ColumnFayyaz Malik

پنجاب کی خانہ بدوش بیوروکریسی … فیاض ملک

فیاض ملک

لیں جی! مسلم لیگ نون نے بھی وفاق اور پنجاب میں صاحب ِاقتدار ہوکر عوام کو درپیش مہنگائی، بیروزگاری،امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سمیت دیگر سنگین نوعیت کے مسائل کے فوری حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی بجائے سابق حکمرانوں کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے بیوروکریسی میں میوزیکل چیئر کے نام سے ٹرانسفر پوسٹنگ کا کھیل شروع کردیا ہے، دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ ماسوائے آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب کے، اس وقت پولیس اور بیوروکریسی میں قریباً روزانہ کی بنیاد پر افسران کی اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ جاری ہے،جو ایسا مضحکہ خیز فارمولہ ہے کہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور بچگانہ رویے پر ہنسی آتی ہے، سابق اور موجودہ حکومت کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے ترتیب دی جانے والی پالیسیوں میں فرق صرف یہ ہے کہ پسند ناپسند کی بنیاد پر جن افسران کی پنجاب سے باہر ٹرانسفرز کی تھی اب ان میں سے بیشتر افسران واپس آگئے ہیں اور ان کی اہم ترین عہدوں پر تعیناتیاں کی جارہی ہیں،

