ColumnNasir Naqvi

تخریبی سیاست کا خاتمہ .. ناصر نقوی

ناصر نقوی

 

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ ہمارے ملک کی سیاست اور سیاستدان اپنی روایات سے بغاوت کرکے ذاتی اورپارٹی مفاد میں میدان سیاست سے نکل کر عدالت، عدالت کھیلنے میں مصروف ہیں تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت مخالفین کو مشکلات کی دلدل میں دھکا اس لیے دیتی ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے پر کھل کر کھیل سکیں ، پارٹی منشور اور انتخابی نعرے صرف الیکشن مہم تک محدود رہتے ہیں عمرانی حکومت نے انصاف کی فراوانی اور احتساب کے نام پر جتنے پکڑے انہیں عدم ثبوت کی بنا پر چھوڑنا پڑا ، یہ الگ بات ہے کہ نامزد ملزمان ابھی بھی عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اس لیے کہ ہمارا عدالتی نظام ماشااللہ اور انشاء اللہ کی نام نہاد بنیاد پر چل رہا ہے اور نظام کی بہتری کے ذمہ دار پارلیمنٹ میں اپنا حقیقی کردار ادا کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں، آئینی ترامیم ہر دور میں ہوتی ہیں لیکن وہ بھی مخصوص مقاصد کیلئے عام طور پر حکمران ہی کرتے ہیں اوراپوزیشن میں کوئی بھی جماعت اور لوگ ہوں وہ ہنگامہ آرائی ،شوروغل کرنے کے بعد اجلاس کا بائیکاٹ کر کے نہ صرف ایوان سے باہر چلے جاتے ہیں بلکہ میڈیا میں الٹے سیدھے بیانات دے کر ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بن کر سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری ادا کر دی، اسی طرح جب اپوزیشن کی ہانڈی میں کبھی کبھار اُبالا آجائے تو حکومت مطلوبہ کورم پورا نہیں ہونے دیتی اور ایسا کبھی حکمت عملی کے تحت نہ کیا جائے تو فلور پر لاحاصل بحث کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لے لیتا ہے یعنی ضرب جمع تقسیم حاصل ضرب کچھ نہیں ،اسے جمہوری روایات کے مطابق تخریبی سیاست کہتے ہیں کیسی دلچسپ بات ہے کہ ہم اور آپ ہی نہیں ،منتخب نمائندے پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے اس لیے قائل ہیں کہ جمہوریت کا حقیقی ماخذ پارلیمنٹ ہے پھر بھی ہم کسی پارٹی کی حمایتی ہوں یا رہنما،جمہوریت کی روایت،رواداری اور برداشت ،کا مظاہرہ کرنے کو تیار نہیں ، ہم عوامی اجتماعات میں سول اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آصف بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے بڑے سے بڑے قومی ادارے اور اس کے سربراہ کو للکارتے نہیں تھکتے لیکن پس پردہ رابطہ کرتے ہوئے بیک ڈور ڈپلومیسی کا اعلان
کرتے بھی نہیں شرما تے، ہماری شخصیت کے تضادات نے معاشرتی اور قومی روایات کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے وقت پر اول تو کسی نے اصلاح کی کوشش نہیں کی دوئم اگر کسی نے رکاوٹ بننے کی ٹھانی تو اسے تخریب کار کہہ کر کہیں کا نہیں رہنے دیا گیا میری جمع تفریق میں ان تضادات کی عادت اور آئین و قانون کو بالائے طاق رکھ کرتین مرتبہ آمریت کے تحفے کا نتیجہ ہے کہ اب کسی بھی طور تخریبی سیاست کی تبدیلی کے دروازے بند ہو چکے ہیں یہ وہ ہاتھ سے لگائی گرہ ہے جسے کھولنے کیلئے مضبوط دانتوں کی ضرورت ہے جو ابھی تک نہ قوم کو ملے ہیں اور نہ ہی امید ہے کیونکہ کوئی مضبوط دانتوں والا پیدا بھی ہو جائے تو ہمارا نظام اور تخریبی سیاست کے ذمہ دار انہیں توڑ دیتے ہیں پھر ہر محب وطن یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ جب سب کے سب آمریت کے مقابلے میں لنگڑی لولی جمہوریت کے حامی ہیں تو تخریبی سیا ست کیوں؟
