Editorial

درس ِ کربلا

 

آج یوم عاشورہے، مسلم امہ آج نواسہ ٔرسولﷺ ،حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کے مکہ مکرمہ سے میدان کربلا تک کا سفر، کربلا میں گزرے ایام، یوم عاشور کو پیش آنے والے واقعات بالخصوص خانوادہ ٔ رسولﷺ ،اہلبیتؓ اور جانثاران حق کی قربانیوں کی یاد تازہ کرکے سوگوار ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے مکہ مکرمہ سے میدان کربلا اور یوم عاشور تک مختلف مقامات پر فکرانگیزخطاب فرمایا، خصوصاً شب عاشور خاندان بنی ہاشم کے افراد اور اپنے اصحاب کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا کہ ’’میں اللہ تعالی کی بہترین تعریف و ثنا کرتا ہوں اور آسائشوں اور سختیوں میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تیری حمد بجا لاتا ہوں کہ تو نے ہمارے گھرانے کو نبوت کے ذریعے شرف و احترام عنایت فرمایا اور ہمیں قرآن کی تعلیم دی، ہمیں دین کی فہم عطا کی اور ہمیں حق کو سننے والے کان، حق کو دیکھنے والی آنکھیں اور روشن و نورانی قلب عطا فرمایا اور ہمیں مشرکوں میں قرار نہیں دیا۔ اما بعد! میں نے اپنے اصحاب سے بہتر اصحاب کہیں نہیں دیکھے اور نہ کسی کے اہل خانہ اپنے اہل بیت سے بڑھ کر باوفا اور حق شناس پائے، خدا آ پ سب کو میری طرف سے جزائے خیر عنایت کرے۔حضرت امام حسینؓ نے ہر مقام پر اپنے خطاب میں حق و باطل میں فرق کو بیان فرمایا لیکن یزید کے خوف میں مبتلا لوگ خاموش اور بے جان رہے مگر جنہوں نے حق اور باطل میں فرق جانا وہ نتائج جاننے کے باوجود نواسہ ٔ رسول ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے بلکہ یوم عاشور سب سے پہلے لشکر ِ یزیدی کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اُترنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ روز محشر سرخرو ہوسکیں، اِن 72 اصحاب حسینؓ کا ساتھ چلنا اور بوقت شہادت پہلے میدان میں اُترنا ثابت کرتا ہے کہ اُنہیں راہِ حق اور جہنم کے راستے کا واضح فرق معلوم تھا اسی لیے انہوں نے دین حق کے لیے سرکٹوانے کو ترجیح دی اور روز محشر تک سرخرو ہوئے مگر جو باطل کے ساتھی بنے، اُن پر نواسہ ٔ رسولﷺ کے خطبات کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور یزید کی خوشنودی کو وہ یقیناً دنیا و آخرت کی کامیابی تصور کررہے تھے، پس کربلا میں نواسہ ٔ رسول ﷺ نے ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال نہ پہلے تھی اور نہ ہی آئندہ ہوگی۔آسمان و زمین، سورج اور کربلا کی تپتی ریت نے دین حق کے ساتھ وفا کے وہ مناظر دیکھے جو پہلے کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔ آج کے دن جو جنگ ہوئی وہ حق و باطل کی جنگ تو تھی لیکن اُس میں مدمقابل ہونے والوں میں زمین و آسمان کا واضح فرق تھا، ایک طرف نواسۂ رسولﷺ، حضرت امام حسینؓجن کی تربیت
