Column

سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور سال 2022 …. عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا
پاکستان سٹاک مارکیٹ سے اکثر سرمایہ کار گریز کرتے ہیں وجہ نقصان کا خوف، ملکی معاشی بحران، سکیورٹی مسائل، معلومات کی کمی اور سٹہ بازوں کی چالیں۔ اگر کچھ لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ ڈر،خوف اور بے صبری کی وجہ سے نقصان اٹھالیتے ہیں جبکہ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری صبر کا کام ہے کیوں کہ یہ ایسا بازار ہے جہاں بقول مشہور امریکی کاروباری شخصیت وارن بفیٹ”بے صبروں سے پیسہ صبر کرنے والوں کو منتقل ہوتا ہے“  اور جہاں ایک بروکر کے مطابق ”آپ ایک ہی دن میں آسمان کی بلندیاں چھونے کے بعد زمین پر پٹخے جا سکتے ہیں“ لیکن اگر سٹاک مارکیٹ میں اچھی پلاننگ کے ساتھ ماہرین سے مشاورت کے بعد سرمایہ کاری کی جائے تو کوئی شک نہیں کہ 30فیصد تک منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 35 مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 500 سے زائد کمپنیاں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں درج ہیں جن میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں کاروباری شراکت داری اور سرمائے کے حصول کا رجحان بدل رہا ہے۔ اب کمپنیاں اپنے کاروبار کو توسیع دینے کے لیے بینک سے قرض لینے کے بجائے سٹاک مارکیٹ کا رُخ کررہی ہیں۔ مالی سال 2021ء میں 32 کمپنیاں سٹاک مارکیٹ سے 80 ارب روپے سے زائد کا سرمایہ حاصل کرچکی ہیں۔ بینکوں سے قرض لینے کے بجائے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی طرف جانے کی بڑی وجہ بنیادی شرح سود میں ہونے والا اتار چڑھاؤ اور حرمت سود کا خوف بھی ہے، اب جبکہ کمپنیاں سرمایہ ایکویٹی کے ذریعے اکٹھا کر رہی ہیں تو سرمایہ کار کے لیے شیئرز خریدنے کے مواقعے بھی بڑھ رہے ہیں۔
رواں سال (2022)کے دوران سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان کیا ہوگا۔ ماہرین اور ملکی معیشت کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم یہ کہ سکتے ہیں اگر ماہرین سے مشاورت کے بعد آپ کمپنیز کے حصص خریدتے ہیں تو سال 2022 میں بنکوں سے سود حاصل کرنے سے سٹاک مارکیٹ کے حصص سے منافع اور کیپٹل میں اضافہ سود سے 100فیصد تک زیادہ ہو گا، پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) میں سرفہرست 100 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اوسطاً 25 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 31 دسمبر 2022 تک 56,000 پوائنٹ کی سطح سے تجاوز کر جائے گا۔ اس کے علاوہ توقع ہے کہ بورس آٹھ نئی کمپنیوں کا خیر مقدم کرے گا اور اگلے سال تجارت کے لیے اِن کے حصص کی فہرست دے گا۔ اِن کمپنیوں کا تخمینہ ہے کہ 2022 میں ابتدائی عوامی پیشکش (IPOs) کے ذریعے تقریباً 14-15 بلین روپے کا ایکویٹی کیپٹل اکٹھا کریں گے۔ اگر سٹاک مارکیٹ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو بورس نجی شعبے میں تعمیراتی صنعت سے سب سے بڑا IPO (ابتدائی عوامی پیشکش) دیکھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فروری 2022 کے بعد سے مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے جیسے میکرو اکنامک اشارے کے استحکام کے بعد سٹاک مارکیٹ کی 2022 کے دوران اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔ خام تیل کی طرح بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں میں متوقع کمی میکرو اکنامک انڈیکیٹر ز کو معمول پر لانے میں مدد دے گی اور اِس کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے دسمبر 2022 تک بینچ مارک سود کی شرح کو 9.25 فیصد تک کم کرنے کی توقع ہے۔ بینچ مارک KSE-100 انڈیکس اب تک 2021 کے دوران خالص ایک فیصد بہتر ہوا لیکن 2022 کے آغاز سے لے کر اب تک 3فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اگلے ماہ یعنی مارچ 2022 میں افراط زر کی شرح 13فیصد کی حد تک پہنچ جائے گی اور اپریل سے اِس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ مالی سال 2022 خسارے کا تخمینہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا 4.8 فیصد یا 15.3 بلین ڈالر، مرکزی بینک کے 4 فیصد کے نظر ثانی شدہ تخمینہ کے مقابلے میں لگایا گیا ہے۔ بینچ مارک سود کی شرح مارچ میں 10 فیصد تک پہنچ جائے گی اور دسمبر 2022 تک گر کر 9.25 فیصد ہو جائے گی۔جون کے آخر تک روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 177 روپے کی موجودہ سطح پر رہنے کا تخمینہ ہے، تاہم دسمبر کے آخر تک اِس کی قدر 185 روپے تک گرنے کا امکان ہے۔ جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر میں خالص 1.27 بلین ڈالر سے 27.5 بلین ڈالر تک اضافے کا امکان ہے۔ ماہرین نے اندازہ لگایاہے کہ بین الاقوامی تیل کی قیمت میں فی بیرل $5 کا اضافہ مہنگائی کو 27 بنیادی پوائنٹس (bps) تک دھکیل دیتا ہے۔ سیکٹرل آؤٹ لک ایکسپلورر شن اور پروڈکشن سیکٹر کے حوالے سے ریسرچ ہاؤس نے گیس سرکلر ڈیٹ کے حل اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں استحکام کی پشین گوئی کی ہے۔ ماہرین کے مطابق سیمنٹ کے شعبے میں قیمتوں کا نظم و ضبط دیکھنے میں آئے گا جس کے ساتھ گھریلو ترسیل میں اضافہ، کوئلے کی بین الاقوامی قیمتوں میں ردوبدل اور اعلیٰ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) مختص کی جائے گی جو سیمنٹ کمپنیوں کی نچلی لائن کو متحرک کرے گی۔ سٹیل کے شعبے میں قیمتوں کا تعین کرنے کی اہم طاقت، درآمدات سے کوئی خطرہ نہ ہونے کے ساتھ طلب میں مضبوط ریکوری اور انوینٹری کے فوائد سے آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ ٹیکسٹائل سیگمنٹ میں برآمدات پر مبنی شعبوں کے لیے حکومتی ترغیبات اور متوقع مارجن کے پرجوش رہنے کے درمیان برآمدہ آرڈرز میں مسلسل ترقی کی پیش گوئی ہے اور ماہرین کے مطابق آٹو موبائلز کے لیے قیمتوں کا تعین کرنے کی مضبوط طاقت، CBU (مکمل طور پر تعمیر شدہ) یونٹس پر زیادہ ڈیوٹی اور معاشی ترقی کے درمیان مضبوط طلب آٹوموبائل کی فروخت کو بڑھا دے گی۔ رواں سال دسمبر تک سیمنٹ کے شعبے میں تیزی آئے گی اِس کی دو وجوہات ہیں ایک تو پاکستان تحریک انصاف الیکشن 2023 سے پہلے اپنے آخری ایام میں عوام سے ووٹ لینے کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی پراجیکٹ شروع کرے گی اور توانائی کے پراجیکٹ کی تعمیر میں تیزی آئے گی، جس میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے پراجیکٹ سر فہرست ہیں۔ آئل سیکٹر کے شیئرز بھی کافی نیچے ہیں، وہ بھی سال کے اختتام تک بڑھیں گے، اِسی طرح آٹو موبائیل سیکٹر میں بھی تیزی دیکھنے کو ملے گی  لہٰذا ڈی جی سیمنٹ، فوجی سیمنٹ، او جی ڈی سی، پی پی ایل، ملت ٹریکٹر، اٹلس ہونڈا، کوٹ ادو پاور کمپنی اور نشاط ملز لمیٹڈ کے شیئرز کو خریدا جا سکتا ہے لیکن خریداری سے پہلے مارکیٹ انڈکس کا انتظار کریں جب 43ہزار پر آئے تبھی خریدیں۔ نقصان سے بچنے کے لیے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا بڑا اصول یہ ہے کہ سرمایہ کار کو بروکرز کی طرف سے پھیلائے گئے خوف کی وجہ سے (Panic) نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اِس سے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ نقصان سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ نہ فوری شیئرز خریدیں اور نہ بیچیں، انتظار کریں اور زیادہ وقت کے لیے سرمایہ کاری کریں۔ اگر آپ نے بزنس مینجمنٹ یا مالیاتی شعبے میں تعلیم حاصل کی ہے تو تھوڑی سرمایہ کاری یعنی 50 ہزار سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ شیئرز کی خریدوفروخت مناسب وقت پر کریں یقین جانیں آپ مستقبل میں اچھے مقام پر پہنچیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button