Column

ملکہ حُسن سے جمہوریت کے حُسن تک … ناصر شیرازی

ناصر شیرازی …

امریکہ میں ایک سابق ملکہ حُسن نے خودکشی کرلی ہے، فقط تیس سالہ خوبروچیلسی کرئسٹ نے نیو یارک کے بھرے بازار میں ایک عمارت کی 29ویں منزل سے چھلانگ لگاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا، انہوں نے 2019ءمیں مِس امریکہ کا ٹائٹل جیتا تھا، اُن کے مقابل اَکاون خواتین تھیں، وہ سب کو شکست دے کر اِس اعزاز کو جیتنے میں کامیاب ہوئیں، امریکی میڈیا کے مطابق بظاہر یہ خودکشی ہے، چیلسی کرئسٹ پڑھی لکھی اور لاءگریجوایٹ خاتون تھیں، انہوں نے خودکافی عرصہ وکالت کی، پھر فیشن ماڈل کے طور پر نام بنایا، بعد ازاں ٹی وی پروگراموں کی میزبان بن گئیں، اُن کی افسوس ناک موت نے میرے دل پر گہرے نقش چھوڑے ہیں، یقین نہیں آتاکہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی، عزت، دولت اور شہرت سے مالا مال اِن جیسی شخصیت یوں اچانک اپنی زندگی ختم کرسکتی ہے،

اُن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اُنہیں بظاہر کوئی دُکھ نہیں تھا مگر دنیا کی ہر آسائش ہوتے ہوئے وہ تنہا تھیں، وہ کم عمری میں اِس دنیا سے چلی گئیں، تنہائی کا عذاب اتنا شدید ہوتا ہے کبھی اِس کا اندازہ نہ تھا، کاش وہ مرنے سے پہلے پاکستان کا ایک چکر لگالیتی تو خود کشی کا ارادہ ترک کردیتی، ایسا نہ ہوا، شاید اُنہیں ٹورازم کا شوق نہ تھا، کاش وہ انٹرنیٹ پر ہی پاکستان اور اہل ِ پاکستان کے بارے میں کچھ آگاہی حاصل کرلیتی یا سوشل میڈیا پر کسی پاکستانی سے مراسم بڑھالیتی لیکن افسوس اُنہوںنے اِتنی ماڈرن اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اِس قسم کی علتیں نہیں پالی تھیں، مجھے زیادہ افسوس اِس بات کا ہے کہ پاکستان میں اِن کا رابطہ کسی کے ساتھ رانگ نمبر کال کے ذریعے بھی نہ ہوا، اگر اِنکا مجھ سے رابطہ ہوجاتا تو میں اِنہیں بتاتا کہ پاکستان میں اُن کے ہم مرتبہ لوگوں کی زندگی کتنی حسِین ہے، ہمارے عوام اور خاص طور پر خواص سیلبرٹیز سے کتنی محبت کرتے ہیں اِن کے لیے کیا کیا قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیاررہتے ہیں، پھر اِن جیسی موٹی اسامی مل جائے تو جس شخص نے زندگی میں کبھی تنکاتوڑ کرنہیں دیکھا ہوتا وہ آسمان کے تارے توڑلانے اور زندگی کی تمام مسرتیں، آسائشیں قدموں میںڈھیر کرنے کے لیے کیسے تیار ہوجاتا ہے،

میں اُسے بتاتا کہ پاکستان میں فن اورفکاروں کے قدردان یوں تو ہر جگہ پائے جاتے ہیں لیکن اسلام آباد،لاہور، کراچی، پشاور ، کوئٹہ اور خاص طور پر فیصل آباد کے رہنے والوں میں ایک خاص طبقہ توبہت ہی فن شناس ہے، میں ذاتی طور پر قریباً دو سو سیاسی و سماجی شخصیات کو جانتا ہوں، جوفن اور فنکاروں کے بے حد قدر دان ہیں، اُن کی فن کی قدردانی کرتے ہوئے تصاویر اکثر میڈیا اور سوشل میڈیا پرنظر آتی ہیں، گذشتہ پچاس برس میںدنیا بھر سے وہ خواتین جنہوں نے عالمی مقابلہ حُسن میںکامیابی حاصل کی، اُن سب میں ایک بات مشترک نظرآئی، کسی کے جسم پر بوٹی نہ تھی، کسی کی ناک ستواں یا آنکھیں چشم ِ آہو نہ تھیں، وہ زیادہ سرخ و سفید بھی نہ تھیں، یہ تاج کبھی گندمی رنگ، کبھی سیاہ فام اور کبھی کسی براﺅن دوشیزہ کے سرپر رکھ دیاگیا تھا، وہ سب پتلی کمراور دراز قد ضرور رکھتی تھیں، حُسن اِنہیں چھوکر بھی نہ گزرا تھا، مجھے تو بارہا ایسا لگا کہ عالمی مقابلہ حُسن جیتنے والی لڑکی اور جمہوریت میں حُسن بالکل نہیں ہوتا، حُسن کا شور شرابہ ضرور ہوتا ہے، جس طرح جمہوریت میں مختلف مافیاز کی مرضی کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی اِسی طرح ملکہ حُسن کون ہوگی اُس کا تعلق کس ملک سے ہوگا، یہی مافیا لوکل یعنی ملکی سطح پر مقابلہ حُسن کا انعقاد کرتا ہے، اِس کے پیچھے کاروباری منفعت کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا، یہ مافیا میک اَپ کا سامان بنانے والی بین الاقوامی کمپنیوں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد اپنا مال بیچنا اور دنیا بھر کی عورتوں کو بے وقوف بنانا ہوتا ہے، بے وقوف اِس لیے کہ جب تک وہ بے وقوف نہیں بنیں گی سامان آرائش و مہنگا ترین سامان میک اَپ نہیںخریدیںگی، دُنیا بھر کی تمام خواتین ہر ماہ جتنی رقم میک اَپ کے سامان پر خرچ کرتی ہیں اگر اِتنی ہی رقم سے وہ صحت مند خوراک یا صرف پھل خرید کرکھالیںتو اُن کے چہرے پر وہ قدرتی صحت کی رونق آجائے گی جو ہزاروں روپئے خرچ کرنے کے بعد بھی بیوٹی پارلر اُنہیں نہیں دے سکتے، صحت کی سرخی دائمی ہوگی عارضی نہیں۔

