Column

جالب بحیثیت لازوال شاعر ….. روشن لعل

روشن لعل …

”وہ ایک جلسے کے شاعر تھا، اس بندے کی شاعری کی کیا کریڈبیلٹی ہوگی جس کے اشعار شہباز شریف اپنی تقاریر میں پڑھے، خدا کا نام لو یار“ یہ ہیں وہ الفاظ جن کے ذریعے ایک انگشت نما میڈیا پرسن نے پانچ شعری مجموعوں ”برگِ آورہ“ ، ”سر مقتل‘ ‘، ’ ’عہدِ ستم“، ”گوشے میں قفس کے “ اور ’ ’ذکر بہتے خون کا“ کے خالق حبیب جالب کے لیے اپنی معاندانہ رائے کا اظہار کیا۔ حبیب جالب کے پرستار چاہے انہیں آسمانِ ادب کا جتنا بھی بڑا ستارہ سمجھتے ہوں مگر ان کے لیے ہجو گوئی کرنے والے میڈیا پرسن کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انہیں سرے سے شاعر ہی تسلیم نہیں کرتا۔حبیب جالب کے متعلق انتہائی غیر محتاط انداز میں ظاہر کی گئی رائے کے جواب میں اگرانہیں مستند شاعر ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دی جائے تو یہ حرکت ایسے ہی ہوگی جیسے پہیے کو سائنسی ایجاد نہ ماننے والے کسی شخص کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی دوبارہ پہیہ ایجاد کرنے کے کام پر لگ جائے ۔ اب پہیہ دوبارہ سے ایجاد کرنا تو کسی صورت ممکن نہیں لیکن اگر کوئی پہیے کو سرے سے سائنسی ایجاد ماننے سے ہی انکار ی ہو تو اس کی ” خبر گیری“ ضرور کی جا سکتی ہے۔

ہمارے سماج کا اس سے بڑا المیہ کوئی اور کیا ہوگا کہ یہاں ان شخصیات کے متعلق ہجوگوئی کرنے والے خود کو معتبر ترین ثابت کروانے پر تلے ہوئے ہیں جو شخصیات اپنی روشن سوچ کو لفظوں کے قالب میں ڈھال کر محکوم اور کمزور طبقات کے حقوق کی لڑائی لڑتی رہیں۔ ایسی شخصیات کی عظمت کو وہ لوگ پہچان ہی نہیں سکتے جن کی ساری عمر حاکموں اور استحصال کرنے والوں کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے گزری ہو۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حبیب جالب کی شاعری کا ماخذ استحصال زدہ لوگوں کے درد کا احساس تھا ۔جو لوگ آج جالب جیسے بے مثال انسان کو شاعر ماننے سے انکاری ہیں ان کے متعلق کون نہیں جانتا کہ وہ دولت بٹورنے کی ہوس کی وجہ سے کسی کا درد محسوس کرنے کی حس سے کس حد تک عاری ہیں۔ حبیب جالب کے متعلق یہ بات مختلف لوگ کئی باربیان کر چکے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی ڈپٹی کمشنر نے انہیں مشورہ دیا کہ حکمرانوں کی مخالفت چھوڑ دو،تم غریب آدمی ہو، اپنا نہیں تو کم از کم اپنے بچوں کا ہی خیال کر لیا کرو۔ اس پر جالب نے کہا کہ ”دیکھو ڈپٹی کمشنر، تم نے زندگی میں اتنا کمایا نہیں جتنا میں نے ٹھکرایا ہے۔صرف اس ایک بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حبیب جالب اگر اپنے لفظوں کی حرمت کو بیچنا شروع کردیتے تو ان کے پاس کئی دہائیاں پہلے اس شخص سے کتنے زیادہ فارم ہاﺅس، کتنی مہنگی گاڑیاں اور لوگ ہوتے ۔جو آج ان کی شاعری پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

