ColumnRoshan Lal

آگے کیسے بڑھاجائے؟ …. روشن لعل

روشن لعل

ملکوں اور قوموں کا سفر وقت کے پہیے کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہ سفر چاہے راحتوں اور خوشیوں سے معمور ہو یا دشواریوں اور مشکلات سے بھرپور، اس میں رُکنا یا ٹھہرنا خارج ازامکان ہوتا ہے کیونکہ اس سفر کا خاتمہ فنا سے مشروط ہوتا ہے۔ تاریخ کے ارتقا کے تناظر میںیہ سفر ایک ایسی مسافت تصور کیا جاسکتا ہے جس میں فنا یا بقا میں سے کسی عنصر کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاریخ کے عیاں اور نہاں خانوں میں جھانکنے سے پتا چلتا ہے کہ اپنے سفر کے دوران ملک اور قومیں ماضی میں چاہے بقا کی طرف جارہی تھیں یا فنا کی طرف، ان کی مہاریں ہر صورت میںکسی نہ کسی حکمران یا اجتماعی حکومت کے ہاتھ میں تھیں۔ بقا اور فنا کی کہانیوں کے مطالعہ سے یہ باتیں بھی ظاہر ہوتی ہیں کہ بقا کے لیے اگر مسلسل تعمیر و مرمت ضروری ہوتی ہے تو فنا کے لیے متواتر شکست و ریخت اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ ان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نہ تو بقا کے راستے کسی جادو کی چھڑی سے اچانک استوار کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی یہ ہوسکتا ہے کہ فنا کسی بلا کی طرح آناً فاناً ظاہر ہو جائے۔ تاریخ میں ایسی چند استثنائی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کسی حکمران نے اپنی نالائقیوں کی وجہ سے بقا کے سفر کا رخ اچانک فنا کی طرف موڑ دیا ہو یا دھیرے دھیرے جاری شکست و ریخت کو اس قدر تیز رفتار کر دیا ہو کہ تباہویوں کے دہائیوں بعد ممکن ہونے کی مشروط پیش گوئیاں اچانک سچ ثابت ہوتی نظر آنے لگیں۔تاریخ میں درج چند ایسی مثالوں کے علاوہ اکثر معاملات میں یوں ہواکہ فنا کا انجام سالہا سال بقا کے مواقع ضائع کیے جانے کی وجہ سے بتدریج قریب آتا رہا ۔

