Anwar Ul HaqColumn

عمران خان، شہباز شریف اور پارلیمان .. میاں انوار الحق رامے

میاں انوار الحق رامے

 

پوری قوم ذہنی اور فکری انتشار میں مبتلا ہے کہ ہمارا ملک کس نہج پر مسابقت کی دنیا میں روبہ زوال ہو رہا ہے، ملک کے وہ نوجوان جن کی عمریں 15 سے 30 سال تک ہیں سب سے زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں، ان کی سوچوں کے اندر طوفان جنم لے رہے ہیں کہ ہمارا ملک دنیا کے مقابلے میں پس ماندہ اور غیر ترقی یافتہ کیوں ہے، کشکول گدائی ہمارا قومی نشان کیوں بن چکا ہے، مملکت کے چہرے پر خوشحالی اور شادمانی کی بجائے چہرے پر مایوسی اور بدگمانی کی جھریاں نمایاں کیوں ہیں،چوپالوں سے لیکر ڈرائنگ روموں تک، کھیت و کھلیان سے لیکر آراستہ ایوانوں تک، اس قومی المیے پر بحث ہو رہی ہے کہ پاکستان ان شش جہت بحرانوں سے کیسے نکلے گا، پنجاب اورخیبر پختونخوا میں ببانگ دہل کہا جا رہا ہے کہ صاف و شفاف انتخابات ملک کو استحکام بخش سکتے ہیں، کیا حکمرانوں کے بدلنے سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے، ملک کے اصلی وارث اور مقتدر حلقے تو انتخابات کے بعد بھی اپنے اپنے مقامات عالی شان پر متمکن رہیں گے، 1985ء سے اب تک بہت انتخابات منعقد ہو چکے ہیں، اور کئی بار تو قبل از وقت انتخابات کا عذاب بھی قوم نے جھیلا ہے، لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں کیا قوم کو حقیقی آزادی ملی ہے، ہمارے ہاں ہر مقام پر یہ جملہ مستعمل ہے۔ پارلیمان سب سے بالا ترادارہ ہے، پاکستان کی سپریم کورٹ سے لیکر قابل فخر مسلح افواج کی بیرکوں سے آواز گونجتی ہے کہ پارلیمان سپریم ہے، جمہوریت پارلیمنٹ کی مضبوطی سے ہی مستحکم اور مضبوط ہوتی
ہے، یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں بھی ایک حقیقی، فعال، جمہوریت ملک میں حقیقی آزادی اور مستحکم نظم مملکت ہو سکتا ہے، جمہوریت کی بقا ء کیلئےقومی سیاسی پارٹیوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، جن کا ڈھانچہ بھی عملی و فکری طور پر جمہوری ہو، ترقی پذیر ممالک میں جمہوری سیاسی پارٹیاں بھی کسی
نابغہ روزگار شخصیت کی محتاج ہوتی ہیں،مقبول شخصیات سیاسی جماعتوں پر حاوی ہو جاتی ہیں اور پارٹی کی ساری سیاسی سرگرمیاں ان کے ارد گرد ہی گھومتی رہتی ہیں، سیاسی قائدین ضلعی، صوبائی، قومی سطح پر کنونشن منعقد کرنے کی بجائے اپنے کارکنان کو جلسے جلوس اور احتجاجوں میں مصروف رکھتے ہیں، ملک میں کسی بھی قومی سیاسی پارٹی کے پاس شیڈو کیبنٹ کا تصور موجود نہیں ، سیاسی جماعتوں پر لازم ہونا چاہیے کہ ہر شعبہ حیات کی اصلاح کیلئے ان کے تھنک ٹینکس نے کیا کیا مسائل کے حل تلاش کئے ہیں،موجودہ پارلیمنٹ مکمل پارلیمنٹ نہیں ہے ایک بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف پارلیمانی سیاست سے احتجاجی طور پر الگ ہو چکی ہے، تحریک انصاف کا کمال یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی
ہونے کے باوجود قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیکر اتحادی حکومت کے پرخچے اڑانے میں کامیاب رہتی ہے، تحریک انصاف کیلئے بہتر تھا کہ وہ پارلیمان کی کارروائیوں میں حصہ لیکر قومی فلاح کے منصوبوں میں اپنا حصہ ڈالتی،موجودہ حالات میں پارلیمان نامکمل بھی ہے اور یکطرفہ بھی، یکطرفہ پاس کئے قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہے، جس قانون کی پشت پر قومی ہم آہنگی نہ ہو ایسے قوانین عدالتوں میں چیلنج ہو جاتے ہیں، اس طرح غیر پارلیمانی ادارے پارلیمنٹ پر حاوی ہو جاتے ہیں، سیاست دانوں کے اس غیر دانشمندانہ طرز عمل نے عوام کی عزت و وقار والی پگ کو عدلیہ کے سامنے ڈھیر کر دیا ہے، پارلیمنٹ سے باہر عوامی لیڈروں کے تقریریں جب پارلیمان میں کی گئی تقریروں پر حاوی ہو جاتی ہیں تو پارلیمنٹ صرف ایک بے مقصد بحث و تمحیص کا مرکز بن کر رہ جاتی ہے۔