میک اَپ کا سامان تیارکرنے والی کمپنیوں کا طریقہ ¿واردات بہت دلچسپ ہے، وہ سب آپس میں بظاہر مقابلے کاتاثر دیتی ہیں لیکن وہ سب آپس میں گہری دوست ہوتی ہیں بالکل اِسی طرح جیسے ہمارے یہاں جمہوری نظام کے کُل پرُزے سمجھے جانے والے الیکٹیبلز بظاہر ایک دوسرے کے خلاف مگر اندر سے گہرے دوست ہوتے ہیں، مختلف سطح اور مختلف ممالک کی سامان میک اَپ تیار کرنے والی کمپنیوں کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہوتے ہیں جن میں اِن کے مالکان شرکت کرتے ہیں، اِن کا یک نکاتی ایجنڈا ہوتا ہے کہ اِس برس یا آئندہ آنے والے برسوں میں کِس ملک کی خواتین کو بے وقوف بناکر اِن کے اوراِن کے خاوندوں کے پرس خالی کرنا ہیں، یاد رہے یہ انڈسٹری کئی ہزار ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے، دنیا بھر میں اسلحہ انڈسٹری کے بعد اِس کا نمبرآتا ہے، سامان میک اَپ بھی ایک قسم کا اسلحہ ہے جِس سے آنے والی تباہی ہمیںنظر نہیں آتی لیکن اِس کی تباہ کاریاں ایٹمی اسلحے سے زیادہ ہیں، بہت سوچ و بچار کے بعد ایسے ملک کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں تعلیم کی کمی اور پیسے کی زیادتی ہو، اِس کے علاوہ جو بات اہم ترین ہے وہ یہ کہ اُس ملک کی آبادی نسبتاً زیادہ ہو، جتنی زیادہ آبادی، جتنی زیادہ خواتین، جتنی زیادہ خرچ کرنے کی صلاحیت، جتنی کم تعلیم ہوگی اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ملک اب اُن کا بہتر ہدف ہے، پس اُس ملک کو سامنے رکھ کر تمام ترمنصوبہ بندی کی جاتی ہے،

آپ ذرااپنی یاد داشت پرزوردیں تو آپ کویاد آئے گا، کئی برس تک بھارت سے تعلق رکھنے والی خواتین پر کام کیاگیا، کئی برس تک مس یونیورس حسینہ عالم اور اِس سے ملتے جُلتے اعزاز کی حق داربھارتی خواتین قرارپائیں، مقصد صرف ایک تھا کہ یہ اعزاز متعددمرتبہ بھارتی خواتین کودیا جائے جہاں خواتین کی آبادی زیادہ ہونے کے ساتھ ، راگ رنگ رقص اُن کے مذہب کا حصہ ہے، بھارتی عورت ایک وقت کی بھوک خوشی سے کاٹ لے گی لیکن شام کا سنگھار چھوڑنے پر بہ آسانی آمادہ نہیں ہوگی، بھارتی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ کے بعد دوسری بڑی انڈسٹری ہے، یہاں بھی کئی ارب ڈالرسالانہ کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے، فلموں اور میک اَپ انڈسٹری کا بزنس بھارت میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، قریباً نصف درجن سے زائد جن خواتین کو مقابلہ حُسن میں اہم مقام دیاگیا اُن کا تعلق بھارت سے تھا، بعد ازاں اِن میں سے ہر ایک شوبز میں آئی کچھ کو تو بھارتی فلم انڈسٹری میں طویل عرصہ تک لیڈنگ ہیروئن رہنے کا اعزاز ملا، یہی اعزاز حاصل کرنے والی خواتین پھراِن بین الاقوامی کمپنیوں کی برانڈ ایمبیسڈر بن کر بالواسطہ کمپنی کی پراڈکٹ سیل بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی نظر آئیں، مقابلہ حُسن جیتنے والی لڑکی جب یہ کہتی ہے کہ اُس کے حُسن کا راز فلاں بیوٹی کریم ہے تو بے وقوف عورتیں اِس بیوٹی کریم یا سامان میک اَپ پر ٹوٹ پڑتی ہیں یوں یہ کمپنیاں اپنا سیلز والیم بہ آسانی حاصل کرکے پھر کسی نئے ملک کی خواتین کو اپنا ہدف بنالیتی ہیں، کاش ہماری خواتین یہ جان سکیں کہ مافیا کی منتخب ملکہ حُسن اور جمہوریت میں سب کچھ ہوتا ہے سوائے حُسن کے،چیلسی کرئسٹ بھی ایسی ہی تھی، اِس لیے میں نے اِس کی یاد میں آنسو نہیںبہائے، میرے آنسو جمہوریت کی امانت ہیں جو عنقریب خودکشی کرنے والی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button