ماضی کے اوراق دیکھیں تو یہ تخریب کاری کی سوچ ملک کے پہلے صدارتی الیکشن میں جنرل محمد ایوب خان کے دور میں ہی پکڑی جائے گی جب ملک و قوم کی مثبت سوچ رکھنے والے ذہین لوگوں نے مادر ملت فاطمہ جناح کو زبردستی ایوب خان کے مقابلے کیلئے رضامند کیا تھا وہ مان تو گئیں لیکن زندگی کی آخری سانس تک انہیں تخریبی سیاست کا سامنا کرنا پڑا ،وہ دنیا سے چلی گئیں لیکن ان کا الیکشن اور بہتان تراشی آج بھی تاریخی حقائق میں موجود ہے پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ کچھ سیاستدانوں کی مشاورت اور مددسے مسلم لیگ کنونشن بنی اور انکی تخریبی سوچ کے مالکان نے بابائے قوم اور مادر ملت کی عظیم خدمات کو فراموش کرکے ان کی محسن کشی کی، صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی قد بڑھانے کیلئے، یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ اس پہلے ہی الیکشن میں دھونس،دھاندلی اور بدمعاشی کی ایسی روایات متعارف کرائی گئیں کہ عوام ایوب خان اور ان کے بیٹوں اختر ایوب ،گوہر ایوب کی جان کے دشمن بن گئے تھے کراچی کی انتخابی مہم کے دوران جب ان کے بیٹوں کی زبان بندی نہ ہوئی تو ایک نوجوان نے بلند و بالا مکان کی چھت سےچھرا لے کر قائدین کے ٹرک پر چھلانگ لگائی تاکہ وہ اختر ایوب اور گوہر ایوب کو قتل کردے، اس وقت قتل و غارت گری چھرے اور چاقو سے ہی ہوا کرتی تھی خودکار اسلحہ اور کلاشنکوف تو جنرل ضیاء الحق دور کا انعام ہے تاہم ان سے پہلے انیس سو ستر کے الیکشن مہم کے دوران سانگھڑ میں ذوالفقار علی بھٹو کے قافلے کا راستہ بدلا گیا اور پھر مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیا لیکن واقعات کے مطابق بھٹو صاحب اپنے مخصوص انداز میں ٹرک سے اتر کر میدان میں آگئے اور ان حملہ آوروں کو للکارتے ہوئے بلند آواز میں کہا مجھے مارو عوام کو کیوں مارتے ہو؟ اس دوران گولیاں چلتی رہیں ان کے خاص ملازم نور محمد نے بھٹو صاحب کو زمین پر گرا کر کر اوپر خود لیٹ گیا بعد از اں ملازم کونوراکے نام سے شہرت ملی یہ حملہ پیر پگارا کےحروں کے ذمہ لگایا گیا تخریبی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو پر تین حملے ہوئے جس سے انہیں الیکشن میں بھرپور کامیابی ملی ان میں سے ایک حملہ الیکشن کی جیت کے بعد گلبرگ لاہور میں ہوا جو دراصل ان پر نہیں تھا جیالوں نے مجھ پر حملہ کیا تھا یہ وقوعہ ڈاکٹر نیازی کے کلینک پر ہوا تھا اور اس موقع پر طلبا کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ مولانا کوثر نیازی اور ڈاکٹر مبشر حسن بھی موجود تھے تاہم ڈا کٹر مبشر حسن نے ریلوے سٹیشن لاہور پر بھٹو صاحب کی روانگی کے بعد میںویٹنگ روم میں ہنگامی پریس کانفرنس کرکے اسے قاتلانہ حملہ بنا کر بھٹو صاحب سے منسوب کر دیا میں نے صحافتی میدان میں وارد ہونے کے بعد ایک سے زیادہ مرتبہ ڈاکٹرمبشرسے حقیقت بتانے کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے ہمیشہ ہنس کر ٹال دیا تاہم سینئر صحافی اور ممتاز کالم نویس منو بھائی نے اپنے کالم ’’گریبان‘‘میں میرے نام سے اس واقعے کا تذکرہ کر کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
بھٹو صاحب ایک ذہین اور زیرک سیاستدان ہونے کے ناطے عوامی سیاست کرنے کے خواہشمند
تھے لیکن جونہی انہیں تاریخی پذیرائی ملی، صدر جنرل یحییٰ خان کے وعدے پر اپنی شب و روز محنت اور صلاحیتوں سے لاہور میںکامیاب ترین اسلامی کانفرنس منعقد کی ان کے خلاف تخریبی عالمی سیاست منظر عام پر آگئی تیسری دنیا کا نعرہ،اسلامی ایٹم بم کی سوچ، سوشلزم کا ایجنڈا لے کر اسلامی دنیا کو اتحاد و اتفاق کا درس اور امت مسلمہ کا مل کرتجارت کرنے کی منصوبہ بندی ان کے گلے کا پھندہ بن گئی پہلے اقتدار پر شب خون مارا گیا پھر انہیں عدالتی قتل کی راہ نکال کر پھانسی دے دی گئی سیاستدانوں کی ملی بھگت سے آمریت بہت مضبوط ہوئی امریکہ بہادر نے ضیاء الحق کی ہر سطح پرآبیاری کی اور پھر تخریب کاری کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا کہ اسی میں وہ خود بھی مارے گئے پوری قوم اور فورسز نے یک جان ہو کر دشمنوں سے جنگ لڑی بڑی جانی و مالی قربانیاں بھی دیں پھر امن قائم ہو گیا لیکن سیاسی تخریب کاری ختم نہ ہو سکی پہلے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کو ملک و ملت کیلئے سکیورٹی رسک قرار دیا اور اب دونوں مل کر تیسری سیاسی طاقت تحریک