ColumnZameer Afaqi

مقامی حکومتوں کے ذریعے سیلاب متاثرین کی مدد ۔۔ ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی

ملک میں کوئی مشکل، مصیبت یا وبا پھوٹ پڑے، حکومت عوام کی داد رسی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، اس کی بنیادی وجہ ملک میں بلدیاتی نظام کا نہ ہونا ہے۔ کسی معاشرے کے مجموعی اخلاق اور کردار کی پہچان اس پر پڑے مشکل وقت سے ہوتی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں کس طرح کاکردار ادا کرتا ہے اور اس کا مجموعی رویہ کیسا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں بڑے ہی افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی انحاط کا نہ صرف شکار ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک بیمار معاشرہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس پر مستزاد کہ ہم خود کو پارسا کہلانے میں بھی بڑا فخر محسوس ہی نہیں کرتے بلکہ خود نمائی میں بھی دیگر معاشروں سے آگے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک کسی مصیبت کی گھڑی میں بلا رنگ و نسل و مذہب سب کی مدد کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں مسلک اور ذات برادری کو فوقیت دی جاتی ہے اور75برسوں سے ہم ایسا ہی دیکھتے آرہے ہیں اسی لیے تو اس ہجوم نما قوم کے اخلاق اور کردار پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔کسی مشکل اور مصیبت کے وقت انسانی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ضروریات زندگی اور ادویات قیمتوں میں اضافے کے ساتھ انہیں ذخیرہ بھی کر لیا جاتا ہے جس میں حکومتی اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں حالانکہ کسی بھی ریاست کی یہ ا ولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کرمنل مائنڈڈ سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے لیکن افسوس ناک حقیت سامنے آتی ہے کہ حکومت میں شامل افراد بھی ایسے موقع سے فائدہ اٹھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں جو حکومت مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو وہ اپنا حق حکومت کھو بیٹھتی ہے۔
اب آتے ہیں ہم بلدیاتی نظام کے فوائد کی طرف، دنیا بھر میں جہاں جہاں جمہوری طرز حکومت رائج ہے، وہاں آپ کو مقامی حکومتیں نظرآئیں گی، جن کا کام عوامی مسائل کا حل ہوتا ہے اور جہاں بادشاہت ہے وہاں کی تو بات ہی چھوڑیے لیکن آمرانہ جمہوریت میں بھی آپ کو مقامی حکومتوں کے نظام سے فرار نظر آئے گا، حالانکہ عوام کے مسائل کے حل کی ذمہ داری ہی مقامی حکومتوں کی ہے، جن سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں، ان کے قیام کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی ناپید ہے۔ آج مقامی حکومتیں ہوتیں تو وزیر اعظم ،وزرائے اعلیٰ کو گوڈے گوڈے پانی میں گھس کر جائزہ نہ لینا پڑتا اور نہ چوبیس چوبیس گھنٹے ’’مشقت‘‘ کرنی پڑتی ۔ کسی بھی محلے کے افراد سے جتنا وہاں کا کونسلر واقف ہوتا ہے دوسرا کوئی بھی نہیں ہو سکتا اس کے ساتھ ہی گلیوں اور محلوں میں پیدا ہونے والے چھوٹے موٹے مسائل کے حل کیلئے لوگ کونسلر سے رابطہ کرتے تھے، پولیس اور عوام کے درمیان کونسلر رابطے کا بھی بہترین ذریعہ ثابت ہوتے رہے ہیں اور مصیبت کے وقت بھی یہی کونسلر ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے تھے ۔مقامی حکومتوں کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی بانجھ ہے ۔جن عوامی نمائندوں کا کام قانون سازی کرنا تھا انہیں گلیاںپکی کرانے ، سڑکوں پر لگے بینر اتروانے، دیواروں سے وال چاکنگ ختم کروانے جیسے ’’عوامی فلاحی‘‘ کاموں پر لگا دیا گیا ہے، الٹی گنگا جمہوریت کے نام پر بہائی جارہی ہے۔ مقامی حکومتوں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے، پھر بھی ہمارے ہاں موجودہ حکومت کو جمہوری کہا جاتا ہے بلکہ ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کے بچانے کیلئے تمام جماعتیں یک جان و قالب بھی ہو جاتی ہیں۔