فنا اور بقا کا وقوع پذیر ہونا حکمت عملیوں اور کارکردگی سے مشروط ہونے کے باوجود فنا کے لیے ایک معذرت خواہانہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ ہر عروج کا ایک زوال بھی ہوتا ہے۔ ہم وطن عزیز کی بات کریں تو یہاں عجیب و غریب صورتحال نظر آتی ہے کہ اس وقت زوال کے خطرہ کسی عروج کے ظہور کے بغیر ہی ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں جب یہ ملک معرض وجود میں آیا تو عوام کی سماجی و معاشی حالت کو پسماندگی قرار دے کر آنے والے وقت میں عروج ظاہر ہونے کے خواب دکھائے گئے تھے۔ ہم اپنے عروج کی بات کریں تو ہمارا عروج حقیقت بننے کی بجائے ہمیشہ ہمارے ذہن میں خوابوں کی طرح ہی موجود رہا۔ جاگتی آنکھوں کو دکھائے گئے ان خوابوں کی تعبیر ہر نئے دن کا
سورج اُبھرنے کے ساتھ ہم سے مزید دور ہوتی چلی گئی۔
گزشتہ کئی دہائیوں تک یہ ہوتا رہا کہ خوابوں کی تعبیر دور ہونے کے باوجود بھی ان خوابوں کے سچ ثابت ہونے کی امیدیںکمزور سے کمزور تر ہوتے رہنے کے باوجود کبھی ختم نہیں ہو سکی تھیں۔ ملک بننے کے بعد جاری موجودہ آٹھویں دہائی میں اس وقت حالات یہ ہیں کہ بہتری کی کوئی اُمید اُجاگر کرنے کی بجائے یہ کہا جارہا ہے کہ عین ممکن ہے یہاں وہی حالات پیدا ہو جائیں گے جو اس وقت سری لنکا میں نظر آرہے ہیں۔
ٰٓیاد رہے کہ سری لنکا میں اس وقت جو بد امنی اور افراتفری نظر آرہی ہے یہ مختلف حکومتوں کی مسلسل معاشی بدانتظامیوں کے نتیجے میں ظاہر ہوئی ہے۔ سری لنکن عوام کے سڑکوں پر آنے اور پرتشدد مظاہرے کرنے کی بنیادی وجوہات پاور کٹ، ایندھن کی کمی ،ضروری اشیا کی قلت ، بد ترین مہنگائی اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں انتہائی تیزی سے ہونے والا اضافہ ہیں۔ سری لنکا کے عوام کے بے قابو ہونے کی ایک وجہ وہاں کے حکمران ر اجا پا خاندان کی بدعنوانیاں اور اقربا پروری بھی ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے بحران کی جڑیں، کئی دہائیوں سے مسلسل جاری معاشی بد انتظامی میں پیوست ہیں کہ سری لنکا کے حکمرانوں نے اندرونی معاشی وسائل میں اضافہ کرنے کی بجائے بے دریغ بیرونی قرضے لے کر
اپنی حکومتوں کا انتظام اس طرح چلایا کہ ان کا ملک آخر کار دیوالیہ ہوگیا۔
سری لنکاجن وجوہات کی بنا پر دیوالیہ ہوا وہ تمام وجوہات کسی نہ کسی شکل میں پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ مگر یہ بات کسی حد تک قابل اطمینان ہے کہ جن وجوہات کی بنا پر سری لنکا دیوالیہ ہو چکا ہے، ان وجوہات کی موجودگی کے باوجود بھی ہمارے ملک کے ساتھ ابھی تک دیوالیہ کا لیبل نہیں لگا۔اس اطمینان کے باوصف یہ تشویش نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ جو کچھ سری لنکا میں ہوچکاہے وہ سب کچھ پاکستان میں ظاہر ہونے کے خدشات سامنے آچکے ہیں۔ اس طرح کے خدشات سامنے آنے کے باوجودیہاں ریاست کے کرتا دھرتا لوگوں اور اداروں میں وہ حساسیت نظر نہیں آرہی جس کے ملک کے موجودہ نازک حالات متقاضی ہیں۔ یہاں ایک گروہ ملک کے اندرونی معاملات میں مبینہ بیرونی مداخلت اور سازش کے مفروضوں کے تحت اس انداز سے نعرے بازی کر رہا ہے کہ اسے پرواہ ہی نہیں کہ اس کی نعرے بازی سے یہاں کس حد تک کسی حقیقی سازش کی راہ ہموارہورہی ہے۔سازش اور بیرونی مداخلت کا الزام لگانے والے جس گروہ کی حکومت ختم ہوئی ہے اس کی حکومت کے خاتمہ سے پہلے بڑی حد تک ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اس گروہ کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔ اس طرح کا تاثر دینے کے بعد ایک حکومت گرا کر جو دوسرا گروہ حکمران بنا ہے، اب اس کی صفوں میں ایسے لوگ نظر آرہے ہیں جن کے طرز عمل سے یہ ظاہر ہورہا ہے جیسے اپنے مخالف کی حکومت گرا کر تو وہ مطمئن ہیں مگر خود حکومت لینے کے بعد ان کے سامنے جو چیلنج آئے ہیں ان سےنپٹتے ہوئے ان کے ہاتھ پائوں پھول رہے ہیں۔ اس صورتحال میں موجودہ حکومت کے بڑے گروہ سے تعلق رکھنے والے بعض لوگوں نے اپنے ان اتحادیوں پر شکوک وشبہات اور تحفظات کا اظہار شروع کر دیا ہے جن اتحادیوں نے اقتدار کی ہما ان کے سر بٹھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
موجودہ اتحادی حکومت میں وزارت عظمیٰ کی مسند سنبھالنے والے یاد رکھیں کہ اس ریاست کی مہار اب ان کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ مہار ابھی چھوڑنے پر شاید انہیں اتنا سیاسی نقصان نہ ہو جتنا نقصان انہیں یہ مہار تھامے رکھنے اور بیک وقت مبہم رویہ اختیار کیے رکھنے سے ہو سکتاہے۔ ریاست کی مہار تھامنے والے چاہے اب آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں، وہ یاد رکھیں کہ وقت کے ساتھ چلنے کا اس ملک کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے اوراس دوراہے پر ایک راہ چاہے جس طرف مرضی جا رہی ہو مگر دوسری راہ بہت چھوٹی، ناہموار اور مشکل ہونے کے باوجود بھی بقا کی طرف جا رہی ہے۔ملک کی بقا کی راہ پر سفر بلاشبہ انتہائی مشکل اور دشوار ہے۔ اس سفر پر مشکل فیصلے کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے،مگریاد رہے کہ22 کروڑ انسانوں کے ملک کی بقا کے لیے یہ سب کچھ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button