Columnمحمد مبشر انوار

پنجاب کا اقتدار ۔۔ محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پنجاب کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ،ستر کی دہائی میں بھٹو کو سنگھاسن پر جگہ پنجاب کی بدولت ہی ملی تھی کہ پنجاب نے جس وارفتگی و محبت کا اظہار بھٹو سے کیا تھا،وہ بھٹو کو اقتدار کی سیج تک لے گئی تھی۔ بعد ازاں بھٹو مخالفت میں مقتدر حلقوں نے پنجاب کو کبھی پیپلز پارٹی کے پاس نہیں جانے دیا اور اس مقصد کیلئے ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ نعرہ لگا کر نواز شریف کیلئے اقتدار کی راہ ہموار کی گئی۔ پنجاب کے متعلق بالعموم باور کیا جاتا رہا ہے کہ پنجاب نے غیر پنجابیوں کی حمایت کی ہے اور یہاں غیروں کی حکومت رہی ہے۔اس مفروضے کی بنیاد پر جب نواز شریف کو متبادل پنجابی قیادت کے طور پر پیش کیاجار ہا تھا تو اس لسانی نعرے کو بنیاد بنا کر نواز شریف کو پنجاب سے اکثریت دلائی گئی اور محترمہ بے نظیر کی تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود،پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کیلئے پنجاب کے دروازے بند کر دئیے گئے۔بعد ازاں زرداری کی مفاہمانہ سیاست نے،پنجاب میں کارکنان کی رہی سہی امید کو بھی زندہ دفن کر دیا اور بھٹو کے جیالے بتدریج پیپلز پارٹی سے دور ہوتے چلے گئے، ان کی اکثریت نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی توکئی ایک نون لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے کہ ایسی مخالفت یا مزاحمت کا انہیں کوئی فائدہ نظر نہ آیا کہ جب قیادت ہی ان کی پشت پر موجود نہیںاور ان کے جائز کام تک نہ ہو پائیں۔ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے جیالوں کی اکثریت کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کا منشور ہی ’’سٹیٹس کو‘‘ کے خلاف شدید مزاحمت رہی ہے ،جو موجودہ حالات میں تحریک انصاف اس کا علم اٹھائے ہوئے ہے، البتہ یہ الگ بات ہے کہ تحریک انصاف اقتدار سے نکلنے کے بعد اب صحیح معنوں میں ’’سٹیٹس کو‘‘ کے خلاف بروئے کار آ رہی ہے۔تاہم پاکستانی سیاست میں بھٹو جیسا ذہین و فطین قائد بھی سٹیٹس کو ،کو توڑنے میں ناکام رہا بلکہ اس کی سازشوں کا شکار ہو کر پھانسی کے پھندے پر جھول گیااور آج کی پیپلز پارٹی ،جو بہرکیف کسی طور بھٹو کی پیپلز پارٹی نہیں کہلا سکتی،بھٹو کے بنیادی فلسفے سے منکر ہوکر ڈرائنگ روم کی جوڑ توڑ کی سیاست میں مشغول ہو چکی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پیپلز پارٹی اب فقط اندرون سندھ کی جماعت بن چکی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی یہ اجارہ داری بھی اب ختم ہوتی نظر آ رہی ہے کہ حالیہ سیلاب میں جو کارکردگی پیپلز پارٹی کی رہی ہے،جس طرح وڈیروں نے اپنی فصلیں؍زمینیں بچانے کیلئے غریب ہاریوں کے گوٹھ کے گوٹھ اجاڑ دئیے ہیں اور امداد کے نام پر ووٹ کیلئے حلف لئے گئے ہیں،پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے دوروں کے دوران عوامی احتجاج نے پیپلز پارٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بہرحال پنجاب کے حوالے سے یہ حقیقت بھی آشکار ہو چکی ہے کہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے جو سیاسی جماعت یہاں اکثریت حاصل کرتی ہے،وفاق میں اس کی حکومت بننا یقینی ہوتا ہے،اسی وجہ سے ستانوے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود نواز شریف نے اپنی سیاست کا مرکز و محور صرف پنجاب پر رکھا ۔ اس کے پس پردہ حقائق بھی ساری دنیا جانتی ہے کہ کس طرح ستانوے کے انتخابات میں نواز شریف کو دو تہائی اکثریت میسر ہوئی لیکن بعد ازاں نواز شریف نے خود کو پنجاب تک محدود کر لیااور پنجاب میں بھی جس طرح اپنی اکثریت کو قائم رکھنے کی کوششیں رہی ہیں،اس میں کم ازکم مجھے کوئی شک نہیں رہا ہے۔ اس حقیقت کے متعلق اعتزاز احسن بارہا اپنی رائے کا اظہار میڈیا پر کر چکے ہیں کہ شریف خاندان نے کبھی ایک دو درختوں کی آبیاری نہیں کی بلکہ انہوں نے اداروں میں پورے جنگل کی آبیاری کی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ افسر شاہی کا رجحان بھی شریف خاندان کے ساتھ رہا ہے۔