مقامی حکومتوں کا نظام پہلی بار برصغیر میں انگریز نے متعارف کرایا اور تمام بڑے شہروں میں بلدیاتی ادارے قائم کئے۔ قیام پاکستان کے بعد باقائدہ مقامی حکومتوں کا نظام ایک فوجی آمر جنرل ایوب نے 1960 میں متعارف کرایا جس کو بنیادی جمہوریت کا نام دیا گیا۔1972 میں دوسرا ایکٹ پیپلز ایکٹ منظور کیا گیا لیکن 1979 تک اس نظام کے تحت الیکشن کی نوبت ہی نہ آئی۔ 1979کے بعد دوسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے نیا نظام متعارف کرایا جس کے تحت 4 بار انتخابات کے ذریعے مقامی حکومتوں کی تشکیل ہوئی۔1998میں اس وقت کی جمہوری حکومت نے محصول چونگی اور ضلع ٹیکس ختم کر کے سلیز ٹیکس لاگو کر دیا جو مقامی حکومتوں کے معاملات میں وفاق کی مداخلت تھی۔
2001 میں پھر فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ڈی ویلویشن پلان کے نام سے مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا جو سابقہ ماڈلوں سے مختلف تھا اس نظام کے تحت ضلعی سطح پر طاقت کا مرکز افسر شاہی کے نمائندوں کے بجائے ضلع ناظم کے دائرہ اختیار میں لایا گیا دیہی کونسلوں کا امتیاز ختم کیا گیا۔ عوامی نمائندگی میں وسعت لائی گئی اور ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دی گئی۔ کسان ،مزدور اور اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستیں رکھی گئیں۔ مشرف کے نظام میں پہلی بار گراس روٹ لیول تک اختیارات منتقل ہوئے اور حقیقی معنوں میں عام آدمی کو فائدہ پہنچنا شروع ہوا۔ اس نظام نے بمشکل اپنی جڑیں پکڑنا شروع کی تھیں اور اس کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے کہ جمہوری حکومت نے اس نظام کو بھی آمر کا نظام کہہ کر ختم کر دیا اور دوبارہ 1979جیسا نظام متعارف کر کے دوبارہ اختیارات افسر شاہی کی گود میں ڈال دئیے اور بعد ازاں اس پورے نظام جو عوام کی فلاح و بہبود پر یقین رکھتا تھا، پر کرپشن کا الزام لگا کر اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔سابقہ جمہوری انصافی حکومت نے اپنی ساڑھے تین سالہ مدت میں بلدیاتی انتخابات نہ کرائے اور موجودہ جمہوری حکومت نے بھی ابھی تک مقامی حکومتوں کے قیام کیلئے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی بلکہ پورے کے پورے بلدیاتی ڈھانچے کو چوں چوں کا مربہ بنا کر رکھ دیا ہے، جبکہ ملک کی اعلیٰ عدالتیں مقامی حکومتوں کے قیام کیلئے زور دے رہی ہیں جس پر بھی لیت لعل سے کام لیا جارہا ہے ۔
ہمارے ہمسایہ ملک میں جمہوریت کیوں مظبوط ہے اور دنیا اس کی تعریف کیوں کرتی ہے اس کی بنیاد بھی مقامی حکومتوں کے نظام کا قائم ہونا ہی بتایا جاتا ہے وہاں جمہوریت کا پہلا تعارف دراصل مقامی حکومتوں کے ذریعے ہی ہوا تھا جب 1983 میں پہلی بار کلکتہ اور ممبئی میںمحدود نمائندہ حکومت قائم کی گئی اس نظام کی کامیابی نے ہی وہاں جمہوریت کو مضبوط کیا۔پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-Aصوبوں پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ انتظامی،مالیاتی اور سیاسی اختیارات اضلاع کو منتقل کریں کیونکہ مقامی حکومتوں کے نظام میں شہریوں کو بھر پور شرکت کا موقع ملتا ہے اور ان کی وطن کے ساتھ کٹمٹنٹ میں اضافہ ہونے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جذبہ ہمدردی اور خود اپنی ذات پر اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ مقامی حکومتوں کے بغیر شہری خود کو یتیم اور لاوارث سمجھتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کسی شہری کو اپنے کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے نمائندے کے نام سے بھی واقفیت کم ہی ہوتی ہے کیونکہ اشراف کا رابطہ ہی رعایا سے نہیں ہوتا۔ آج اگر مقامی حکومتیں فعال ہوتی تو سیلاب کی تباہ کاریوں میں مقامی نمائندوں سے بہتر اور اچھے انداز میں کام لے کر بہتر خدمات میں نام کمایا جاسکتا تھا لیکن اس کیلئے عقل اور ویژن کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button