جب اثاثوں کی بات شروع ہو گئی ہے تو یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جالب پر نکتہ چینی کرنے والے نے اپنے فارم ہاﺅس، گاڑیوں اور کتوں کا مالک بننے کی بنیاد کہاں اور کیسے رکھی ۔ یہ بنیاد اس وقت رکھی گئی جب منطور وٹو وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور یہ حضرت ان کی میڈیا ٹیم کا حصہ بنے ۔ یہاں کئی لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ اوکاڑہ فیکٹر کی وجہ سے منظور وٹو نے ایک ایسے شخص کو اپنی میڈیا ٹیم کا حصہ بنایا جس کے کریڈٹ پر کچھ بھی نہیں تھا۔ جالب کی شاعری کی خردہ گیری کرنے والا یہ شخص اوکاڑہ فیکٹر کی وجہ سے نہیں بلکہ حسین حقانی کی وجہ سے منظور وٹو کی میڈیا ٹیم کا حصہ بنا تھا۔ جی وہی حسین حقانی جو کسی زمانے میں میاں نوازشریف کے پراپیگنڈہ سیل کا دماغ ہوا کرتا تھا مگر بعد ازاں پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کامدارالمہام بن گیا ۔ پیپلز پارٹی کے خالص جیالے نہ پہلے میڈیا مینجمنٹ جانتے تھے اور نہ ہی اب انہیں اس کی کوئی شُد بُد ہے مگر حسین حقانی نے میڈیا میں پیپلز پارٹی کے لیے نرم گوشے تلاش کرنے کے لیے وہی حربے استعمال کیے جو اس نے آئی جے آئی بنانے والوں سے سیکھے تھے۔ ان حربوں کو استعمال کرتے ہوئے حسین حقانی نے جن ایک دو لوگوں کو اخباروں میں پیپلز پارٹی کی موافقت میں لکھنے کے لیے تیار کیا ان میںجالب کے لیے ہرزہ سرائی کرنے والے کا باپ بھی شامل تھا۔

جب 1993 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو حسین حقانی کو وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات لگایا گیا ۔مرکزی اردو سائنس بورڈ ان دنوںسیکریٹری اطلاعات و نشریات کے ماتحت تھا۔ حسین حقانی نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ہرزہ سرا کے باپ کو اردو سائنس بورڈ کا چیئرمین لگا دیا۔ہرزہ سرا کے باپ نے اردو سائنس بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کے ساتھ ”چونگا “یتے ہوئے اپنے اناڑی بیٹے کو وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو کی میڈیا ٹیم میں جگہ دلادی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت جب 1996 میں ختم کر دی گئی تو اس باپ بیٹے نے بھی کئی دوسرے لوگوں کی طرح طوطا چشم بن کر اپنی آنکھیں پھیر لیں ۔ان کے طوطا چشم ہونے کی اس سے بڑی نشانی اور کیا ہوگی کہ نہ تو باپ نے کبھی ذکر کیا کہ وہ مرکزی اردو سائنس بورڈ کا چیئرمین کیسے بنا اور نہ بیٹے نے پیپلز پارٹی اور حسین حقانی کی عنایتوں کا ذکر کیا۔ ایسا کرنے کی بجائے اس نے ہمیشہ یہ تاثر دیا کہ وہ اوکاڑہ فیکٹر کی وجہ سے منظور وٹو کی میڈیا ٹیم کا حصہ بنا۔ان باپ بیٹے کے متعلق مشہور ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں صرف یہ سیکھا کہ کیسے زیادہ سے زیادہ مال بنایا جاسکتا ہے اور کیسے زیادہ سے زیادہ آسودگیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ حبیب جالب بن کر ایسی زندگی کا حصول ممکن نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے یہ بھی سیکھا کہ یہاں جتنا زیادہ سیاست، سیاستدانوں اور جمہوریت پر تبرے بازی کی جائے گی اتنا ہی زیادہ مال بٹورنے کے امکانات بڑھتے چلے جائیں گے۔ حبیب جالب اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جنہیں للکارتا رہا اس باپ بیٹے نے آمرانہ طاقت کے حامل ان لوگوں کی طرف تو کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرا ¿ت نہ کی مگر چند مسخروں کو اپنا ہمنوا بنا کر سیاست ، سیاستدانوں اور جمہوریت کو جس حد تک ممکن تھا طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ یہی وہ طرز عمل ہے جسے اختیار کر کے ان لوگوں نے اپنی دولت، فارم ہاﺅس، گاڑیوں اور کتوں کی تعداد میںہوشربا حد تک اضافہ کیا۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے جن لوگوں کو اپنی حرص کے مطابق مال بٹورنے کے یہاں بھر پور مواقع میسر ہیں انہیں حبیب جالب جیسے درویش پر انگلی اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اصل میں ان لوگوں نے دوسروں کی تحقیق اور تخلیقی کام کے رٹے لگا کر اور رٹی رٹائی باتوں کی الٹیاں کر کے مال بٹورتے ہوئے خو د کو عقل کل اور عظیم دانشور سمجھنا شروع کر دیا ہے۔جہاں دانش کا معیار حبیب جالب جیسے سڑکوں پر مزاحمت کرنے والے درویش ہوں وہاں ان ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ٹھٹھہ بازی کرنے والوں کو کون دانشور تسلیم کرے گا۔ خود کو دانشور تسلیم کروانے کے لیے جمود کے ان استعاروں نے ارتقا کی پہچان اس حبیب جالب پر وارکرنے جیسی بھونڈی حرکت کی ہے جس کی شاعری رہتی دنیا تک لازوال رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button