کس حد تک حق پر ہیں اور حق کے حصول کے لیے کیا کیا قربانی دے سکتے ہیں۔
معرکہ حق و باطل آج کی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ نزع ازل سے ہے۔ واقعہ کربلا اصل میں یہ بھی سوال کرتا ہے کہ اگر آپ حق پر ہوں تو اس نہج پر آپ کی آخری حد کیا ہو گی، اس آخری حد کے لیے کیا کیا کیسے کیسے اور کب کب قربان کرنا ہو گا۔ پھر یہ کہ کون کون سے ہتھیاروں سے لیس ہونا پڑے گا اور اپنے دور کے یزید کو کس شعبہ یا کس عرصہ میں شکست فاش سے دوچار کرنا ہوگا۔ اگر یہ طے پا چکا ہے کہ حسینیت اور یزیدیت بنیادی طور پر دو نظریات کا نام ہے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ معرکہ کربلا میں ایک طرف تو شہر علم ﷺ اور دروازہء شہر علم کرم اللہ وجہہ الکریم کا وارث یعنی حسینؓ ہیں جو کہ نانا اور بابا دونوں ہستیوں کے علم کے وارث ہیں تو دُوسری طرف دنیا و مال کی طلب، جاہ و حشم اور اختیار واقتدار کی ہوس کا مجسمہ یعنی یزید دنیاوی طاقت و تصرف کے ساتھ ظلم کی آخری حدوں کو بھی پار کر لینے کے در پے ہے۔ ظاہری اور معنوی دونوں لحاظ سے کربلا کے ریگزار پر دو نظریات، دوطاقتیں،دو تصورات اور دو شعبہ ہائے حیات باہم برسرپیکار تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل ازل سے جاری ہے۔ جب خداوند قدیم نے آدم کو خلق کیا تو ابلیس، اپنے وقت اور ساخت کے زاہد عابد کو حکم دیا کہ اس کو سجدہ کرو اس نے سطحی دلائل دے کر سجدے سے انکار کر دیا تو تاحشر راندہ درگاہ اور ملعون ہوگیا۔ وہاں بھی علم اور جہالت کا تقابل اور موازنہ تھا۔ خالق کائنات کا حکم تھا کہ جو میں جانتا ہوں ابلیس کو علم نہیں لہٰذا اس نے میری حکم عدولی کر کے جہالت کا مظاہرہ کیا اور لعنت کا سزاوار قرار پایا ہے۔ پھر آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے مابین بھی علم اور جہالت کا تقابل ہوا، قابیل جہالت اور طاقت کے استعمال سے باز نہ آیا اور دنیا کا پہلا مجرم اور قاتل قرار پایا جبکہ ہابیل نے علم اور شرافت پر قناعت کر کے قتل ہو کر بھی ازلی و اخروی سعادت اور خوش بختی حاصل کی۔ اسی طرح ابراہیم اور نمرود، موسیٰ اور فرعون، حتیٰ کہ حق اور باطل کے مابین جہاں بھی معرکہ ہوا دراصل یہ علم اور جہالت کے معرکے تھے۔ اپنے اپنے وقت میں یہ معرکے گوکہ فوری نتائج ظاہر نہ کرپائے لیکن بعد کے زمانوں اور حقیقت کے آئینہ خانوں میں یہ حق کی فتح یابی اور باطل کی ناکامی کا ثبوت بن کر انسانیت کے دروس عظیم بن کر سامنے آئے۔
کربلا میں امام حسینؓ کے ذمہ جو علمی کام تھا وہ یہ تھا کہ لفظ’’حق،،کی معرفت و حکمت سمجھانا، اہلِ راہِ حق کے لیے نمونہ پیش کرنا، قربانیاں دے کر اپنے موقف پر ڈٹ جانے کا درس دینا، یہ حسینؓ کا عِلمی کام اور واقعہ کربلا کا عِلمی پہلو ہے۔میدان کربلا میں علم اور جہالت کے تقابل کے لیے حضرت امام حسینؓ کا دشمن کی فوجوں سے وہ آخری خطبہ ایک واضح دلیل اور پیمانے کے طور پر پرکھا جانا قرین قیاس ہے۔ جس میں آپؓ نے ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! میری بات سنو، جلدی نہ کرو۔ مجھے نصیحت کر لینے دو، اپنی آمد کی وجہ بیان کر لینے دو، اگر میرا عذر معقول ہو اور تم اسے قبول کر سکو تو یہ تمہارے لیے خوش نصیبی کا باعث ہو گا اور تم میری مخالفت سے باز آ جاؤ گے، لیکن اگر یہ سننے کے بعد بھی تم میرا عذر قبول نہ کرو اور انصاف کرنے سے انکار کر دو تو پھر مجھے کسی بات سے بھی انکار نہیں ہے۔ تم اور تمہارے ساتھی ایکا کر لو، مجھ پر ٹوٹ پڑو، مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو، میرا اعتماد ہر حال میں صرف پروردگار عالم پر ہے۔ لوگو! میرا حسب نسب یاد کرو، سوچو، میَں کون ہوں؟ پھر اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے ضمیروں کا محاسبہ کرو، خوب غور کرو، کیا تمہارے لیے میرا قتل کرنا اور میری حرمت کا رشتہ توڑنا روا ہے؟ کیا میَں تمہارے نبی کی بیٹی کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا حضرت حمزہؓ میرے باپ کے چچا نہیں تھے؟ کیا ذوالجناحین جعفرؓ میرے چچا نہیں تھے؟ کیا تم نے رسول اللہ ؐ کا یہ فرمان نہیں سنا جو آپ ؐ میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ’’یہ جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں،،۔ اگر میری باتیں سچی ہیں اور ضرور سچی ہیں کیونکہ واللہ میَں نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے اب تک کبھی جھوٹ نہیں بولا، تو بتاؤ کیا تمہیں تلواروں سے میرا استقبال کرنا چاہئے؟ اگر تم میری بات کا یقین نہیں کرتے تو تم برہنہ تصدیق کر سکتے ہو، جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے پوچھو، زید بن ارقمؓسے پوچھو، انس بن مالکؓ سے پوچھو، ابو سعید خدریؓ سے پوچھو، وہ تمہیں بتائیں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی(حضرت حسنؓ) کے بارے میں رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے یا نہیں؟ کیا یہ بات بھی تمہیں میرا خون بہانے سے نہیں روک سکتی؟واللہ؟ اس وقت بجز میرے روئے زمین پر کسی نبی کی صاحبزادی کا بیٹا موجود نہیں۔ میَں تمہارے نبی کا نواسہ ہوں،،۔

اس خطبہ میں امام عالی مقام نے اپنے تمام تر دعووں سوالات اور استغاثہ جات کی بنیاد علم کو ہی رکھا ہے کہ اگر آپ سب کو میری قدر ومنزلت کا علم ہے اور پھر بھی تم میرے اور اہل وعیال اور اصحاب کی جانیں لینے پر تلے ہوئے ہو تو یہ سراسر جہالت ہوگی، چاہے اس جہالت کے پیچھے انعام واکرام اور دولت و اقتدار کی ہوس ہی کار فرما ہو۔

یہی ہمارا آج کا استدلال ہے کہ یزید اور اس کی افواج کے کمانڈروں نے اس امر کا بخوبی اندازہ ہونے کے باوجود امام عالی مقام کو ظلم اور جبر کے ساتھ شہید کر دیا کہ وہ اس دور کی سب سے پاکیزہ اور مقدس ہستی تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button