ColumnNasir Naqvi

کل کی فکر کون کرے گا؟ …. ناصر نقوی

ناصر نقوی

سیاست، سیاست اور صرف سیاست ۔جمہور تو مہنگائی،بے روزگاری اور غیر ملکی قرضوں کے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریاست مدینہ اور ایک پاکستان کا خواب دکھانے والے بھی اقتدار سے اُتر کر سڑکوں اور میدانوں میں للکار رہے ہیں۔ پہلے شور تھا ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ اب چرچا ہے کہ ’’مجھے کیوں نہیں بچایا گیا؟‘‘ جمہور کی حالت پتلی ہے، نہ صرف جینا محال ہو چکا ہے بلکہ اپنی نئی نسلوں کی فکر لاحق ہے۔ ہر بچہ پیدائشی مقروض ہے اور قرض دار کی ترقی ہمیشہ مشکوک ہوتی ہے، اگر مالکِ کائنات کسی نیک نیتی پر ہاتھ پکڑ کر ترقی کی راہ پر گامزن کر بھی دے ،جب بھی اسے ’’شک‘‘کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پہلے پاکستان کے ریکارڈہولڈرتین مرتبہ بننے والے وزیراعظم نکال باہر کئے گئے لیکن ان کا منفرد ریکارڈ تین مرتبہ وزیراعظم بننے اور نکالے جانے کا ریکارڈ پاکستان کی تاریخ کا ایسا منفرد ریکارڈ ہے کہ شاید یہ کوئی بھی نہ توڑ سکے بلکہ نواز شریف ابھی سیاسی میدان میں موجود ہیں وہ مستقبل میں کوئی اور کارنامہ انجام دے کر اپنے ریکارڈ کو مزید بہتر کر سکتے ہیں تاہم صحت مند ہو کر وطن واپسی شرط ہے۔ سر دھڑ کی بازی اور جارحانہ سیاست میں ’’جیالا‘‘ بھی اپنا ایک علیحدہ مقام رکھتا ہے۔ آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست نے اس کا رعب اور جذبہ کسی حد تک کم کر دیا لیکن مسلم لیگی متوالے اپنے قائد نواز شریف کے ’’بیانیے‘‘ پر خوب اُچھلے پھر بھی شہباز شریف کی میانہ روی اور صبر و تحمل کی سیاست نے رنگ دکھا دیا۔
شیخ رشید احمد پیش گوئیاں کرتے کرتے اقتدار سے فراغت کے بعدواپس ’’لال حویلی‘‘کے چبوترے پر پہنچ گئے لیکن پاکستان مسلم لیگ نون سے نہ ’’ش‘‘ نکلی نہ ہی ’’میم‘‘ ۔ سیاست سے کئی بار کنارہ کشی اور دستبرداری کے اعلان کے باوجود وہ اب ’’خون خرابے‘‘ کی پھلجھڑیاں چھوڑ رہے ہیں۔ انہیں یقین ہو گا کہ وہ یہ کارنامہ کر کے قوم کی خدمت کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسے ’’بیانیے‘‘ چغلی کھاتے ہیں کہ وہ شخصیت پسند ہی نہیںبلکہ کسی خاص ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ وہ خود نہیں بول رہے۔ ان کے  پیچھے کوئی اوربول رہا ہے اور جسے
ہمارے   کل کی فکر ہے کہ کہیں پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہو جائے یعنی ہمارے سیاست دان صرف اور صرف اپنے مفادات، پارٹی کی حیثیت اور قائدین کی شہرت و عزت پر کھیل رہے ہیں۔ اسی لیے عوامی سطح پر یہ سوال اُبھر رہے ہیں کہ ملک و ملت کے کل کی فکر کون کرے گا؟ محض دعوئوں اور سبز باغ دکھانے سے نہ مہنگائی ختم ہو گی، نہ ہی روزگار کے مواقع ہاتھ لگ سکتے ہیں ، نہ ہی کسی کو پیٹ بھرنے کے لیے دو وقت کی روٹی مل سکتی ہے، پھر بھی معصوم اور بے وقوف عوام وعدہ فرداں پر ’’زندہ باد، مردہ باد‘‘ کے نعرے لگا رہی ہے۔