ہمارے ملک میں رائج پارلیمانی جمہوریت کا یہ المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت پر انحصار کرنے کی بجائے منتخب ہونے والے افرادپر انحصار کرتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی نے 1970ء کے انتخابات میں ذوالفقار بھٹو کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے عام سیاسی کارکنان کو انتخابات میں کامیابی دلوا دی تھی، لیکن 1977ء کے انتخابات جن لوگوں کو 1970ء میں انتخابی شکست سے دوچار کیا تھا انہی لوگوں کو الیکٹیبل سمجھ کر ٹکٹ سے نوازدیا تھا، پارلیمنٹ میں جس تناسب سے الیکٹبل کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا اسی مناسبت سے عوامی مسائل پر گفتگو کم ہوتی جائے گی، ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے ، جہاں منظم قومی سیاسی پارٹیاں ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں جو کارکنان کی مرضی و منشا سے ہم آہنگ ہوں۔
پاکستان کی عدلیہ اور پارلیمان کے سامنے لاپتا افراد کا مسئلہ ایک قومی سانحہ بن کر طلوع ہو چکا ہے، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے آتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ مسنگ پرسنز کے حوالے سے اس معاملے کا شافی حل تلاش کریں گے،انہوں نے دیانتداری کے ساتھ مختلف حکومتوں کے ساتھ مل کر کوششیں بھی کیں لیکن مسئلہ بدستور اپنی جگہ قائم اور باقی رہا، محترم جنرل باجوہ چھ سال کی طویل مدت میں اس مسئلے کو حل کرنے میں تمام تر کوششوں کے باوجود ناکام رہے،اب کیا نیا آرمی چیف اس مسلئے کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پوری پاکستانی قوم چیف کی طرف التجائی نظروں سے کیوں دیکھتی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کا آغاز فوجی حکومتوں کے دور سے شروع ہوا ہے اور اب تک جاری ہے، سیاسی حکومتیں بھی مسئلے کے حل کیلئے فوج کی طرف دیکھتی ہیں، موجودہ اتحادی حکومت نے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ سے کرمینل لا امنڈمنٹ بل 2022ء منظور کروایا ہے جس میں جبری گمشدگی کو جرم قرار دیا گیا ہے، گم شدگی میں ملوث افراد کیلئے قید اور جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے، یاد رہے یہ وہی بل ہے جو عمران خان کے دور حکومت میں قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا تھا اور سینیٹ اس پر کنڈلی مار کر بیٹھ گئی تھی، ابتدائی بل میں ایک بڑی نمایاں خرابی تھی کہ اگر شکایت کندہ الزام ثابت نہ کرسکے تو اسے پانچ سال قید اور جرمانے سے نوازا جائے گا، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ابتدائی بل کی اس شق کو مسترد کر دیا تھا، اب شہباز شریف حکومت نے اپنے ایک معتبر اتحادی اختر مینگل کے زور دینے پر اس متنازعہ شق کو نکال کر بل منظور کر لیا ہے،اس بل کی منظوری کے بعد بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ نوجوانوں غائب ہو رہے ہیں، موجودہ پارلیمنٹ کی بے بسی اور لاچارگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گزشتہ سال ایک صحافی مدثر نارو کی گمشدگی کے مقدمے کی سماعت شروع کی تھی، مدثر نارو کو فیس بک پر ایک قابل اعتراض حملہ پوسٹ کرنے پر غائب کر دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ اسلام آباد نے براہ راست وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے وعدہ لیا کہ وہ مدثر نارو کو جلد از جلد باز یاب کروائیں گے، لیکن وزیر اعظم اپنا وعدہ ایفا کرنے میں ناکام رہے، شہباز شریف نے عدالت میں کھڑے ہو کر وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور مدثر نارو کو ان کے اہل خانہ کے سپرد کریں گئے،محترم اطہر من اللہ سپریم کورٹ تشریف لے گئے ہیں ، اگلی پیشی پر شہباز شریف غائب ہو گئے، اس طرح نہ صرف پارلیمان کا مذاق اڑایا گیا بلکہ آئین و قانون کو رسوا کر دیا گیا، اور بہت سے لوگ مسنگ پرانسز کے حوالے سے عدل و انصاف کی مانگ کر رہے ہیں، جس قوم کے حکمران اور مقتدر ادارے قوم کو عدل و انصاف نہ فراہم کر سکیں وہ قومیں تقدیر کی زنجیروں میں جکڑ دی جاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button