Column

کم عمری میں شادی،انسانی المیہ ….. ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی

ہر شہری وہ بچہ ہویا بوڑھا ، مرد ہویا عورت، ریاست کی ذمہ داری ہوتا ہے اس کے لیے کیا بہتر ہونا چاہیے کس طرح کے ماحول میں پرورش پانی چاہیے، کس طرح کی تعلیم فراہم کی جانی چاہیے، کس طرح کی قانون سازی ہونی چاہیے یہ صرف اور صرف ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والے شہریوں کے بہترین مفاد میں ہر ممکن حد تک اقدامات اٹھائے ۔ اچھی ، مناسب اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بچوں کے زہنی رحجان کوسامنے رکھتے ہوئے معیاری مفت اور سستی تعلیم کے ساتھ معیاری صحت کی جملہ سہولیات صرف ریاست ہی فراہم کر سکتی ہے اور اس کا مرکزی کنٹرول بھی ریاست کے ہاتھ میںہی ہونا چاہیے۔ جس کے لیے قومی وحدت کو برقرار رکھنے اور قومی سوچ کو ابھارنے ،یکجہتی پیدا کرنے کے لیے یکساں نصاب کے بغیر قوم کی بہتر تشکیل ناممکن سی بات لگتی ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق معیاری تعلیم کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہمارے ہاں ایسے مسائل پیدا ہو، اور کئے جا رہے ہیں جنہیں دنیا برسوں پہلے نہ صرف حل کر چکی بلکہ ان کا خاتمہ بھی کر چکی ہے ۔کئی بیماریاں جو دنیا بھر میں ختم ہوچکی ہیں لیکن ہم ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہے ۔ اس کی بھی بنیادی وجہ ناقص تعلیم کو ہی قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ ہمارے ہاں کا نظام تعلیم انسانی شعور کو بلند اور اس طرح نشو نما نہیں کر سکا جس کی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ضرورت ہے ۔اسی طرح مختلف طرح کے تدریسی نظام جس پر مختلف گروہوں کی اجارہ داری ہے، بچوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے اور تقسیم کا باعث بن رہا ہے ۔