انصاف اور عمران خان کو قوم اور مملکت کیلئے نقصان دہ قرار دیا جارہا ہے ماضی کی تخریبی سیاست میں لیاقت علی خان اور محترمہ بے نظیر بھٹو زندگی کی بازی ہار گئی زبردستی کے صدر پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو قبل از وقت اطلاع دی تھی کہ انہیں نشانہ بنایا جائے گا وہ کارساز کراچی سے بچنے کے بعد بھی محتاط نہیں ہوئیں اور نتیجتاً لیاقت باغ راولپنڈی میں تاریخی جلسے کے بعد شہید ہوگئیں دونوں سابق وزرائے اعظم کے قتل کا معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا اب ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان بھی زخمی ہو کر گھر میں پڑے ہیں یہی لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کے زخم تو بھر جائیں گے لیکن یہ حملہ بھی معمہ ہی بنا رہے گا کیونکہ ابھی تک تو مدعی کی مرضی کی ایف آئی آر تک درج نہیں ہو سکی ، جے آئی ٹی بنی پر انکار ہو گیا اب نئی کمیٹی تشکیل پا چکی ہے جس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر ہیں جو وفاق اور پنجاب کے درمیان پہلے متنازع ہیں وزارت داخلہ نے عمران خان کو بھی اطلاع دے دی تھی کہ لانگ مارچ میں تخریب کاری کا اندیشہ ہے سابق وزیراعظم تو اقتدار سے محرومی کے بعد سے قتل کے امکانات اور اور خدشات کا دعویٰ کر رہے ہیں اس وقت بھی مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ کا اشارہ ہے کہ ابھی بھی تخریب کاری ہوسکتی ہے اس لیے ہائی الرٹ اور فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں حالانکہ ایساہی دعویٰ اور وعدہ ان سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے بھی کیا گیا تھا پھر بھی حملہ ہوگیا یہی نہیں ،عمران خان اور سینیٹر اعجاز چودھری کا تو یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ انہیں پتا تھا کہ وزیرآباد سے گجرات کے درمیان حملہ ہوگا پھر بھی انتظامات نہیں کئے جا سکے آخر کیوں؟
ملزم نوید نے حملے کی ذمہ داری فوراً قبول کی وہ کہتا ہے کہ میرا انفرادی فیصلہ تھا لیکن عمران خان سمیت اعترازچودھری بھی اسے حقیقی ملزم تسلیم کرنے کی بجائے رٹو طوطاقرار دے رہے ہیں، جائے وقوعہ پر ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے گولیوں کے خول بھی مختلف قسم کے اسلحے کے ہیں معظم گوندل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی آ گئی ہے باقی زخمیوں میں سے کسی نے بھی میڈیکل نہیں کرایا کنٹینر سے شوائد بھی ضائع ہوگئے یاکر دیے گئے پھر معمہ کیسے حل ہوگا؟ وزیراعظم نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو فل بینچ کی دو مرتبہ استدعا کی جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے ایسے میں تخریبی سیاست کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ اس کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ تمام قومی سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھیں اور قومی سیاست کو الزامات ،مقدمات، انتقام ،کے رویوں سے باہر نکالیں اور آئین پاکستان کی روشنی میں ایسا میثاق پاکستان کریں جس میں ملک و ملت کی ترقی و خوشحالی کیلئے مثبت سیاست کی جائے، تحریر و تقریر کی آزادی کا استعمال بھی پوری ذمہ داری سے کیا جاسکے قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے ایشوز یعنی درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے سیاست کی جائے تمام تر جدوجہد کا دارومدار منشور پر ہو، ذاتیات کو بھول کر صرف ملک و ملت کی بات کی جائے تاکہ نہ کسی کی زبان بندی ہوں اور نہ ہی کسی کو راستے سے ہٹانے کیلئے تخریبی سیاست۔ یقیناً یہی تخریبی سیاست کے خاتمے کا واحد فارمولا ہے اگر اسی بنیاد پر مشاورت کیلئے بیٹھک ہو جائے تو مزیدمثبت راستے خود بخود نکل آئیں گے ورنہ تخریبی سوچ سے خون ہی خون اور لاشیں تو مل سکتی ہیں نہ انقلاب آئے گا اور نہ ہی کوئی جہاد ہو پائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button