Columnمحمد مبشر انوار

فیصلہ کن لمحات .. محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

1985کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد، پاکستانی سیاست واضح طور پر ،ایک مخصوص طرز پر چلتی نظر آ تی ہے گو کہ اس سے قبل پاکستانی سیاست میں حقیقی جمہوری طرز سیاست اور جمہور کی آواز کبھی توانا نظر نہیں آئی لیکن ایک مختصر سا دورانیہ ایسا رہا ہے کہ جس میں جمہوریت تو تھی مگر اسے مخالفین کی طرف سے بالعموم جمہوری آمریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں آمریت کی ’خو‘ اس کے رگ و پے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے اور ہر حکمران اس کا اسیر نکلتا ہے ،معتدل شخصیت کا جیسے اس ملک میں قحط الرجال نظر آتا ہے، ماسوائے انہی غیر جماعتی انتخابات کے نتیجہ میں بننے والے وزیراعظم محمد خان جونیجو،جنہیں سیاسی اعتبار سے حقیقتاً جمہوریت پسند شخص کے ساتھ ساتھ معتدل مزاج حکمران بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ محمد خان جونیجو ایک طرف غیر جماعتی انتخابات کے نتیجہ میں وزیراعظم بنے تھے تو دوسری طرف ان کی جمہوریت سے وابستگی اس قدر تھی کہ جنرل ضیا سے اپنی پہلی باضابطہ ملاقات میں ہی مارشل لاء اٹھانے کا سوال کر دیا اور تیسری طرف سیاسی عمل کو بلاامتیاز جاری رکھنے کیلئے اپنی سعی کرتے یوں نظر آئے کہ سخت ترین سیاسی حریف پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو ایک سال سے بھی کم عرصہ میں اپنی جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس تشریف لے آئی اور لاہور میں10اپریل 1986میں اپنے فقید المثال استقبال کے بعد اپنی سیاسی جدوجہد کا دوبارہ آغاز کر دیا۔اپنے ہوش میں بے نظیر کے استقبال جیسا جلوس؍جلسہ لاہور کی تاریخ میں نہیں دیکھا تھا کہ ائیر پورٹ تا مینار پاکستان عوام کا جم غفیر اپنی قائد کے استقبال کیلئے امڈ آیا تھا البتہ آج کی سیاسی صورتحال میں عوام کی جتنی بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے شہروں میں عمران خان کے جلسوں میں نکل رہی ہے،ایسا منظر بھی ان آنکھوں نے اس سے قبل نہیں دیکھا۔ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت ایک طرف چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی تو دوسری طرف بے نظیر کی ذاتی شخصیت اور جمہوریت سے وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ،علاوہ ازیں! چیئرمین بھٹو کے کال کوٹھری سے بے نظیر کیلئے تاریخی الفاظ کہ عوام کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دے رہا ہوں،یہ وہ آخری وصیت تھی کہ جس کا پاس بے نظیر نے سیاسی قائد کی حیثیت سے مرتے دم تک کیااور اسی میں اپنی جان گنوادی۔
پاکستان کے ہر سیاسی قائدکی یہ خواہش ناتمام رہی ہے کہ وہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کو پنپتا دیکھے لیکن بدقسمتی بھی یہی ہے کہ ہمارے یہی سیاسی قائدین ہی جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے دکھائی دیتے ہیں۔ جمہوریت کا مقصد ہی یہ ہے کہ عوام کی حکومت،عوام کی بہتری کیلئے لیکن یہاں جمہوری سیاسی تھیٹر رچانے کا مقصد صرف اتنا رہ گیا ہے کہ مقتدر حلقوں میں یہ حقیقت واضح کر دی جائے کہ ہماری نمائندگی بہرطور عوام میں موجود ہے،یہ نمائندگی کس طرح حاصل کی جاتی ہے اور کیسے اس کو یقینی بنایا جاتا ہے،یہ کوئی راز نہیں رہ گیا۔