ColumnImtiaz Ahmad Shad

پاکستان، پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ ۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

پاکستانی معاشرہ تمام تر انتشاری خصوصیات حاصل کرتے ہوئے تنزلی کی آخری آرام گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے، اب اس کے بارے میں صرف ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے، اور وہ یہ کہ یہاں کوئی بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی۔اب بے اصولی ہی اس کا اصول ہے، اس کے افراد جس تن دہی کے ساتھ ہمہ جہت تخریبی عمل میں مصروف ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے باشندوں کی نظر میں اس کی تخریب ہی اس کی تعمیر ہے، اور اس کی موت ہی اس کی زندگی ہے۔ کتنی ہولناک بات ہے کہ موت ہماری تلاش میں نہیں بلکہ ہم خود موت کی تلاش میں ہیں۔یہ سب جانتے ہوئے کہ ریاست کو بے دردی سے لوٹا گیا،اس کے وسائل عوام کے بجائے خواص پر خرچ ہوئے،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوا، مگر ریاست کے قانونی،آئینی اور انتظامی ڈھانچے میں وہ سکت ہی نہیں کہ وہ لٹیروں کو انجام تک پہنچا سکے۔ایک صدی پہلے جو خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھے ان کی تعبیر سے جتنے دور ہم آ ج ہیں، پہلے کبھی نہ تھے، اور ہمیں اس حقیقت کا جتنا کم احساس آج ہے، پہلے کبھی نہ تھا۔ اس مرحلے پر یہ امر کتنا ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے اس انتشار اور زوال کے اسباب تلاش کریں، مگر افسوس صد افسوس ہم یہ کام بھی نہیں کر پا رہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہماری یہ صورتِ حال دنیا کے دوسرے معاشروں سے مختلف ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ دنیا کے بہت سے معاشرے بھی ہماری جیسی صورتِ حال ہی سے دوچار ہیں اور دوچار ہورہے ہیں، مگر ہمیں یہ بھی تو تسلیم کرنا چاہیے کہ ان معاشروں نے اپنے زوال کے اسباب تلاش کرکے انہیں دور بھی کیا، وہ ہماری طرح ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ نہیں گئے۔ قومی تاریخ کے اس نازک دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعصب کی عینک اتار کر حتی الامکان غیر جانب داری کے ساتھ یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ اس وقت ہمارے معاشرے کی نفسیاتی، روحانی اور وجودی کیفیت کیا ہے؟ اور اس کیفیت کے اسباب کیا ہیں؟ اس سلسلے میں یہ اہم ترین ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے ان تمام تجزیوں کو نظرانداز کردیں، جو کسی خاص سیاسی اور سماجی مسلک کے تناظر میں کیے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں خالص انفرادی یعنی ذاتی نکتہ نظر کو اختیار کریں، ایسے نکتہ نظر کو جو ہمارے ذاتی تجربوں، مشاہدوں اور ادراکات کا نتیجہ ہو۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ بے پناہ گرد میں اَٹے ہوئے اس ماحول میں درست تجزیے تک پہنچنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔
پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے ایک سوال ہر جگہ اور بار بار پوچھا جاتا ہے کہ آخر پاکستان، پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ یا کیوں نہیں بن پا رہا ہے؟ اس سوال کے بہت سے جواب دیے جاتے ہیں۔ میرے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی بحران ہے ،جو وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔یہ پختہ حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو کر ہماری زندگی کاحصہ بن چکاہے،امانت،دیانت،صداقت، عدل و انصاف، عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اقداردن بہ دن کمزورپڑتی جارہی ہیں،کرپشن،بدعنوانی اور دیگر بیماریاں ناسور کی طرح معاشرے میںپھیلتی جا رہی ہیں، ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے،لوگ فکرِانسانیت سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات اور ان جیسے دیگر منفی رویوںکو اپنی زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ یہ وہ صورت حال ہے جس پر ہر شخص افسوس کرتا ہوا بھی نظر آتا ہے،اس صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لے کر ان عناصر کی نشان دہی کی جائے جو ہمارے اجتماعی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ اگر ہم نے اپنی اصلاح کی کوشش نہ کی تو اس کے کتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کی اخلاقی حس اسے خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کیلئے کوئی غلط راستہ اختیارنہ کرے تاہم جب انسان کی اخلاقی حس کمزور ہوجاتی ہے تو وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھونے لگتا ہے،ایسے انسان کی مثال اس جانور کی سی ہے جو ہر کسی کے کھیت کھلیان میں گھس جاتا ہے۔وہ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کرلیتا ہے، ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کے ادنیٰ جذبے آہستہ آہستہ ان پرغالب آجاتے ہیں،جس کے بعد انسانوں کے معاشرے میں جنگل کا قانون رائج ہوجاتا ہے اور آخر کار پوری قوم تباہی کا شکار ہوجا تی ہے۔اب ہر شخص کا ذہن کچھ اس طرح بن گیا ہے اور وہ خواہش کرنے لگاہے کہ ملک سے رشوت و بدعنوانی ختم ہوجائے۔مگر وہ خود رشوت لینا اپنا حق سمجھتا ہے،انفرادی طور پر ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ سب لوگوں کو ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، مگر جب تک ایسانہیں ہوتا اسے قانون کی خلاف ورزی کا حق ہے۔ تمام شہریوں کو اجتماعی اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہیے، مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا تو اسے اپنے مفاد کیلئے کوئی بھی حد توڑنے کا اختیار حاصل ہے۔لوگوں نے دیکھا کہ حکمران اورصاحب اختیار طبقات کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں توانہوں نے بھی، جہاں موقع ملا، بہتی گنگا سے ہاتھ دھونا، بلکہ غسل کرنا ضروری سمجھا، جب لوگوں کو کہیں سے انصاف نہ ملا توانہوں نے دوسروں پرظلم کرنے کو اپنے لیے جائز قرار دے دیا۔اب یہی سوچ کر ایک کلرک اور کانسٹیبل رشوت لیتا ہے کہ اسے تنخواہ کم مل رہی ہے،یہی سوچ کر ایک دکان دار ملاوٹ کرتا اور کم تولتا ہے کہ اس کے بغیر گزارا نہیں ہوتا، اسی فکر کے پیش نظر ایک غریب دوسرے غریب کا حق اسی طرح مارتا ہے جس طرح کوئی طاقتورکسی کمزورکے ساتھ کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد کا حال یہ ہوگیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت کے ظلم کا رونا روتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے ہم قوم و ہم مذہب لوگوں کے حقوق پامال کرتے جاتے ہیں۔ تیز رفتار گاڑی چلاکر لوگوں کو مار ڈالنے والے ڈرائیور، کھلے عام رشوت لینے والا ٹریفک کا سپاہی، بدعنوان سرکاری اہلکار، بددیانت تاجر اور ان جیسے دیگر جیتے جاگتے کرداردیکھنے کو عام ملتے ہیں،جو بیوروکریسی اورسیاست دانوں کی کرپشن کا گلہ بھی کرتے ہیں، مگر اپنے دائرہ اختیار میں یہ سب اتنے ہی بڑے ظالم ثابت ہوتے ہیں۔اس ظلم کے خلاف اپنے اندر سے جوآواز اٹھتی ہے، اسے دبانے کیلئے وہ اسی منفی سوچ کا سہارا لیتے ہیں کہ اس حمام میں جہاں سب ننگے ہوچکے ہیں، ہمارے لیے بھی اخلاقیات کا لباس اتارے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اس رویے کا سب سے برا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ظلم و بدعنوانی جس کا الزام اشرافیہ اور غیر ملکی طاقتوں پر عائد کیا جارہا تھا، اس میں تو کوئی کمی نہیں آئی، البتہ ایک عام آدمی کی زندگی اسی جیسے عام آدمی نے جہنم بنادی ہے۔اب تو صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ سوسائٹی میں پھیلی بد اخلاقی، ظلم اور بدعنوانی کا شکار ہونے والے اکثر لوگ کسی بڑے آدمی کے نہیں، بلکہ اپنے ہی جیسے عام آدمیوں کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ سب نتیجہ ہے اس سوچ کا جس میں اپنی جواب دہی کے بجائے دوسروں کی جواب دہی کویا د رکھا جاتا ہے۔جس میں اپنے دائرے کے بجائے دوسروں کے دائرہ اختیار پر زور ہوتاہے۔ جس میں اصلاح کا مطلب صرف دوسروں کی اصلاح ہوتا ہے۔حالانکہ دین نے ہمیں جو تعلیمات دی ہیں، وہ بالکل برعکس ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button