ColumnKashif Bashir Khan

ریاستی جبر کا نتیجہ انارکی!!!‎‎ .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

آج جب عمران خان’’حقیقی آزادی‘‘کے نام سے لانگ مارچ کا آغاز کر رہے ہیں تو میں ماضی میں پہنچ گیا۔ غالباً1993 کی بات ہے نواز شریف وزیر اعظم پاکستان تھے اور ملک میں کرپشن اور سیاسی انتشار انتہا پر تھا۔یہ نواز شریف کی بطور وزیر اعظم پہلی حکومت تھی اور اس کے بننے کے بعد کوئی ایسا دن نہیں گزرا تھا کہ جس میں اس حکومت کے جانے کی بات نہیں ہوئی تھی۔خیر 1993 میں ملکی حالات بہت خراب ہو گئے  اور اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحق خان نے بطور صدر نواز شریف کو متعدد خط لکھے جن میں شدید بدانتظامی اور ملک میں ہونے والی انتہا کی کرپشن کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاح کے مشورے دیے۔حکومت پر کرپشن کے الزامات کے بہت سے ثبوت بھی صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کو بھجوائے اور ملک میں سیاسی انتقام اور کرپشن کے  خاتمے کی وارننگ بھی دی۔سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو اس وقت اپوزیشن لیڈر تھیں اور وہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایک موثر آواز تھیں۔ عوامی حمایت بھی ان کے ساتھ تھی۔وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ واشگاف الفاظ میں نواز شریف کی حکومت جسے وہ دھاندلی کی پیداوار کہتی تھیں، کو گھر بھیجنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔اسی سیاسی افراتفری اور ملک میں جاری طوائف الملوکی میں صدر پاکستان نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے 58ٹوبی کے تحت میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔میر بلخ شیر مزاری کو نگران وزیر اعظم بنا دیا گیا اور نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا۔میاں نواز شریف اپنی حکومت کی تحلیل کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے اور سپریم کورٹ نے آئین پاکستان کے جس آرٹیکل( 58 بی ٹو) کے تحت ماضی میں جونیجو اور بینظیر بھٹو کی حکومتوں کی تحلیل کو جائز قرار دیا تھا،

