ColumnImtiaz Ahmad Shad

اولاد کی تربیت .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

افراتفری کے اس دور میں والدین کی اپنی اولاد بارے فکر مزید بڑھ گئی ہے۔ہر دوسرا شخص اپنے بچوں کے آنے والے کل کی وجہ سے فکرمند نظر آتا ہے۔سوشل میڈیا کی تیزی نے اس فکر کو مزید بڑھا دیا ہے۔بہت سے دوست شکوہ کرتے ہیں کہ بچوں پر تمام جمع پونجی لگا دی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔نتائج کا تعلق تو بہرحال براہ راست انسان کی توقعات سے ہوتا ہے۔اس پر بات پھر کبھی سہی۔سب سے پہلے تو اس بات کو دیکھا جائے کہ جس بچے کے مستقبل کی فکر ہمیں کھائے جارہی ہے کیا ہم اس کے حال میں اس کو وہ وقت دے رہے ہیں جس کی اس کو سب سے زیادہ ضرورت ہے؟کیا اپنی جان سے عزیز اولاد کے ساتھ ہم اتنا وقت گزارتے ہیں جتنااپنے دوستوں کو عنایت کرتے ہیں؟یا ان کے ساتھ ہم اسی انداز سے ہنسی مذاق اور کھیل کود کرپاتے ہیںجس طرح ہم اپنے دوستوں کے ناز نخروں کو پورا کرنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں۔بچوں کی تربیت کے لیے پہلی درسگاہ ماں اور باپ ہوتے ہیںاس لیے ان دونوں کا ایک بات پر متفق ہونا ضروری ہے۔ بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی عزت کرنااور ایک دوسرے کی بات سننا ضروری ہے کیونکہ بچہ سب سے زیادہ دیکھ کر سیکھ رہا ہوتا ہے۔بچوں کی تربیت کے حوالے سے بطور مسلمان ہمیں سیرت نبوی ﷺ سے لازمی مستفید ہونا چاہیے۔

حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی بھی مقام پر تشریف فرماہوتے جب بھی کوئی بچہ آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ اس کا پرتپاک استقبال کرتے۔آپ ﷺ کے پاس حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ جب بھی تشریف لاتے آپ ﷺ ان کا شاندار استقبال کرتے،اور فرماتے کہ کسی بھی انسان کی آمدکے موقع پر گرمجوشی سے اس کا استقبال کرنا اس کے دل جیتنے کا آسان طریقہ ہے۔ اسی طرح اولادکی تربیت میں صحبت ایک بہت بڑاعنصرہے کیونکہ ایک دوست دوسرے دوست کاآئینہ دارہوتاہے اوروہ ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں،لہٰذا جب بچے اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگیں تو والدین کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے،تاہم مختلف مواقع پر بچے کو اپنے ساتھ رکھیں کیونکہ یہ بھی بچوں کا ایک حق ہے کہ وہ بڑوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ کر تہذیب سیکھ کر اپنی عادات سنواریں۔ اس حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ طرز عمل تھا کہ آپﷺزندگی کے مختلف مراحل میں بچوں کواپنے ساتھ رکھتے ، اس معاملے میں آپﷺکوادنیٰ تامل بھی نہ تھااور نہ ہی کوئی تکلف تھا، نہ کبھی کسی قسم کی ناگواری کا اظہار کیا۔
بچوں کے معصوم ذہنوں پرخوشی اور مسکراہٹ بہت گہرااثرڈالتی ہے، بچے فطری طورپر خوش دلی اور انبساط کوبہت چاہتے ہیں،بچے اپنے والدین اوردیگرقریبی رشتہ داروں کے چہروں پرخوشی کے آثاردیکھتے ہیں توان کی طبیعت میں بھی چستی اور تازگی پیداہوتی ہے، جس کی بناء پر ان میں سیکھنے کا عمل تیزہوتاہے چنانچہ آپﷺ بچوں کے دل خوش کرنے کے لیے مختلف اندازاختیارفرماتے۔
بچوں کے ساتھ میل جول رکھناانتہائی اہمیت کاحامل ہے، جب ان کے ساتھ خوشگوارانداز میں میل جول رکھاجا ئے اور انہیں اہمیت دی جائے تو بچے پراس کے عمدہ اثرات پڑتے ہیں اس کا ایک نفسیاتی فائدہ تو یہ ہوتاہے کہ بچہ آپ کوتوجہ دے گا آپ کی بات غور سے سنے گااور دوسرانفسیاتی فائدہ یہ ہوتاہے کہ ایسے بچے آگے چل کر مستقبل میں خود بھی کشادہ دل واقع ہوتے ہیں اورپھر وہ دوسروں کو بھی اہمیت دیتے ہیں صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سے مروی ہے کہ جب آپﷺسفر سے واپس آتے تواپنے گھر کے بچوں سے ملتے ۔
ایک مرتبہ جب آپﷺسفر سے واپس تشریف لے آئے تو مجھے آپﷺ کی خدمت میں حاضرکیا گیاتو آپﷺنے مجھے اپنی سواری پر آگے بٹھالیا۔ بچوں کی فطرت ہے کہ جب ان سے پیارکیاجاتاہے مثلاًسرپرہاتھ پھیراجائے تو وہ بہت زیادہ خوشی اوراپنایت محسوس کرتے ہیں چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب آپﷺ انصاریوں کے ہاں آتے تو بچوں کو بھی سلام کرتے اور ان کے سر پر دستِ شفقت رکھتے اسی طرح آپﷺ سر پر ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھاربچے کے رخساروں پر دستِ مبارک پھیرتے اس سے بچوں کواور بھی زیادہ دلی محبت کااحساس ہوتا۔ حضرت جابر بن سمرۃؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے آپﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی جب آپ مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں بھی آپﷺ کے ساتھ نکلا باہر آکر بچے آپﷺ سے ملنے لگے آپ ﷺتمام بچوں سے ملے اور ن کے چہروں پر ہاتھ پھیرا،میرے چہرے پر بھی آپﷺنے ہاتھ پھیرا تو مجھے آپﷺ کے ہاتھوں میں ایسی خوشبو اور ٹھنڈک محسوس ہوئی گویا کہ عطار کاعطر دان ہو۔
بچوں کو اپنایت کا احساس دلانا، ان کے سراور چہرے پر ہاتھ پھیرنا سنتِ نبوی ہے نیزاپنے اور پرائے تمام بچوں کے ساتھ شفقت اور محبت کارویہ رکھنا چاہیے اور یہ رویہ یکساں سلوک کا حامل ہونا چاہیے تاکہ بچوں کے معصوم ذہنوں پر منفی اثرات نہ پڑے۔ آپﷺنے فرمایا کہ جورحم نہیں کرتا اس پررحم نہیں کیا جاتا۔انسانی طبائع پرتحفوں کا بڑا اثر پڑتاہے کسی بھی معاشر ے میں دوسرے فرد کی محبت اور توجہ حاصل کرنے کاآسان طریقہ اسے ہدیہ دینا ہے چنانچہ اسی انسانی فطرت کا لحاظ کرتے ہوئے آپﷺ نے بچوں کے حوالے سے بھی اس اصول پر عمل کیاہے ۔ حضرت ابوھریرہؓ فرماتے ہیں کہ جب آپﷺ کی خدمت میں موسم کا پہلا پھل لایاجاتھاتواولاًآپﷺ برکت کی دعا فرماتے اور پھر وہ پھل اس مجلس میں موجود سب سے کم عمر بچے کو بطورِہدیہ دیتے تھے ۔اچھلنا، کودنا، دوڑنا اور کھیل کود کسی بھی بچے کی زندگی کے لازمی اجزاء ہوتے ہیں بظاہر تو یہ تمام سرگرمیاں فضول دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقتاً یہی چیزیں اس کی جسمانی و نفسیاتی قوتوں کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہیں۔
کھیل کود میں ذہن کے استعمال سے اس کے غور وفکر کی نشونما اور تخلیقی قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔آپﷺ خود بھی بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔کسی بھی انسان میں تحریک اور فعالیت پیدا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دوسرے سے اس کامقابلہ کرایا جائے اور چھوٹے بچوں میں تو اس کا اثر اور بھی زیادہ ہوتا ہے ان میں بہت سی مختلف قوتیں اورجذبات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ آپﷺ مختلف مواقع پر بچوں میں مقابلہ بازی کے جذبے کو ابھاراکرتے تھے اور یہ مقابلہ کبھی تو فکری صورت میں ہوتاتھا اور کبھی جسمانی دوڑ وغیرہ کی صورت میں ہوتاتھا،
مقابلہ بازی کا ایک اور نفسیاتی فائدہ یہ بھی ہوتاہے کہ یہ اجتماعیت پسندی کو پروان چڑھاتی ہے نیز اس سے مسائل زندگی کو سمجھنے اور اسے حل کرنے کے طریقے سکھاتی ہے۔وہ والدین جو بچوں کی تربیت کے لحاظ سے پریشان ہیں انہیں یقینی بات ہے کہ پہلی فرصت میں اپنے رویے اور انداز کو تبدیل کرنا ہو گا۔ یاد رہے بچے کو پیسے سے زیادہ آپ کے وقت اور قربت کی ضرورت ہے۔ہم دن رات بچوں کی خاطر بھاگ دوڑ تو کرتے ہیں مگر کبھی انہیں وہ ماحول نہیں دے پاتے جس کا واضح نظارہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ میں نظر آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button