Editorial

پاکستان کا مقدمہ ڈٹ کر پیش کیا جائے!

 

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب اور اس موقع پر ہونے والی ملاقاتوں میں دنیا کو پاکستان میں سیلاب سے پیدا ہونے والے انسانی المیہ کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ منگل کو وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ وہ دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کریں گے اور پاکستان میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ دلائیں گے۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود ہیں اور جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والے عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں بھی کررہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے پاکستانی قوم کا مقدمہ بہت ہی عمدہ اور مدلل طریقے سے پیش کرنا چاہیے اور یقیناً وہ ایسا ہی کریں گے کیونکہ یہی وقت ہے کہ اقوام عالم خصوصاً اُن ممالک کو بیدار کرنے کا، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار ہیں اور اُن کی وجہ سے آج پاکستان سیلاب کی صورت میں تباہی وبربادی کا سامنا کررہا ہے۔ بلاشبہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں زیادہ تباہ کن سیلاب آنے کا خدشہ مختلف ذرائع سے ظاہر کیا جارہا تھا اور موجودہ حالات سے وہ خدشہ درست ثابت ہوا ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے صرف سیلاب ہی نہیں بلکہ قبل ازیں ہم درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے خشک سالی اور شدید گرمی کی لپیٹ سمیت معمول سے کہیں زیادہ بارشوں کی وجہ سے بھی مسائل سے دوچار ہیں اور اِن سب پریشانیوں کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہی ہیں جو فضا میں زہریلی گیسز اور زہریلے فضلے چھوڑنے کی وجہ سے رونما ہورہی ہیں اور جو ترقی یافتہ ممالک ایک صدی سے زائد کرہ ارض پر اِس کے مسلسل ذمہ دار ہیں اُن کے سامنے وزیراعظم شہبازشریف پاکستان کا مقدمہ پیش کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام عالم خصوصاً آلودگی پیدا کرنےوالے ممالک کو اِس معاملے پر اپنی تشویش ظاہر کرنی چاہیے اور فوراً ایسے اقدامات عمل میں لانے چاہئیں جن کے نتیجے میں ایک طرف تو مزید آلودگی پیدا نہ ہو اور دوسری طرف اپنی ہی پیدا کردہ آلودگی کا خاتمہ ممکن ہو۔ اگرچہ فضائی آلودگی پیداکرنے والے بعض ممالک نے جہاں آلودگی پیدا کرنے کا سلسلہ جاری و ساری رکھا ہوا ہے وہیں اپنے ہاں اس کے نتیجے میں ہونے والے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے بھی کچھ تدابیر اختیار کی ہوئی ہیں اور بڑی حد تک وہ موثر بھی ثابت ہورہی ہیں لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ فضائی آلودگی اب ایک دو یا پانچ دس ممالک کے لیے مسئلہ نہیں رہی اب یہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ آلودگی تیزی سے پھیل کر کم و بیش پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور اِس کے تباہ کن اثرات اب رفتہ رفتہ اُن ممالک پر اثر انداز ہورہے ہیں جو اِس خوفناک چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار نہیں تھے اور حالیہ غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ثابت کیا ہے کہ ہم بھی اِس معاملے پر قبل ازوقت اِتنے متحرک نہیں تھے جیسے متحرک
ہمیں ہونا چاہیے تھا، یہی وجہ ہے کہ ہم اتنے وسیع پیمانےپر بارشوں اور پھر اِس کے نتیجے میں ہونے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوگئے ہیں حالانکہ جب اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ماحولیات پوری دنیا کو اِس حوالے سے متنبہ کررہا تھا، ہمیں بھی اس وقت اپنے ہاں وہ تمام تر اقدامات اور تیاریاں مکمل کرلینی چاہئیں تھیں جن کے نتیجے میں ہم حالیہ تباہی و بربادی سے محفوظ رہتے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیات کے جانب سے جاری ہونے والی تمام رپورٹس، جائزوںاوراعلانات کے باوجود بظاہر بین الاقوامی معاہدوں کے ایسے متاثر کن نتائج برآمد نہیں ہوئے ،جیسے ہونے چاہئیں تھے، یہی وجہ ہے کہ موسمی تغیرات اور تبدیلیوں کی وجہ سے سمندرکی سطح بلند، گلوبل وارمنگ، وبائی امراض، خشک سالی ،سیلابوں اور سمندری طوفانوں میں اضافہ ہورہا ہے مگر آلودگی پیدا کرنے کے ذمہ دار ممالک اِس جانب توجہ مبذول کرانے کے باوجود خاموش ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ پڑوسی ملک بھارت بھی آلودگی پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے مگر بھارتی حکومت کی طرف سے اِس ضمن میں عملی اقدامات کبھی سامنے نہیں آئے مگر اِس کی پیداکردہ آلودگی سے ایک طرف پاکستان میں موجود گلیشیئرز تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں تودوسری طرف درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید گرمی کی لہر کا بھی پاکستانیوں کو سامنا ہے۔ رہی سہی کسرفصلوںکی باقیات جلاکر بھارت پوری کررہا ہے جس کے نتیجے میں سردیوں کے موسم میں نصف سے زائد پاکستان سموگ کی زد میں آتا ہے اور عوام نہ صرف اِس آلودہ فضا میں سانس لیکر بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں بلکہ نظام نقل و حرکت اور نقل و حمل بھی شدید متاثر ہوتا ہے، موٹر ویز بند کرنا پڑتی ہیں، فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوتا ہے، ٹرینوں کی آمدورفت متاثرہوتی ہے مگر پھر بھی پاکستان کے احتجاج کے باوجود بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل آلودگی پیدا کیے جارہا ہے جو افسوس ناک ہے۔لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف اِس معاملے کو پوری دنیا کے سامنے اُٹھائیں اور اقوام عالم کے سامنے اِس تباہ کن صورت حال کی منظر کشی بھی کریں جس صورت حال کو انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس عینی شاہد ہیں۔ اقوام عالم بالخصوص آلودگی پیدا کرنے والے ممالک کو موجودہ صورت حال میں آگے بڑھ کر پاکستان کو موجودہ صورت حال سے باہر نکالنے میں اپنا کردار اداکرنا چاہیے اور مستقبل قریب میں فضائی آلودگی کے نتیجے میں غذائی بحران سمیت دیگر چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بھی پاکستان کی مدد کرنی چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہ کاریوں اور پیدا ہونے والے بحرانوں سے نمٹنا پاکستان یا کسی بھی دوسرے ترقی پذیر یا غریب ملک کے لیے ممکن نہیں اِس لیے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اسباب کو فوراً قابو کیاجائے وہیں اِس کے متاثرہ ممالک کی فوری امداد بھی ضروری ہے جو ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور خوش حالی کی قیمت طوفانی بارشوں، سیلاب اور غذائی بحران کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button