شریف خاندان کی اجارہ داری میں دوسرا بڑا عنصر ان کا کوئی مد مقابل نہیں رہا اور وہ اس میدان میں بلا شرکت غیرے حاوی رہے ہیں لیکن اب صورتحال کلی طور پربرعکس ہے کہ عمران خان نہ صرف پنجاب میں اپنی اکثریت ثابت کر چکا ہے بلکہ اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ کسی چھوٹے سے شہر میں بھی اگر جلسہ رکھے تو پورے کا پورا شہر اُمڈ آتا ہے،اس کی حالیہ مثال عمران خان کا چشتیاں کا جلسہ ہے کہ جہاں غیر جانبدار حلقوں کے مطابق پورا شہر عمران خان کے جلسہ میںاُمڈ آیا ۔یہ صورتحال شریف خاندان کیلئے سوہان روح بن چکی ہے اور عمران خان ایک عفریت کی مانند ان کے اعصاب پر سوار ہے، گو کہ اس وقت شریف خاندان وفاق پر حکومت کرر ہا ہے اور افسر شاہی کی ہمدردیاں فی الوقت شریف خاندان کے ساتھ نظر آتی ہیں لہٰذا یہ سمجھنا کہ ان جلسوں کی بنیاد پر عمران خان اکثریت بھی حاصل کر لیں گے،قبل ازوقت ہے لیکن ضمنی انتخابات کا نتیجہ اس کا غماز ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف اپنے جلسوں میں شریک ہونے والی عوام کا ووٹ پولنگ سٹیشن پر لانے، ڈلوانے اور اس کا تحفظ کرنے میں تیار ہو چکی ہے۔شریف خاندان اور ان کے سرپرستوں کیلئے یہ اتنا آسان نہیں ہو گا کہ ماضی کی طرح پنجاب میں شریف خاندان کو اکثریت دلواسکیں البتہ یہ ضرور ہے کہ عمران خان کی توقعات کے برعکس واضح اکثریت عمران خان کو نہ مل سکے۔
اس سے بھی اہم ترین حقیقت نواز شریف کی واپسی اور فوری طور پر پنجاب حکومت کا حصول ہے تا کہ نواز شریف کی واپسی پر انہیں پنجاب،اپنے گھر میں،
کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ اس مقصد کیلئے پی ڈی ایم ایک مرتبہ پھر متحرک نظر آتی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح چودھری پرویز الٰہی کو اپنے جال میں پھانس کر عمران خان کے ساتھ ان کے اتحاد کو توڑا جائے۔ بے شک وزیراعلیٰ کی مسند چودھری پرویز الٰہی کے پاس ہی رہے لیکن ان کی نامزدگی پی ڈی ایم کی جانب سے ہو یا اس کیلئے دوسرا طریقہ کاراختیار کیا جارہا ہے کہ کسی طرح تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو مستعفی ہونے کی ترغیب دی جائے اور اسمبلی میں اکثریت ختم کر کے دوبارہ عدم اعتماد لائی جائے۔سیاسی داؤ پیچ مسلسل زیر استعمال ہیں لیکن تاحال ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اس میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔ ایسے وقت میں جب عمران خان کا جادو پورے پاکستان میں سر چڑھ کر بول رہا ہے،کون رکن اسمبلی اپنی سیاسی خود کشی کرنے کیلئے تیار ہو سکتا ہے؟یہی صورتحال چودھری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی بھی ہے کہ اگر مقصد وزارت اعلیٰ ہی ہے تو اچھی بھلی میسر وزارت اعلیٰ کو چھوڑ کر دوسری کشتی میں سوار کیوں ہوا جائے؟ بالخصوص اس وقت جب چودھری پرویز الٰہی بارہا ببانگ دہل کہہ چکے ہوں کہ شریف خاندان پر وہ کسی صورت اعتبار نہیں کر سکتے کہ وہ پہلے ہی ان کے ڈسے ہوئے ہیں۔گجرات جلسہ میں جو پذیرائی وہ عمران خان کو دے چکے ،جس قربت کا اظہار وہ کر چکے،جو یقین دہانی وہ عمران خان کو کروا چکے ہیں،اس کے بعد یہ قیاس کہ چودھری پرویز الٰہی باقی ماندہ مدت اسمبلی میںعمران خان کو چھوڑ جائیں گے،بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ علاوہ ازیں! گجرات کے چودھریوں کا یہ شعار نہیں رہا کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جائیں،گو کہ مرکز میں چودھری شجاعت کا دھڑا عمران خان کے مخالف ہے لیکن اس میں بھی چودھریوں کا مفاد ہی مد نظر رکھا گیا ہے اور اس وقت چودھریوںنے دونوں دھڑوں میں اپنی اہمیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔کہنے والے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ دو کشتیوں میں سوار ہیں لیکن یہ حقیقت بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ دو کشتیوں میں دو سوار ہیںاور مستقبل میں یہ دو سوار پھر اکٹھے ہو سکتے ہیں کہ اس کو خالصتاً سیاسی حکمت عملی کا نام دیا جا سکتا ہے اوران کاخاندانی نظام ایسا ہے کہ وہ بہت دیر تک الگ نہیں رہ سکتے۔
اس پس منظر میں شریف خاندان کی یہ توقع کہ وہ پنجاب میں فوری اقتدار حاصل کر لیں ،بظاہر ممکن نظر نہیں آتا اور ان کی بلاشرکت غیرے اجارہ داری اب قائم رہتی دکھائی نہیں دیتی۔ عمران خان اس اجارہ داری میں حصہ دار تو بن چکا ہے لیکن اگر مقتدر حلقوں نے اپنی منقسم مینڈیٹ کی پالیسی جاری رکھی تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ چودھریوں کی حیثیت و اہمیت یونہی برقرار رہے گی اور چودھریوں کی حمایت کے بغیر پنجاب کا اقتدار ملنا مشکل ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button