CM RizwanColumn

ہمارے تقدیر زدہ وزرائے اعظم .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

عمران خان کے خلاف مقدمات کا گھیرا روز بروز تنگ ہوتا جارہا ہے اور ان میں سے چند مقدمات تو بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ زیبا بختیار صاحبہ کو ہزاروں افراد کے جلسے میں دھمکیاں لگانے کے جرم میں توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت میں عدالت نے ان پر 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے کر معاملے کی سنگینی سے پردہ اٹھادیا ہے۔ اکثر ماہرین قانون کی نظر میں اب عمران خان کا نااہلی سے بچنا ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور ہے۔ عمران خان گو کہ متفکر نظر آرہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ جس طرح ہمارا قانون چاہتا ہے وہ اس توہین عدالت کی معافی نہیں مانگیں گے۔ آج بھی یاد ہے کہ جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو نا اہل کیا جا رہا تھا تو تب بھی ہم نے لکھا تھا کہ عمران خان کو میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایسا کھیل ہے جس میں لڑتے لڑتے ایک دن وہ خود بھی مخالفین کے مقام پر ہوں گے۔ یہ بھی لکھا تھا کہ جب میاں نواز شریف کو نااہل کیا جا رہا تھا تب عمران خان کی نااہلی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ اس وقت میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجانے والے عمران خان دراصل اپنی نااہلی کی بنیاد رکھے جانے پر خوشی منا رہے تھے۔ یاد رکھیں یہ کھیل تب تک نہیں رکے گا جب تک ہمارے قومی سطح کے سیاستدان ایک دوسرے کی نااہلی پر تالیاں بجانا بند نہیں کریں گے بلکہ ایک دوسرے کی نااہلی کا راستہ روکنے کیلئے اور ملک میں خالص جمہوری روایات توڑنے کے درپے طاقتوں کے مقابل سیسہ پلائی دیوار نہیں بن جائیں گے۔ آج یہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت انہیں نا اہلی سے بچا لے گی حالانکہ جب میاں نواز شریف ناا ہل ہوئے تھے تب وہ بھی بہت مقبول تھے۔ مقبولیت ایک بہترین جواز تو ہوتا ہے لیکن مقبولیت نااہلی کو روک نہیں سکتی۔ عمران خان کے پاس وہ عوامی طاقت نہیں ہے جس سے وہ اپنی نااہلی کو روک سکیں۔ یہ تو 25 مئی کو ثابت ہو گیا تھا کہ عمران خان کی عوامی طاقت میں ریاست سے ٹکرانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کی عوامی طاقت میں ریاست سے ٹکرانے کی صلاحیت ہوتی بھی نہیں، عام لوگ ووٹ کی طاقت تو رکھتے ہیں لیکن یہ ریاست سے لڑنے کے قابل نہیں ہوتے۔ جہاں تک عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مذکورہ مقدمے کا تعلق ہے تو اس میں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ وہ اپنی طبعی اور روایتی ہٹ دھرمی اور خود کو اپنی مقبولیت کی بناء پر ہر قانون سے بالاتر سمجھنے کی وجہ سے نااہل ہونے جارہے ہیں ورنہ عدالت تو کسی بھی حوالے سے آئین اور قانون سے باہر کوئی اقدام کرنے نہیں جارہی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور 10 اپریل 2022 کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی۔پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کوئی بھی وزیر اعظم اپنی 5 سالہ مدت مکمل نہیں کرسکا۔ 75 سالوں میں پاکستان میں 29 وزرائے اعظم آئے ان میں سے 18کو کرپشن کے الزامات، براہ راست فوجی بغاوت اور حکمران گروپوں میں آپس کے اختلافات کی وجہ سے گھر بھیجا گیا جبکہ ایک وزیر اعظم کو قتل کیا گیا۔ باقی وزرائے اعظم نئے انتخابات کی نگرانی یا برطرف وزرائے اعظم کے دورِ حکومت کو چلانے کیلئے نگران کے طور پر محدود وقت کیلئے اس عہدے پر فائز رہے، سال 1993 خاص طور پر کافی منفرد رہا کیوں کہ اس سال 5 بار ملکی وزیر اعظم کو تبدیل کیا گیا۔ پاکستان میں کسی وزیر اعظم کا مختصر ترین دور دو ہفتے بھی رہا اورکسی بھی وزیر اعظم کی سب سے طویل مدت چار سال اور دو ماہ ہے جبکہ نواز شریف سب سے زیادہ تین بار (1990، 1997 اور 2013) میں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے انہوں نے اگست 1947 میں اقتدار سنبھالا لیکن بد قسمتی سے 16 اکتوبر 1951 کو ایک سیاسی جلسے میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان کا دور 4 سال اور 2 ماہ پر محیط رہا۔ خواجہ ناظم الدین نے 17 اکتوبر 1951 کو عہدہ سنبھالا لیکن انہیں مذہبی فسادات کو غلط سنبھالنے کے الزام میں17 اپریل 1953کو ملک کے گورنر جنرل نے برطرف کر دیا۔ وہ ایک سال 6 ماہ تک وزیراعظم رہے۔ محمد علی بوگرہ نے 17 اپریل 1953 کو عہدہ سنبھالا اور 11 اگست 1955 کو 2 سال 3 ماہ بعد استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے۔ چودھری محمد علی نے اگست 1955 میں اقتدار سنبھالا لیکن حکمران جماعت میں اندرونی اختلافات بالآخر 12 ستمبر 1956 کو ان کی برطرفی کا باعث بنے، ان کا عہد حکومت ایک سال اور ایک ماہ رہا۔ حسین شہید سہروردی نے 12 ستمبر 1956 کو عہدہ سنبھالا لیکن 18 اکتوبر 1957کو دیگر طاقتور اداروں کے ساتھ اختلافات کے بعد ان سے زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا۔ ان کی مدت ایک سال اور ایک ماہ رہی۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر
نے اکتوبر 1957 میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا لیکن انہوں نے 16 دسمبر 1957 کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، وہ دو ماہ سے بھی کم عرصے کیلئے وزیراعظم رہے۔ ملک فیروز خان نون نے 16 دسمبر 1957 کو وزیر اعظم کی کرسی سنبھالی لیکن 7 اکتوبر 1958کو پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی وجہ سے انہیں 10 ماہ سے بھی کم عرصے میں برطرف کر دیا گیا۔ نورالامین 7 دسمبر 1971 کو پاکستان کے وزیر اعظم بنے لیکن انہوں نے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے فوراً بعد 20 دسمبر 1971 کو استعفیٰ دے دیا، وہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے کیلئے وزیراعظم پاکستان رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973 کو اقتدار سنبھالا لیکن 5 جولائی 1977 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ان کا تختہ الٹ کر انہیں جیل بھیج دیا گیا اور ایک مقدمے میں سزا سنا کر پھانسی دے دی گئی، ان کا دور حکومت تین سال اور 11 ماہ پر محیط رہا۔ محمد خان جونیجو مارچ 1985 کو پاکستان کے وزیر اعظم بنے لیکن انہیں 29 مئی 1988 کو فوجی سربراہ نے برطرف کر دیا، وہ 3 سال اور 2 ماہ برسر اقتدار رہے۔ بینظیر بھٹو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور مسلم ممالک کی پہلی خاتون وزیر اعظم نے 2 دسمبر 1988 کو اقتدار سنبھالا لیکن ان کی حکومت کو 6 اگست 1990 کو صدر نے کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا، بینظیر ایک سال اور 8 ماہ وزیراعظم رہیں۔ محمد نواز شریف 6 نومبر 1990 کو ملک کے وزیر اعظم بنے، ان کی حکومت کو بھی صدر نے 18 اپریل 1993 کو کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا تھا۔ وہ چند ہفتوں بعد عدالت کے ذریعے اس فیصلے کو کالعدم کروانے میں کامیاب ہو گئے اور دوبارہ وزیر اعظم بنے لیکن فوج سے اختلافات کے بعد انہوں نے دوبارہ استعفیٰ دے دیا۔ ان کی مدت دو سال اور سات ماہ رہی۔ بینظیر بھٹو 19 اکتوبر 1993کو دوسری بار ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں لیکن انہیں 5 نومبر 1996 کو صدر کی طرف سے ایک بار پھر برطرف کر دیا گیا۔ اس بار ان کی مدت تین سال سے زائد رہی۔ محمد نواز شریف 17 فروری 1997 کو دوسری بار اقتدار میں آئے لیکن دو سال اور 8 ماہ بعد 12 اکتوبر 1999 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نومبر 2002 میں فوجی حکومت کے دوران وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن 26 جون 2004 کو فوج سے اختلافات کے بعد استعفیٰ دے دیا، وہ ایک سال اور 7 ماہ ملک کے وزیراعظم رہے۔ یوسف رضا گیلانی 25 مارچ 2008 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے، انہیں 4 سال اور ایک ماہ بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2012 میں توہین عدالت کے الزام میں نااہل قرار دیا تھا۔
نواز شریف 5 جون 2013 کو تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن انہیں 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے اثاثے چھپانے کے الزام میں برطرف کر دیا، اس بار نواز شریف کا دور حکومت 4 سال اور 2 ماہ رہا۔ عمران خان 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن 10 اپریل 2022 کو اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے باہر ہو گئے، ان کا دور حکومت 3 سال اور 7 ماہ پر مشتمل رہا۔ اب ان کے خلاف ایک ایسی عدالتی کارروائی شروع ہوچکی ہے جس سے خدشہ ہے کہ وہ اگلے پانچ سال تک نااہل ہو جائیں گے۔ ان حالات میں جہاں ایک طرف عوام کے گمبھیر اور لامحدود مسائل کا انبار ہے وہاں یہ امر مایوس کن ہے کہ جن قومی سیاستدانوں نے ملک کی تقدیر بنانی ہوتی ہے وہ خود تقدیر زدہ ہیں اور آئے روز جیلوں اور مقدمات میں پھنسے ہوتے ہیں۔ ایسے میں عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button