Column

پلی بارگین، اعتراف جرم ….. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے اِس امر کی وضاحت کی ہے پلی بارگین اعتراف جرم ہے جس سے ملزم پر تمام قانونی سزائیں لاگو ہوتی ہیں۔ پلی بارگین کا قانون امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، بھارت اور بہت سے دوسرے ملکوں میں بھی ہے۔جب کوئی ملزم پلی بارگین کی درخواست دے تو نیب اِس کی درخواست متعلقہ عدالت کو بھیج دیتا ہے جس کے بعد عدالت پلی بارگین کی اجازت دیتی ہے۔پلی بارگین کے قانون سے نیب اب تک لوٹے ہوئے اربوں روپے واپس کراچکا ہے وگرنہ قومی دولت لوٹنے والوں پر عام قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جاتا تو اربوں کیا لاکھوں روپے کی واپسی ممکن نہیں تھی۔
ایک مقررہ حد تک نیب پیسوں کے لین دین کے مقدمات کی تفتیش کرتا ہے۔یہ نیب قوانین ہیں جن کی وجہ سے قومی دولت لوٹنے والوں سے اب تک اربوں روپے واپس کرائے جا چکے ہیں۔ نیب قوانین کی بدولت بہت سی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے عوام کے ڈوبے ہوئے اربوں روپے واپس کر چکا ہے۔جہاں تک پلی بارگین کرنے والوں کا سرکاری ملازمت جاری رکھنے کا سوال ہے کئی سال پہلے تک بہت سے سرکاری ملازمین پلی بارگین کرنے کے باوجود ملازمت کرتے رہے۔ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے علم میں لایا گیا تو عدالت عظمیٰ نے پلی بارگین کرنے والے سرکاری ملازمین کے ملازمت جاری رکھنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ دیکھا جائے تو سرکاری ملازمین کیا بڑے بڑے سیاست دان نیب قوانین سے خائف رہتے ہیں۔بہت کم ایسا ہوتا ہے نیب مقدمات میں کوئی ملزم بری ہو جائے۔اگر ہم ماضی میں جائیں تو بہت سے سیاست دانوں اور سرکاری افسران کو نیب قوانین کے تحت سزائیں ہو چکی ہیں۔سیاست دان نیب قوانین میں کیوں ترامیم چاہتے ہیں اِنہیں یہ بات معلوم ہے کہ نیب قوانین کے تحت مقدمات کے اندراج کے بعد بچنے کے بہت کم امکانات ہوتے ہیں۔ نیب قوانین میں ملوث ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کے لیے دوجج صاحبان مقرر ہوتے ہیں جس کا مقصد ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کے دوران انصاف کے تقاضوں کو پور ا کرنا ہے۔ فوجداری مقدمات میں سزائے موت کی اپیلوں کی سماعت کے لیے ہائی کورٹس میں دو جج صاحبان اپیلوں کی سماعت کرتے ہیں یا نیب مقدمات کے ملزمان کی اپیل کی سماعت دو رکنی بینچ کرتا ہے۔ انگریزکے قانون میں ملزمان کو ماتحت عدالتوں سے سزا یاب ہونے کے بعد ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دینے کا مقصد انصاف کی فراہمی ہے حتیٰ کہ سپریم کورٹ سے اپیل خارج ہونے کے بعد نظرثانی کا حق بھی دیا گیا ہے تاکہ حصول انصاف کی فراہمی میں کوئی پہلو نظر انداز نہ ہوسکے۔