اسے جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں بحال کر دیا۔یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے محترمہ بینظیر بھٹو اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔نواز شریف اس فیصلہ کے بعد دوبارہ بطور وزیراعظم پاکستان بحال ہو گئے لیکن اب ان کے پر کٹ چکے تھے اور پنجاب بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔پنجاب میں میاں اظہر کی جگہ سیاسی و آئینی طور پر بہت مضبوط اور چالاک گورنر چودھری الطاف جو فواد چودھری کے انکل تھے، بیٹھے تھے اور صدر غلام اسحاق خان بھی بطور ایک مضبوط ترین صدر پاکستان بیٹھے تھے۔ ملک میں انارکی تھی اور بینظیر بھٹو بطوراپوزیشن لیڈر جلسے جلوس کر رہی تھیں جن میں لاکھوں افراد شریک ہوتے تھے۔
سپریم کورٹ سے بحال ہونے کے بعد بھی میاں نواز شریف نے صدر پاکستان سے محاذ آرائی جاری رکھی بلکہ لاہور کے گورنر ہاؤس پر بزور قوت رینجرز کی مدد سے قبضہ کرنے کی کوشش بھی کی ، جسے اس وقت کے گورنر چودھری الطاف نے ناکام بنایا۔یہ وہ وقت تھا جب پنجاب پولیس اور رینجرز کو میاں صاحب اور ان کے ساتھیوں نے آمنے سامنے کھڑا کر دیا تھا اور ملک میں اداروں کو لڑا کر خانہ جنگی کی عملی صورت حال کی بدترین کوشش کی گئی ۔بینظیر بھٹو جن کی حکومت صرف اٹھارہ کے بعد 1990میں ختم کی گئی تھی بہت شدومد سے احتجاجی تحریک چلا رہی تھیں۔ کہ انہوں نے لانگ مارچ کی کال دے دی۔لاہور کے راوی کے پل پر میں نے اس وقت بطور طالب علم وہ منظر بھی دیکھا کہ چاروں طرف پولیس ہی پولیس تھی اور محترمہ بینظیر بھٹو،نصرت بھٹو اور سردار فاروق احمد لغاری وغیرہ ایک اوپن گاڑی میں جب راوی کے پل کی جانب آنے والے تھے تو ان پر پولیس نے ڈنڈوں اور سوٹوں سے حملہ کردیا۔مجھے وہ منظر آج بھی نہیں بھولتا کہ پولیس کے اس وحشیانہ تشدد کی وجہ سے سابق صدر فاروق احمد لغاری کے کپڑے پھٹ گئے۔
سیاسی حالات بہت ہی خراب تھے اور میاں نواز شریف کی حکومت ریاستی طاقت سے سیاسی رہنماؤں اور ورکرز پر سختی کا مظاہرہ کر رہی تھی،دوسری جانب میاں نواز شریف اور صدر پاکستان غلام اسحاق خان میں جاری تناؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ عوام اور فوج دونوں پریشان تھے۔اس وقت پاک فوج کے سربراہ جنرل عبد الوحید کاکڑ تھے۔سیاسی افراتفری کے اس بدترین دور میں اپوزیشن لیڈر بینظیر بھٹو نے دوبارہ لانگ مارچ کی کال دے دی۔ نوازشریف وزیر اعظم ہونے کے باوجود بے بس دکھائی دے رہے تھے لیکن اقتدارمیں تھے۔پنجاب حکومت بھی نواز شریف کے ہاتھ سے نکل چکی تھی اور محترمہ بینظیر بھٹو نے لانگ مارچ کے آغاز کا لاہور سے اعلان کیا تھا۔لاہور اس وقت پیپلز پارٹی کے جھنڈوں اور ورکرز سے بھرا بھرا دکھائی دے رہا تھا جبکہ نواز شریف وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی لانگ مارچ کو روکنے میں ناکام نظر آ رہے تھے۔ ملک میں سیاسی انتشار اور انارکی کے واضح امکانات تھے۔
ایسے میں پاک فوج
کے سپہ سالار نے نہایت جمہوری اور محب وطن کا کردار ادا کیا اور محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ایک میٹنگ کی گئی جس میں جنرل عبد الوحید کاکڑ نے محترمہ بینظیر بھٹو سے پوچھا کہ بی بی آپ لانگ مارچ کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ جس پر محترمہ بینظیر بھٹو کا جواب تھا کہ لانگ مارچ کرنے کا مقصد نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔جنرل عبدالوحید کاکڑ نے محترمہ بینظیر بھٹو کو کہا کہ اگرنئے انتخابات کا اعلان کردیا جائے تو پھر؟محترمہ بینظیر بھٹو نے فون اٹھایا اور نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا جس پر جنرل صاحب نے پوچھا کہ آپ کسے کال کر رہی ہیں؟ محترمہ نے جنرل صاحب کو کہا کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کے لیے کال کر رہی ہوں۔محترمہ بینظیر بھٹو نے سلمان تاثیر کو فون ملایا اور لانگ مارچ کینسل کرنے کا حکم دے دیا۔
اس طرح سے نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ دوسری میٹنگ کی گئی جس میں نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر میں اسمبلیاں توڑوں گا تو صدر پاکستان غلام اسحاق خان بھی استعفیٰ دیں۔اس پر غلام اسحاق خان نے فوراً استعفیٰ جیب سے نکال کر میز پر رکھ دیا۔یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ تب نواز شریف نے کہا تھا کہ میں اپنے والد سے پوچھ کر بتاؤں گا۔اس پر اس وقت کے کور کمانڈر راولپنڈی جنرل غلام محمد ملک نے کھڑے ہوکر درشتگی سے کہا تھا کہ آپ لوگوں نے ملک کا مذاق بنایا ہوا ہے۔اس کے بعد سیاسی انتشار کا خاتمہ ہوا اور ملک میں نئے انتخابات کا انعقاد ہوا اور محترمہ بینظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم پاکستان بنی تھیں۔یہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کا ایک ایسا جمہوری کارنامہ تھا جو آج بھی یاد کیا جاتا ہے،ورنہ وہ وقت اقتدار پر شب خون مارنے کے لیے بہترین تھا۔
آج جو کچھ پاکستان کے قریباً تمام شہروں میں ہو رہا ہے اور جس طرح سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں وہ 90 کی سیاسی صورتحال سے بالکل بھی مختلف نہیں اور افسوس کی بات ہے کہ آج بھی حکمران شریف فیملی ہی ہے۔جمہوریت میں پر امن تمام سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے اور اسے کسی طور بھی روکنا غیر جمہوری اور فسطائیت کہلاتا ہے۔عمران خان کے دور حکومت میں سیاسی انتقام اور جمہوری نقل وحرکت سے کسی بھی سیاسی جماعت اور رہنما کو بالکل نہیں روکا گیا۔فضل الرحمان، بلاول زرداری، مریم صفدر اور دوسرے تمام سیاسی رہنماؤں کو سیاسی جلسے جلوسوں کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی لیکن موجودہ سیاسی صورتحال میں اقلیتی اور کمزور مرکزی اور پنجاب حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات ملک میں سیاسی حرارت کو شدید بڑھائیں گے بلکہ اس کے اثرات بیمار ترین معیشت پر بھی پڑیں گے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ زرداری صاحب کے کہنے پر ہو رہا ہے۔مجھے حیرت ہے کہ ماضی میں ریاستی ظلم و جبر کا شکار ہونے والی جماعت(پی پی پی)جو نون لیگ کے مقابلے میں جمہوری تھی، آج اس فسطائیت میں شامل ہے یا پھر زرداری صاحب میاں شہباز شریف اور نون  لیگ کو عوام کی نظروں میں اتنا گرانے کی سازش کر رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں وہ عوامی ووٹ سے محروم ہو جائیں۔باقی اللہ جانتا ہے!
ماضی میں بھی ایسے اقدامات کر کے میاں صاحب کی حکومت دنوں میں ختم ہو گئی تھی اور عمران خان کی بے پناہ مقبولیت اور عوامی حمایت کے تناظر میں دکھائی یہ ہی دے رہا ہے کہ ایسے اقدامات حالات کو ابترترین بنائیں گے۔بطور پاکستانی میری پریشانی کی انتہاہے کہ لانگ مارچ کو بزور طاقت روکنا اول تو غیر آئینی اقدام ہے،  دوسرا یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔حکومت  کو سیاسی برداشت کا مظاہرہ کرنا ہو گا کہ جبرپر مبنی اقدامات کبھی حکومتوں کے لیے باعث تقویت نہیں ہوتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button