ملک کو اس صورت حال تک پہنچانے میں قوم کے ہر طبقہ فکر نے معمولی معمولی مفادات اور اختلافات پر بڑی سے بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔ لمحہ موجود میں پہلےاسٹیبلشمنٹ کے نام پر کہانی سنائی گئی لیکن عام آدمی کے لیے یہ کہانی پرانی تھی۔ ترقی پذیر اور مقروض پاکستان میں بھی سب جانتے ہیں کہ سپر پاور کے دعویدار امریکہ میں بھی پینٹاگون
اور خفیہ ادارے سی  آئی اے کی سہولت کے بغیر کوئی اقتدار حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی نہیں سپرپاور کی دھونس میں اس کی مداخلت پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں ریکارڈ پر موجود ہے۔ 1947ء سے 2022ء تک دوستی اور تعلقات کے نام پر امریکہ بہادر ہمارے حکمرانوں کے ہمیشہ پیارے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ’’رومانس‘‘ قوم کو کبھی پسند نہیں رہا، عمران خان اقتدار میں ’’عدمِ اعتماد‘‘ کا شکار ہونے والے پہلے وزیراعظم کا ریکارڈ حاصل کر چکے ہیں لیکن وہ کسی لمحے بھی اپنی اکثریت اور اتحادیوں کو کھونے کی غلطی اور ناتجربہ کاری تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کی یاری میں امریکہ کے کامیاب دورے کو اپنی فتوحات میں شامل کرتے تھے لیکن اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ امریکہ سازشی ہو گیا بلکہ صدر بائیڈن نے واشنگٹن میں بیٹھ کر اپنی سازش سے عمران کا دھڑن تختہ کر دیا اور تحریک عدم اعتماد کا پارلیمنٹ میں سامنا نہ کرنے کے باوجود عمران خان کا ’’بیانیہ‘‘ بک رہا ہے آخر کیوں؟ اگر اس صورت حال کی وجوہات تلاش کی جائیں تو عجیب و غریب تاویلیں ملیں گی لیکن ڈاکٹر اسلم ڈوگر کی اس بات میں وزن ہے کہ ’’عہدہ تو عہدہ، جھوٹ بھی خالص نہیں ملتا، لہٰذا جذباتی کنفیوژن پر سب گزارہ کر رہے ہیں۔ اب ’’ہم اور آپ‘‘ حالات کا جائزہ لیں تو سیاست کے کھیل میں جھوٹ کی اس قدر ملاوٹ ہو گئی ہے کہ عوام خود کنفیوز ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟ تبدیلی سرکار نے احتساب کے نام پر ماضی کے حکمرانوں کو عدالتوں اور جیل میں یوں گھسیٹا کہ لوگ سمجھے اب چور اور ڈاکوئوں کی معافی ممکن نہیں، لیکن سب کچھ کرنے کے بعد بھی کھلاڑی اناڑی نکلے، کسی کو سزا نہ مل سکی اس لیے کہ حکومتی ذمہ دار شواہد ہی
پیش نہ کر سکے۔ میرے خیال میں اگر عمران خان اور ان کے وفادار حواری صرف ایک دو بڑے کیسوں پر توجہ مرکوز رکھ کر ملزمان کو سزا وار بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو آج ’’چور، چور ، چور‘‘ کے نعروں کا جواز مل جاتا۔ ہم ہی نہیں ، کرپشن کے حوالے سے عمران خان بھی عوامی جمہوریہ چین کی مثال دیتے ہیں لیکن ’’اقتدار‘‘ میں ان کی گرفت ایسی نہ تھی کہ وہ کسی قومی ’’چور اور ڈاکو‘‘ کو تختہ دار تک پہنچا سکتے، میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوںنے قومی خزانہ لوٹ کر اپنے کاروبار اور خاندان کی پرورش کی انہیں پھانسی کی سزا دے کر تبدیلی کی روایت بننی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ شاید انہیں اپنے مستقبل کی فکر بھی ہو کیونکہ ملزم تو کسی کو بھی ٹھہرایا جا سکتا ہے جس طرح عمرانی حکومت نے خود روایت ڈالی، یقیناً انہیں کسی نے بتایا ہو گا کہ نواز شریف نے دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں پھر ان ہی عدالتوں کے چکر میں گھن چکر بن گئے ۔ بات بھی درست ہے کہ اگر یہ رسم چل نکلتی تو پھر کرپشن پرپھانسی کا پھندا کسی بھی گلے میں پڑ سکتا تھا۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ عمران خان نے انتہائی چالاکی سے میڈیا کو استعمال کر کے اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ اپنے حق میں نہ صرف رائے عامہ ہموار کی بلکہ مقتدرہ قوتوں تک بھی راہ و رسم بنا کر یہ ثابت کیا کہ ماضی کے چوروں اور ڈاکو حکمرانوں کے مقابلے میں واحد شخصیت وہ ہیں جو ایمانداری سے معاملات کی درستگی کر سکتے ہیں لیکن جونہی تخت اقتدار ملا، پہلا گلا میڈیا ہی کا دبایا اور پونے چار سال اس کی مشقیں باندھنے میں لگا دئیے۔ اس سلسلے میں بھی ڈاکٹر اسلم ڈوگر کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’صحافت مقدس مشن تھاپھر میڈیا کاروباری صنعت بنا لیکن سوشل میڈیا نے سب کو سیاسی ورکر بنا دیا ہے۔‘‘
مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے اپنی چالیس سالہ صحافت میں یہ تینوں ادوار نہ صرف دیکھے بلکہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا سے وابستہ ہوں۔ میں ہر حال میں اسلم ڈوگر کے بیان کا گواہ ہوں۔ میڈیا کی ٹرین سے اقتدار نگر تک پہنچنے والے عمران خان نیازی نے سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ایسے پذیرائی کی کہ اب گنتی کے صحافیوں کے علاوہ حقیقی صحافی اور صاحب رائے دہی نوجوان ہیں اور بقول عمران خان باقی تمام صحافی جعلی اور لفافہ گروپ کے نمائندے ہیں۔ یقیناً ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی ہرگز نہیں، لیکن اناڑی حکمرانوں نے میڈیا میں بھی ایک ایسی نابالغ فصل اُگائی ہے جس سے اب برسوں نجات ممکن نہیں، عمران نے انگریز کی حکمت عملی ’’لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کو بنیادبنایا ہے۔ تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہے حالانکہ اس وقت معاشی بدحالی، مہنگائی، بے روزگاری کی فضاء میں قومی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے لیکن عمران خان اور دیگر سیاستدانوں کے قومی اداروں پر لگاتار حملے ، ثبوت ہیں کہ سب اقتدار سے نکالے جانے والے پکڑ، دھکڑ اور جکڑ سے پہلے ملک و ملت کے مستقبل کا فیصلہ سڑکوں، میدانوں اور سیاسی جلسوں کے ردعمل سے کرنا چاہتے ہیں۔ برداشت، رواداری، افہام و تفہیم تو دور کی بات ہے کوئی کسی کی سننے کو تیار نہیں، سابق وزیراعظم نے اقتدار سے محرومی کے بعد کہا’’ اور زیادہ خطرناک ہو جائوں گا‘‘ تو وہ موجودہ صورت حال میں ہو چکے ہیں۔ اب حکمرانوں اور قومی اداروں کو ذمہ داری، صبرو تحمل اور قومی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی مثبت فیصلہ کرنا ہو گا کیونکہ جذبا ت کی رو میںعمران خان بہہ کر نقصان کا سودا پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اگر حکمران بھی جذباتی ہو کر مقابلے پر آ گئے تو ’’وکھری ٹائپ کا کھڑاک‘‘ ہو گا جو یقیناً ناقابل تلافی ہو سکتا ہے کیونکہ کل کی کسی کو فکر نہیں، سب اپنی اپنی من مرضی کے سودے میں مگن ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button