سیاست دانوں کو قومی احتساب بیورو کوکرپشن کے انسداد کے لیے زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے چاہئیں کجا اپوزیشن نیب جیسے ادارے کوبند کرنے کے درپے ہے۔ نیب کے قیام سے قبل بھی یہ ادارہ کسی نہ کسی صورت میں کام کر رہا تھا۔نواز شریف دور میں سینیٹر سیف الرحمن کو احتساب کی ذمہ داری دی گئی جس نے سیاست دانوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ایک بزنس مین احتساب بارے کیا جانے۔احتساب جیسا ادارہ کسی جج کی سربراہی میں ہی درست سمت میں کام کر سکتا ہے جیسا کہ نیب کے موجودہ چیئرمین کی راست بازی مسلمہ ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن کوئی اُن کی راست بازی سے انکار نہیں کر سکتا۔ہم تو کہیں گے حکومت کو دھوکہ دہی اور فراڈ کے ایسے مقدمات (جو عام عدالتوں میں چل رہے ہوتے ہیں)   قانون سازی کرکے نیب کے حوالے کردینے چاہئیں تاکہ ملزمان سزاؤں سے بچ نہ سکیں۔ نیب مقدمات کے ملزمان کو ضمانت کم ہی ملتی ہے۔اگر عدالت کسی کو ضمانت دے بھی دے تو وہ کئی سال قید کاٹ چکا ہوتا ہے۔موجودہ حکومت نے کرپٹ لوگوں کے احتساب کا نعرہ لگایا تھا اِسے پورا کرنے کے لیے نیب کو مزید اختیارات دینے کی ضرورت تھی تاکہ ملک وقوم کو لوٹنے والوں کو کڑی سزائیں دی جا سکیں۔افسوس تو اِس بات کا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نیب ملزمان کو جیلوں میں دی جانے والی بہتر کلاس کی سہولت ختم کرنے کا اعلان تو کیا تھا لیکن اِس پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔ملک وقوم کو لوٹنے والوں کو جب جیلوں میں گھر والی سہولتیں میسر ہوں گی تو اُن سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی بہت مشکل ہے۔
لگتا ہے وزیراعظم کے دائیں بائیں کچھ ایسی شخصیات ہیں جو اُنہیں نیب ملزمان کو جیلوں میں دی جانے والی سہولتوں کو ختم نہیں کرنے دے رہے وگرنہ حکومت چاہتی تو صرف وزیراعلیٰ پنجاب سے کہنے کی ضرورت تھی۔ ایک دن میں نیب ملزمان کو جیلوں میں دی جانے والی سہولتوں کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ حکومت کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔اگرچہ اپوزیشن نے حکومت کو دل جمعی سے کام کرنے تو نہیں دیا تاہم اِس کے باوجود حکومت کو اپنی رہ جانے والی مدت میں نیب مقدمات کے ملزمان کے کیسوں کے جلد فیصلوں کے لیے حکمت عملی بنانی چاہیے اگر یہ مقدمات معمول کے مطابق چلتے رہے تو وزیراعظم کا بے لاگ احتساب کا نعرہ خواب رہ جائے گا۔وفاقی حکومت اور صوبوں کو اپنے اپنے محکموں میں ایسے سرکاری افسران اور ملازمین کا پتہ چلانا چاہیے جو نیب عدالتوں میں پلی بارگین کرنے کے باوجود ملازمت میں ہیں۔سپریم کورٹ نے نئی نیب عدالتوں کے قیام کا حکم دیا تھا شاید یہ کام بھی فائلوں کی نذر ہو چکا ہے۔نیب عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے۔جس تعداد میں ریفرنس بھیجے جارہے ہیں اُس رفتار سے ملزمان کے خلاف فیصلے نہیں ہو پا رہے ہیں۔حکومت کو سب سے پہلے نیب ملزمان کو جیلوں میں بہتر کلاس کی دی جانے والی سہولت کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ عوام یہ جان سکیں حکومت ملک وقوم کو لوٹنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کر رہی ہے۔ کرپشن میں ملوث افراد کو جیلوں میں سہولتوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہا تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے حکومت اُنہیں سزائیں دلوانے میں سنجیدہ نہیں۔وزیراعظم کو اقتدار سنبھالے تین سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اگر وہ کرپشن میں ملوث سیاست دانوں کو سزائیں دلوانے کے لیے اقدامات کرتے تو ملکی سیاست کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button