Ali HassanColumn

 اصلاحات برائے با مقصد انتخابات .. علی حسن

علی حسن

سابق وزیر اعظم عمران خان فوری انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ موجودہ حکمران ابھی تک اس کیفیت میں مبتلا ہیں کہ حکومت کی مدت کے خاتمہ کے بعد ہی انتخابات کرائے جا ئیں گے۔ جو لوگ بھی ملک میں فوری انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرہے ہیں، وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ آخر جلد یا بدیر انتخابات ہی کیوں؟ کیا انتخابات کے انعقاد سے پاکستان کو در پیش مسائل حل ہو سکیں گے ؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ما ضی میں ہونے والے کسی بھی انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان کے مسائل حل ہونے یا فائدہ مند ہونے کی بجائے پاکستان کو درپیش مسائل کو مزید گھمبیر ہو گئے۔ منتخب ہونے والے نمائندے کسی ایسی تجاویز پر عمل نہیں کرا سکیں گے جو پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت دے سکے۔ ہر انتخابات کے بعد پاکستان کی پیدا واری صلاحیت کمزور ہی ہو ئی ہے۔

پیداواری صلاحیت کمزور ہونے کی وجہ سے ملک کی بر آمدی قوت کم سے کم تر ہوتی گئی ہے۔ پیداواری صلاحیت میں کمزوری اور بر آمدی قوت میں گرتی ہوئی کمی ہی پاکستان کے تمام مسائل کا بنیادی سبب ہیں۔ ان اسباب کی بناء پر کیا انتخابات کا انعقاد صرف اس لیے کہ اقتدار پہلے سے اقتدار کی لذتوں سے آشناء کسی ایک گروہ کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ ماضی کی طرح اس ملک کے بے سہارا ،مفلوک الحال ، ننگے، بھوکے،بے گھر، بے زمین،ناخواندہ،روٹی روزی اور پانی سے محروم لوگوں پر حکمرانی کرتے رہیں۔ ویسے بھی اب تو ووٹ اور ووٹر کے بارے میں جو صورت حال نظر آرہی ہے وہ تو یہ ہی بتاتی ہے کہ عام ووٹر کو اس بات سے دلچسپی ہی نہیں ہے کہ کون آتا ہے، کون جاتا ہے۔ اسے غرض ہی نہیں ہے کہ کیا ہوگا۔ یہ اس کا مرض اور مرضی ہی نہیں ہے۔
کراچی میں جمعہ17جون کو ہونے والے ضمنی انتخابات کو ہی دیکھیں،اس کا نتیجہ دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی حلقہ این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے نتائج کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار محمد ابوبکر کو10683ووٹ، تحریک لبیک پاکستان کے شہزادہ شہباز کو 10618 اورمہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین کو8349 ووٹ ملے۔ پیپلزپارٹی کے ناصر رحیم کو5240 ووٹ جبکہ پاک سر زمین پارٹی کے شبیر قائم خانی نے 4782 ووٹ حاصل کئے ۔ ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والوں یا لائے جانے والوں کا ٹرن آئوٹ 8.38فیصد رہا۔ حلقہ میں کل ووٹرزکی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 855 ہے۔ صرف دس ہزار ووٹ حاصل کر کے پانچ لاکھ ووٹروں کی نمائندگی ہوگی؟ عام طور پر قومی اسمبلی کے حلقوں میں ڈھائی یا تین لاکھ ووٹر ہوتے ہیں، لیکن لاندھی کے اس حلقے میں پانچ لاکھ سے زائد ووٹر کیوں؟ اس ضمنی انتخاب میں 25 امیدوار میدان میں تھے،یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ مرحوم نے 2018 کے عام انتخابات میں61ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے ۔2018 میں ایم کیو ایم پاکستان کاامیدوارپہلے، تحریک لبیک پاکستان کا دوسرے اور پاکستان تحریک انصاف کا امیدوار تیسرے نمبر پر رہے تھے ۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ عام ووٹروں کی انتخابات میں دلچسپی کیوں ختم ہو ر ہی ہے؟ کیا منتخب ہونے والا رکن ان کے کام نہیں آتا؟ کیا منتخب ہونے والے صاحب ان کے مسائل کو حل کرانے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ ہی نہیں کرتے؟ کیا سیاسی پارٹیاں ان کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں لیتی ہیں؟ کیا حکومتیں ان کی توقع پر پوری نہیں اتر رہی ہیں؟ کیا سرکاری مشینری انہیں در پیش مشکلات اور مسائل کا فوری حل تلاش نہیں کرتی ہیں یا نہیں کر پاتی ہیں؟عام لوگوں کے مسائل بھی عام نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم، گھر کے افراد کا علاج معالجہ، پینے اور استعمال کے لیے پانی کی فراہمی، وغیرہ جیسے مسائل۔ اس سے زیادہ اہم مسائل ذاتی گھر کا انتظام، بیٹیوں کی شادیوں پر پیسوں کا انتظام وغیرہ ۔
یہ عام لوگوں کے لیے تو بہت اہم مسائل ہیں لیکن ان سے جو لوگ ووٹ مانگنے آتے ہیں ان کے لیے یہ مسائل اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مانند ہوتے ہیں۔ ووٹ لینے کے خواہش مند افراد ووٹروں کو گداگر جتنی اہمیت بھی نہیں دیتے۔ جب انہیں اہمیت ہی نہیں دی جائے گی، انتخابات کے بعد ان سے ملاقاتیں نہیں ہوں گی تو ان کی بھی پولنگ اسٹیشن پر آمد نہیں ہوگی۔ جیسا اوپر کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخاب کا ذکر کیا گیا ہے۔
انتخابی عمل اور قوانین میں اصلاحات کا بڑا چرچا ہوتا ہے لیکن اصلاحات وہ ہی کی جاتی ہیں جو دولت مند سیاست دانوں کے فائدے میں ہوتی ہیں۔ یہ اصلاح کیوں نہیں کی جاتی کہ جس حلقے میں کامیاب امیدوار حلقے میں درج ووٹوں کا آدھا حصہ حاصل نہیں کرے گا ، اس حلقے میں دوبارہ انتخابات ہوں گے۔ کیوں ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے کہ کامیاب امیدوار کے لیے حلقہ میں درج ووٹوں کے آدھے ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوں گے؟کیوں نہیںالیکشن کمیشن کو مجبور کیا جاتا ہے کہ تمام حلقوں میں ووٹوں کی تعداد کم و بیش ایک جیسی ہی ہونا چاہئے۔
یہ کہاں کی منطق ہے کہ کسی حلقے میں ووٹروں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ تو کسی میں دو لاکھ سے کم۔ منتخب ہونے والے نمائندے کو کیوں پابند نہیں کیا جاتا ہے کہ وہ مہینہ میں کم از کم سات روز اپنے ووٹروں کے درمیان گزارے گا،جس کی رپورٹ باقاعدگی کے ساتھ الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جائے گی۔ اگر با مقصد اصلاحات نہیں کی یا کرائی جا سکتی ہیں تو پھر انتخابات کا کیا فائدہ؟ کسی دستور میں بے فائدہ اور بے مقصد انتخابات کا ذکر پایا جاتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button