فارن پریس میں ایک امریکی ادارے کی شائع ہونے والی ایک خبر نظرسے گزری ، رپورٹ کے مطابق چند برس پہلے امریکہ میں پہلی مرتبہ ماں بننے والی خواتین کی اوسط عمر چوبیس عشاریہ نو تھی۔جو اب بعد بڑھ کر چھبیس عشاریہ تین برس تک پہنچ گئی ہے۔ محققین کی نظر میں پہلی مرتبہ ماں بننے کی عمر میں تبدیلی آنا ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ دیر سے بچوں کی پیدائش خاندان کے بڑے یا چھوٹے ہونے اور آبادی میں اضافے پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ پہلا بچہ پیدا کرنے والی خواتین کی عمرکا تعلق بچوں کے پیدائشی نقائص اور متعدد بار ماں بننے کی صلاحیت سے بھی ہے۔ گزشتہ دہائی تک بیس برس سے کم عمر خواتین کے پہلی مرتبہ ماں بننے کی عمر میں بیالیس فیصد کم آئی ہے۔کم عمری میں ماں بننے کے نقصانات سے آگاہی کے بعد ایسا ہوا ،ورنہ کم عمری میں ماں بننے والی لڑکیاں کئی طرح کی قباحتوں اور بیماریوں کا شکار ہوتی تھیں جس پر اب وہاں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دنیا بھر میں یومیہ 7200 بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں ۔مردہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے 98 فیصد کا تعلق کم اور درمیانے آمدنی والے ممالک اور کم عمری تھی ۔طبی جریدے دا لانسٹ کے مطابق 186 ملکوں میں مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی شرح سب سے زیادہ پاکستان میں ہے، جہاں ہر ایک ہزار بچوں میں سے اوسطاً 43.1 بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں کم عمر ماﺅں میں یہ شرح بہت زیادہ ہے۔اصل خوفناک بات یہ ہے کہ مردہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے 13 لاکھ بچے زچگی کے بعد مرتے ہیں۔پیدائش کے چند گھنٹوں میں سہولیات مہیا نہ ہونے کے باعث ان کی موت ہو جاتی ہے جسے ایک عالمی سطح کا سکینڈل ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کہا گیا کہ ایسے دس فیصد بچوں کی موت ماں کی غذائی قلت، ناقص خوراک اور خون کی کمی بتائی جاتی ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے موثر قانون سازی اور اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی بنا پر اس عظیم انسانی المیے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بچیوں کی کم عمری میں شادیوں کا سب سے بڑا حصہ یعنی چھیالس فیصد صرف جنوبی ایشیا میں ہے۔مقامی طور پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں ہونے والی شادیوں کا کم سے کم تیس فیصد ایسا ہے ، جو اٹھارہ سال سے کم عمر کی دلہنوں پر مشتمل ہے۔ عام طور پر پاکستان میں پیدا ہونے والی بچیوں کو اکثر اوقات میراث میں تعلیم، صحت اور قانونی حقوق کی عدم فراہمی وغیرہ جیسا ورثہ ملتا ہے جبکہ کم عمری کی شادیوں کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں۔ بچپن میں شادی کے بعد، بنا کسی تربیت یا تیاری کے، اچانک بالغ فرد کی حیثیت سے ذمہ داری عائد ہونے اور انہیں نبھانے کے دوران بچی کو جو ذہنی صدمہ اٹھانا پڑتا ہے وہ تو ہے ہی، مگر اس کے علاوہ بھی وہ طویل المدت جسمانی بیماریاں اور دماغی صحت کے معاملات کا شکار بن جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال قریباً پانچ ہزار کم عمر شادی شدہ عورتیں پیشاب کی نالی کی بیماری آبسٹریکٹ فسٹولا میں مبتلا ہوجاتی ہےں، کم عمری میں شادی کردی جانے والی بچیوں میں اس بیماری کی شرح بہت زیادہ ہے۔یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو قبل از وقت بچے کی پیدائش اور پھر مختلف مہلک امراض کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان جہاں ایک طرف صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے، دوسرا یہ کہ پوشیدہ امراض کے باعث عورتیں اس کا ذکر کرتے ہوئے شرماتی ہیں۔ یوں مسئلہ سنگین ہوجاتا ہے۔وہ خاموشی سے تکلیف برداشت کرتے ہوئے زندگی بسر کرتی رہتی ہیں تاوقتیکہ ان کے شوہروں کے علم میں یہ بات آئے اور وہ اس کا علاج کرادیں۔
اکثر ممالک میں شادی کے لیے قانونی طور پر عمر کی حد اٹھارہ سال ہے مگر پاکستان میں سندھ کے علاوہ باقی صوبوں میں سولہ سال ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ غربت اور پسماندگی کے باعث قانونی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی بچیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔اگرچہ یہ بات خوش آئند ہے کہ میڈیا اور سول سوسائٹیز کی کوششوں سے بچیوں کی کم عمری میں شادیوں کی حوصلہ شکنی کے ساتھ عوامی آگاہی میں بھی اضافہ ہوا ہے، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے کو جڑ سے ختم کیا جائے تاکہ صحت مند مائیں صحت مند بچوں کا جنم دے سکیں۔ کم عمر بچیوں کی شادیوں کے حوالے سے ہونے والے نقصانات اور زچہ و بچہ کی اموات کے حوالے سے حکومت کو ملک بھر سے اعداد و شمار اکٹھے کرنے چاہئےں تا کہ اندازہ ہو سکے کہ ہمارے ملک میں کم عمر ی کی شادیوں کے نتیجے میں بچیوں کی صحت کے ساتھ کتنا بھیانک ظلم ہو رہا ہے کہ بعض کیسوں میں تو زندگی جہنم بن جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ حکومت بچیوں کی صحت کا خاص خیال رکھتے ہوئے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button