تازہ ترینتحریکخبریں

حمزہ شہباز کی حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی حلف برداری کے لیے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس نے حکم میں کہا ہے کہ حمزہ شہباز کی حلف برداری کے کیس کا فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت سو رہے تھے، عدالت نے اپنے فیصلے سے انہیں جگایا، کیا ابھی بھی 15 دن لگ سکتے ہیں؟

ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ پہلے بھی ہو سکتا ہے، پانچ سات دن اوپر بھی ہو سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صدر نے اس صوبے سے متعلق کیا فکر مندانہ رویہ دکھایا ہے، صدر کو اگر سارے معاملے کا علم تھا تو وہ کیوں خاموش تھے؟

اس سے قبل سماعت کے دوران مدعی حمزہ شہباز کے وکیل نے دلائل دیے۔

حمزہ شہباز کے وکیل اشتر اوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو پامال کیا جا رہا ہے، صدر جان بوجھ کر فیصلے پر عمل نہیں کر رہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیوں نہ عدالت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے کسی فرد کو حلف کے لیے نامزد کر دے؟

اشتر اوصاف نے کہا کہ حمزہ شہباز سے حلف نہ لے کر آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ آئین اور قانون سے بالا ہے تو اس کی غلط فہمی ہے۔

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ صدرِ مملکت کیوں حلف نہیں لے پا رہے؟ وفاقی حکومت کی طرف سے کون نمائندہ ہے؟ کیا آپ کو عدالتی حکم سے متعلق معلوم ہے؟

وفاق کے وکیل نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے بھی حلف کا کہا مگر صدرِ مملکت نے حلف کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

واضح رہے کہ عدالتی حکم کے باوجود پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا حلف نہ ہونے پر حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button