اللہ تعالیٰ کے پیارے اور آخری نبی محمد مصطفیٰ ﷺ اورداماد رسولﷺ ، شیر خدا نے فرمائی اور اور جن کی والدہ دختر رسول ﷺحضرت فاطمہ زہراؓ تھیں ، لیکن دوسری طرف یزید تھا جس کی سوچ اور نظریہ یکسر مختلف تھا۔ اِس لیے حضرت امام حسینؓ نے اپنے ناناﷺ کے دین کی بقا کے لیے قربانیاں پیش کرکے اُمت مسلمہ کے لیے واضح پیغام فرمایا کہ دین حق کی بقا کے لیے کہاں تک جانا ہے۔ حضرت امام حسینؓ ، آپؓ کے اصحاب اور اہلبیتؓ نے یزیدکا مقابلہ جس ثابت قدمی سے کیا اس کی مثال و نظیر تاریخ اسلام بلکہ انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، اسی لیے آج شہدائے کربلا کی قربانیوں کو یاد کرکے اُمت مسلمہ سوگوار ہے اور روز محشر تک خاندان ِ رسالت ﷺ کی قربانیوں کو یاد کرتی رہے گی اور ہمیشہ ہمیشہ جب بھی نواسہ ٔرسولﷺ اور اہلبیتؓ کی قربانیوں کا ذکر ہوگا اُن تمام اصحاب حسینؓ کا بھی ذکر ہوگا جنہوں نے حق و باطل کی جنگ میں حق کا راستہ منتخب کیا، سفر، بھوک و پیاس برداشت کئے فقط تیر ، و تلوار ، نیزے اور برچھی سے زخمی کھانے کے لیے، امام عالی مقام اور ان کے اصحاب نے دین حق کو بچانے کے لیے جو راستہ منتخب کیا آج تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ وہی حق اور سچ کا لیکن انتہائی مشکل راستہ تھا، نواسہ ٔ رسول ﷺ کے خاندان کے ہر فرد نے قربانی پیش کی اور ثابت قدم رہ کر امام حسینؓ کا ساتھ دیااور کربلا کو رہتی دنیا کے لیے درس گاہ بنادیا۔ سرکار دو عالم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آخری نبی بناکر بھیجااور دین کو مکمل بھی آپ ﷺ پر فرمایا، دین اسلام کی تکمیل اور نزول قرآن کے بعد جب دین کی بقا کا وقت آیا تو نواسہ ٔ رسولﷺ ،حضرت امام حسینؓ نے روز قیامت تک کے لیے دین حق کو قربانیاں پیش کرکے محفوظ کردیا اور اُمت مسلمہ کو اپنے عظیم کردار اور عظیم قربانیوں کے ذریعے سبق دیا کہ دین محمدی ﷺ کی حفاظت محض نعروں اور دعوئوں سے نہیں بلکہ اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں قربان کرکے ، دین کی حفاظت کرنی ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کا ایمان محفوظ رہ سکے۔ کربلا کے میدان میں حسینی لشکر میں شامل مٹھی بھر اصحاب شہید ہوکر بھی فتح یاب ہوئے مگر یزید کا بھاری لشکر حق اور سچ کے لیے لڑنے والوں کو شہید کرکے بھی شکست سے دوچار ہوا۔ پس اِس معرکے نے جنگ میں فتح و شکست کا پیمانہ بدل کر رکھ دیا۔ امام حسینؓ اور ان کے اصحاب شہید ہوکر بھی فاتح قرار پائے اور یزید ظلم و بربریت کے باوجود شکست سے دوچار ہوا بلکہ رہتی دنیا تک روز شکست کھاتا رہے گا۔ واقعہ کربلا سے دین حق کے لیے ثابت قدمی کے بے شمار اسباق ملتے ہیں جنہیں بطور اُمت مسلمہ ہمیں خود پر لاگو کرنا چاہیے، اگرچہ یزید اوراُس کی سوچ اپنے انجام کو پہنچ چکی مگر آج بھی دنیا بھر میں یزیدی سوچ رکھنے والوں کی کمی نہیں لیکن ان کا مقابلہ اُمت مسلمہ نے حسینی فکر و سوچ اور اُسی استقامت کے ساتھ کرنا ہے جو درس ِ کربلا ہے۔ ہمیں آج یوم عاشور پر فکر کرنی چاہیے کہ ہم نے شہدائے کربلا کی استقامت اور قربانیوں سے کیا سیکھا اور ہم کتنا اُس پر عمل کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button