تازہ ترینتحریکخبریں

متحدہ اپوزیشن کا علامتی اجلاس، حمزہ شہباز کی حمایت میں 199 ووٹ ڈالے گئے

متحدہ اپوزیشن کے علامتی اجلاس میں حمزہ شہباز کو 199 اراکین پنجاب اسمبلی نے ووٹ ڈالے جبکہ پرویز الہیٰ کی حمایت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، حمزہ شہباز اور سینئر لیگی رہنما متحدہ اپوزیشن کے اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ نجی ہوٹل سے پنجاب اسمبلی سے متصل ہوٹل میں علامتی اجلاس کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سے قبل نجی ہوٹل میں متحدہ اپوزیشن کے اراکین کا اجلاس منعقد  کیا گیا۔

مریم نواز، حمزہ شہباز اور متحدہ اپوزیشن کے اراکین سے اظہار یکجہتی کے لئے پہنچیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنماؤں علیم خان، جہانگیر ترین اور چھینہ گروپ کے اراکین بھی ریلی میں موجود تھے۔

اراکین اسمبلی بسوں اور ذاتی گاڑیوں میں سوار ہو کر روانہ ہوئے، اس موقع پر اراکین اسمبلی کے ذاتی گارڈز بھی اُن کے ہمراہ تھے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی متحدہ اپوزیشن کے ہمراہ تھے۔ اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کے نعرے لگائے اور ووٹنگ میں اپنی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔

مریم نواز، حمزہ شہباز کے نجی ہوٹل پہنچنے پر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی، قائدین کو دیکھ کر کارکنان نے نعرے بازی کی جس پر منتظمین نے انہیں روکا تو شدید ہلڑ بازی ہوئی۔

بعد ازاں پینل آف شیئر شازیہ عابد کی زیر صدارت متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ہوا، جس کے آغاز پر انہوں نے کہا کہ انتالیسویں اجلاس میں مجھے پینل اف چئیر کا حصہ چنا گیا تھا۔

تلاوت کلام پاک کے بعد مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی چوہدری اقبال گجر کی جانب سے اجلاس میں قرارداد پیش کی۔ جس پر شازیہ عابد نے کہا کہ آج کے اجلاس کے ایجنڈے پر قائد ایوان کا انتخاب ہے، قائد ایوان کے انتخاب کے لئے حمزہ شہباز اور چوہدری پرویز الہی میں مقابلہ ہے۔

ایوان کی کارروائی کی طرح شازیہ عابد نے قرارداد پیش ہونے کے بعد حمزہ شہباز کے حامی اراکین کو نشستوں پر کھڑے ہونے کی ہدایت کی اور پھر گنتی کا حکم دیا۔

بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا کہ حمزہ شہباز کے حق میں ایک سو ننانوے اراکین اسمبلی نے ووٹ دیا جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں کسی نے ووٹ نہ دیا۔ شازیہ عابد نے اعلان کیا کہ میرے پاس آئی گنتی میں میاں حمزہ شہباز ایک سو ننانوے ووٹ لیکر قائد ایوان (خود ساختہ) منتخب ہو گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button