ساری دنیا اس عوامی حمایت کے فلسفے سے باخبر ہے البتہ اسمبلیوں میں پہنچتے ہی عوامی استحصال شروع ہو جاتا ہے اور عوامی فلاح نجانے کس کونے کھدرے میں جا گرتی ہے کہ باوجود تلاش بسیار کے کہیں نظر نہیں آتی۔یہ ضرور ہوتا ہے کہ اقتدار جاتے ہی حکومتیں واویلا شروع کر دیتی ہیں کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا،ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے،طاقتور حلقوں کا دباؤ تھاوغیرہ وغیرہ ، یہ سب عذر ایک ہی صورت ممکن ہو سکتے ہیں کہ جب اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی ممکن ہی
ان حلقوں کی حمایت سے ہو، 1997میں نواز شریف کو دوتہائی اکثریت میسر تھی لیکن اقتدار جانے کے بعد نواز شریف یہی کہتے دکھائی دئیے کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ہاتھ بندھنے میں کس قدر حقیقت ہے یا افسانہ، اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ واقعتاً ایسا ہوتا ہے جس کی ایک وجہ حصول اقتدار کی خاطر کی گئی یقین دہانیاں ہیں تو دوسری طرف مقتدرہ کا ناقابل تردید کردار ہے لیکن مکرر عرض ہے کہ اس کردار کو روکنے کے اقدامات فقط سویلین قائدین کی ذاتی اخلاقی ساکھ ہو سکتی ہے، جس کی طرف سیاسی قائدین انتہائی کم توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔اس سیاسی ساکھ کی عدم موجودگی میں غیر سیاسی طاقتور قوتیں انتہائی آسانی کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو کھڈے لائن لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں اور عوام کی اکثریت اس غیر آئینی و غیر قانونی عمل کے خلاف باہر نکلتی دکھائی دیتی ہے،اس کا ماضی قریب میں شرمناک مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا ہے جب نواز شریف ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کہتے ہوئے سڑکوں پر نکلے مگر انہیں عوامی پذیرائی نہیں ملی۔ بہرکیف اس ایک عمل سے یہ کہنا یا سمجھنا کہ نواز شریف کا ووٹ بنک ہی ختم ہو گیا،سراسر غلط ہے لیکن پاکستانی قوم ایسے غیر آئینی و غیرقانونی اقدامات پر دو مواقع پر سڑکوں پر نکلی ہے۔ پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرانے پر یہ قوم والہانہ انداز میں سڑکوں پر نکلی تھی اور جنرل ضیا کے سخت ترین مارشل لاء کی مزاحمت کرتی دکھائی دی اور بھٹو کی محبت میں کئی ایک جیالوں نے خود سوزی کی کوشش بھی کی لیکن تب بھی اس قوم کی بدقسمتی رہی کہ پیپلز پارٹی کی صف دوم کی قیادت کے روابط جنرل ضیا کے ساتھ استوار تھے اور وہ چاہتے تھے کہ بھٹو کو سیاسی منظر نامے سے ہٹایا جائے تب وہ ضیا کی حمایت کر سکیں گے۔پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کو بجاطور پر
معروضی حالات کے پس منظر میں طاقتور سویلین حکومت کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو کی گرفت افسر شاہی پر مضبوط تھی اور بھٹو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ افسر شاہی کی طرف سے پیش کی جانے والی فائلوں کو پڑھا کرتے تھے لہٰذا افسر شاہی ان کو چکمہ نہیں دے پاتی تھی۔ بعد ازاں فائلز پڑھنے کے روایت معدوم نظر آتی ہے البتہ بے نظیر کے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ افسر شاہی کی طرف سے بھیجی جانے والی فائلز کو بغور پڑھتی تھی لیکن بے نظیر کی اخلاقی ساکھ زرداری سے موسوم سکینڈلز کی و جہ سے بری طرح متاثر ہو چکی تھی اور ان کی حکومتیں گرائے جانے پر بھی کوئی شدید عوام ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔
حالات کی ستم ظریفی کہیں یا سیاسی قیادت کی عاقبت نااندیشی کہ آج پھر پاکستان اقتدار و اختیار کی اسی رسہ کشی میں الجھا نظر آتا ہے کہ جس سے جان چھڑائے بغیر پاکستان آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔ حدودوقیود کا تعین ہی اس مملکت خداداد میں آج تک نہیں ہو رہا کہ کس کی کیا حد ہے اور کیا اختیار ہے؟ سیاسی و غیر سیاسی قائدین ذاتی انا و ناگزیریت کے بھنور میں پھنسے پاکستان کو تختہ مشق بنائے،اقوام عالم میں اس کا مذاق بنوا رہے ہیں لیکن آپس میں بیٹھ کر اپنی حدود کا تعین ان کیلئے محال ہے۔عمران خان اپنی حکومت گرنے کے بعد مسلسل عوام میں ہیں اور عوامی حمایت کے بل بوتے پر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ پاکستانی تاریخ کے واحد مقبول ترین قائد ہیں اور انہیں منظر سے ہٹانا مقتدرہ کیلئے قریباً ناممکن ہے جبکہ پاکستانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں بابائے قوم کی مقبولیت کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔ فخر ایشیا ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی تمام تر مقبولیت کے باوجود،عدالتی قتل کے ذریعہ منظر سے ہٹا دیا گیا ،بے نظیر بھٹو آخر دم تک عوام کے ساتھ جڑے رہنے کے باوجود،ایک عوامی اجتماع میں ہی منظر سے ہٹا دی گئی جبکہ دیگر کئی ایک سیاسی قائدین کو بھی ،جو خطرہ بنے یا بن سکتے تھے،منظر سے ہٹا دیا گیاماسوائے نواز شریف کہ جب بھی ابتلاء کا وقت آیا یا فیصلہ کن لمحات نوازشریف کے سامنے آئے تو نواز شریف نے مزاحمت کی بجائے جان بچانا ضروری سمجھا۔ ممکنہ طور پر نوازشریف کو پاکستانی تاریخ کا بہترحقیقت کا ادراک ہے کہ طاقتور حلقوں سے فیصلہ کن لڑائی میں ان کو ذاتی نقصان کا اندیشہ ہے اور نواز شریف نے بھٹو کی طرح تاریخ میں مرنے کی بجائے ضیاکے ہاتھوں قتل ہونے کو ترجیح دی،جس کا ثمر بہرکیف نواز شریف نے حاصل کیا۔اس پس منظر کو آج کے حالات پر منطبق کیا جائے تو ایک مرتبہ پھر پاکستانی عوام نے ایک سیاسی قائد سے امیدیں ہی وابستہ نہیں کیں بلکہ اپنی بھرپور حمایت اس کی جھولی میں ڈال دی ہے،جوق درجوق اس کے جلسوں میں اُمڈے آتے ہیں،اس کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے ،اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر اس کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ عمران خان پر ہی کیا موقوف ،کسی بھی سیاسی قائد کیلئے ایسی صورتحال کسی معراج سے کم نہیں اور وہ اس صورتحال سے بھرپور ثمرات کشید کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کوشش میں جو خطرات مضمر ہیں،ان کا احساس بھی یقیناً عمران خان کو ہے اور ان خطرات کی جھلکیاں بھی عمران خان دیکھ رہے ہیں کہ گجرات جلسہ سے قبل ہیلی کاپٹر میں فنی خرابی،واپسی پر روات کے قریب ان سے اگلی گاڑی میں آگ کا لگنا،حالیہ چکوال کے جلسہ میں اچانک پائلٹ کی طبیعت کا خراب ہونا، ان کے ساتھیوں کی گرفتاریاں اور تشدد،یہ سب تنبیہات کہلائی جا سکتی ہیں۔ عمران خان بلاشبہ موجودہ صورتحال کو فیصلہ کن لمحات کہہ رہے ہیں اور اسی لحاظ سے اپنی صفیں ترتیب دے رہے ہیں بالخصوص اپنے چکوال کے جلسہ میں جو تحریک عمران خان نے عوام کو دی ہے،اس سے تصادم کی بو بھی آ رہی ہے ،کیا عمران خان اپنی عوامی حمایت کو ریاست کے سامنے کھڑا کر رہے ہیں یا اس عوامی حمایت سے ان فیصلہ کن لمحات کو پاکستان کے حق میں بدلنے کی کوشش؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button