بہرحال موجودہ حکومت بھی پولیس اصلاحات کے نفاذ، تھانہ کلچر کی تبدیلی اور بیوروکریسی کو عوام کے تابع کرنے کی بجائے افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے ، جس سے عوام کو کوئی فائدہ تو نہیں پہنچ رہا ، الٹا ٹی اے ڈی اے کی مد میں کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑرہاہے،حکومت کے ان بے ڈھنگے اقدامات کی وجہ سے پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس کے افسران خانہ بدوش بن کر رہ گئے ہیں، موجودہ حکومت کی گزشتہ41دنوں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سوائے محکموں کے اندر تقرر تبادلوں کے، کوئی قابل ذکر کام نظر نہیں آرہا ہے،سول بیوروکریسی میں بھی افسران کی خدمات وفاق کے سپردکرنے کا کھیل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ بیوروکریسی میں13افسران جن میں چیئر مین پی آئی ٹی بی آصف بلال لودھی،ڈی جی آرکیالوجی عثمان علی خان،چیئر مین پنجاب کوآپریٹو بورڈ طارق محمود جاوید، چیف آف سیکشن پی اینڈ ڈی بورڈ ،ڈی جی ڈائریکٹوریٹ پاپولیشن ویلفیئر عائشہ حمید ،ڈی جی ڈائریکٹوریٹ سوشل ویلفیئر بورڈ مدثر ریاض ملک، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ساؤتھ پنجاب عامر عقیق خان،ڈی جی پی ایچ اے ذیشان جاوید،ڈپٹی سیکریٹری پرائمری سکینڈری ہیلتھ کیئر سیدہ راملا علی،ڈپٹی سیکریٹری خزانہ کنول بتول،ڈپٹی سیکریٹری لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن نورش عمران، ڈائریکٹرپروگرام چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو رابعہ ریاست شامل ہیں، ان کی خدمات وفاق کے سپردکردی گئی ہیں۔
سول بیوروکریسی میں اگر حکومتی کارکردگی جائزہ لیا جائے توافسران کی ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں صرف پوسٹنگ ٹرانسفر اور ٹرانسفرپوسٹنگ نظر آرہی ہے، تبادلوں ہی تبادلوں کے ساتھ عجیب بے یقینی کی صورتحال چل رہی ہے، عبداللہ خان سنبل کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب اور علی سرفراز کو چیئرمین پی اینڈ ڈی تعینات کیاگیا ہے۔ چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی آصف بلال لودھی کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کردی گئی ہیں اورڈاکٹر سید بلال حیدر کمشنر پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی کو او ایس ڈی بنادیاگیا ہے،اسی طرح احمد عزیز تارڑ کو ڈی جی آرکیالوجی،محمد علی رندھاوا کو ڈی جی ایل ڈی اے سمیت سول بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پراکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے پنجاب کے کمشنرز، سیکرٹریز سمیت 38ا فسران کے تبادلے کردئیے گئے، یہی نہیں پنجاب کے 28 بڑے اور چھوٹے اضلاع میں تعینات ڈپٹی کمشنرز کی بھی ٹرانسفرز پوسٹنگ بھی کردی گئی۔
تبادلوں اور تعیناتیوں کی کچھ ایسی ہی صورتحال پنجاب پولیس میں نظر آرہی ہیں۔پنجاب پولیس میں ہونیوالی ٹرانسفر پوسٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا جائے توہرروز کوئی آفیسر پنجاب سے وفاق جارہا ہے تو کسی کی خدمات وفاق سے پنجاب کے سپرد کی جارہی ہے، پنجاب پولیس میں گریڈ 20 کے 8 ڈی آئی جیز کی پنجاب سے ٹرانسفر کرتے ہوئے انکی خدمات وفاق کو واپس کر دیں جن میں ڈی آئی جی احمد جمال ، شارق جمال ، سرفراز فلکی ، شیر اکبر ،نعیم احمد ، اقبال دارا ، منیر احمد اور امین بخاری شامل ہیں، پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا یہ کھیل رُکا نہیں ہے،سی سی پی او لاہور اور مختلف اضلاع میں آر پی او، سی پی او اور دیگر اہم عہدوں پر تعینات 19 ڈی آئی جی اور2 ایس ایس پیز کے ساتھ ساتھ مختلف اضلاع میں تعینات تین ڈی پی اوز سمیت7 اعلیٰ افسران بھی تبادلوں کی زد میںآئے، جن میں7 ڈی آئی جیز کی خدمات کو پنجاب حکومت کے سپرد کردیا گیا ،
واضح رہے کہ تادم تحریر پولیس اور بیوروکریسی کے اندر ابھی بھی بیشتر اضلاعکے آر پی اوز ، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے انٹرویوز کا سلسلہ زوروشور سے جاری ہے جس کو جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سول بیوروکریسی اور پولیس کے نظام کی بگاڑ کی وجہ ان کے داخلی اور خارجی سطحوں کے معاملات میں سیاسی مداخلت ہیں، بربادی کا یہ عمل چند برسوں کی کہانی نہیں بلکہ اس میں ماضی اور حال کی پالیسیوں اور ترجیحات کا کھیل بھی شامل ہے،سیاسی مداخلتوں نے عملی طور پر ہمارے مجموعی اداروں کو ساخت کوبگاڑ دیا ہے ایسا نظام جو خود حکمران طبقہ کے بگاڑ کی وجہ سے لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اتررہا اس میں وقفے وقفے سے ہونے والی مثبت پالیسیاں بھی نتائج دینے کے عمل سے قاصر ہیں کیوں کہ پولیس اور سول بیورو کریسی کے نظام میں بگاڑ کا اہم فریق خود حکمران طبقہ ہیں اور یہ مسئلہ کسی ایک خاص جماعت یا حکومت کانہیں بلکہ مجموعی طور پر پورے سیاسی اور انتظامی نظام سے جڑ ا نظر آتا ہے۔
ویسے بھی دیکھا جائے توصوبے میں ایسی کون سی ہنگامی حالت پیدا ہو گئی تھی کہ اتنے اعلیٰ عہدوں پر تعینات افسران کے تبادلے کر کے سرکاری امور کو نئے سرے سے شروع کرنا پڑ رہا ہے۔سیاسی قیادت کا کام کسی بھی محکمہ کو پالیسی دینا ہے تا کہ عوام کی داد رسی ہو سکے ،بہر حال سرکاری اداروں میں افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے نام پرسیاسی مداخلت کا دروازہ بند کرتے ہوئے اگر حالات کی سمت کا تعین نہ کیا گیا تو یہ یقین کر لینا چاہیے کہ ’’رٹ آف سٹیٹ‘‘ بحال نہیں ہو سکتی!یہ بات ہمیں سمجھنا ہوگی کہ اصلاحات کا عمل اگر پائیدار نہ ہو اور یہ محض پالیسی سازی تک ہو اور عملدرآمد اس کی ترجیحات کا حصہ نہ ہو تو کچھ بھی ممکن نہیں اور اس فکری مغالطے سے ہمیں باہر نکلنا چاہیے کے اداروں کو مضبوط بنائے بغیر ہم ایک مہذب معاشرے میں اپنے آپ کو ڈھال سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button