ColumnNasir Naqvi

خواب بکھر گئے! .. ناصر نقوی

ناصر نقوی

پہلے مہنگائی نے عوام کے جینے کا حق چھینا، پھر رہی سہی کسر سیلاب نے پوری کر دی۔ قوم انتظار میں تھی کہ اگر آئی ایم ایف کی قسط مل گئی تو قرض میں شاید سکون مل جائے گا۔ پڑھے لکھے لوگوں کا خیال تھا سیاسی استحکام آئے گاتو معاشی استحکام بھی ہو ہی جائے گا لیکن نہ پروگرام کے مطابق ادھار ملا اور نہ ہی سیاسی مفاہمت سے استحکام نصیب ہوا۔ عمران خاں کو حکومت اور اقتدار چھننے کا دکھ صبر و تحمل سے بیٹھنے نہیں دے رہا اور حکومت کو مہنگائی کے بعد سیلاب نے کہیں کا نہیں چھوڑا، حکمران اور سابق حکمران صرف اور صرف الزامات کی سیاست کرتے کرتے اس نہج پر آ چکے ہیں کہ قومی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے۔ان حالات میں دونوں دست و گریبان ہیں اور ان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پاکستان کی عوام ہے۔ گھر اُجڑے، کھیت کھلیان تباہ ہو گئے، خواب بکھر گئے۔ مصیبتوں کا ایک طوفان سامنے کھڑا ہے پھر بھی قوم کو حقیقی غلامی سے نجات دلانے کے دعوے دار عمران خان جلسوں سے اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں، یہی نہیں، انہیں اقتدار کے چھننے کا دکھ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے، لہٰذا ’’نہ جانے کیا کیا کہہ رہا ہوں جنوں میں‘‘ والا مسئلہ بنا ہوا ہے۔
تحریک انصاف کے کھلاڑی صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے چیئرمین کی حالت غیر ہوتے دیکھی تو رہ نہ سکے اور مشورہ نہیں، مشوروں سے نواز دیا، لیکن ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ اس لیے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ عمران خان اپنے کہے کا خود جواب دیں گے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خانِ اعظم کو صدارتی کرسی پر بیٹھ کر صحافیوں کی موجودگی میں تجاویز دینا بھلا نہیں لگا اس لیے ڈاکٹر عارف علوی نے فوراً نیا بیان داغ دیا اور اپنے آپ کو خان صاحب کے عتاب سے محفوظ بنا لیا، حالانکہ ایوان صدر میں رہتے ہوئے وہ کافی حد تک عمران خان سے محفوظ ہیں۔ پھر بھی چیئرمین کی طاقت کا خوف تو موجود ہے ویسے بھی جو بیانات صدر علوی کی ثالثی کی پیشکش کے بعد آئے ہیں وہ نشاندہی کررہے ہیں کہ ٹائیگر اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے زخموں کا حساب لینے کی منصوبہ بندی بھی کر چکا ہے۔ سمجھدار لوگ کہتے ہیں سیاست دان صرف تحمل، رواداری اور برداشت کے ساتھ عوامی جذبات سے کھیلتا ہے، خود ہرگز غصے میں نہیں آتا، لیکن عمران خان چونکہ نئی سیاسی تاریخ مرتب کر رہے ہیں اس لیے حقیقی آزادی اور غلامی سے نجات کے نعرے پر سیاست کی وکٹ پر جارحانہ انداز میں کھیل رہے ہیں، ان کا خیال ہے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا چورن صرف اور صرف جارحانہ انداز میں ہی بک سکتا ہے۔ پیار ،محبت اور رواداری ، مصلحت سے کوئی ان کی بات نہیں سنے گا، انہیں یہ بھی یقین ہے کہ لمحہ موجود میں ان سے مقبول اور ہردلعزیز کوئی دوسرا لیڈر نہیں بلکہ انہیں نادان دوستوں نے یہ بھی سمجھا دیا ہے کہ آپ بھٹو سے بھی زیادہ شہرت یافتہ اسلامی دنیا کے رہنما ہیں، اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ صرف اپنے ویژن کے مطابق خواب پورا کرنے کی خواہش میں مبتلا ہیں، قوم کے خواب بکھرتے ہیں تو بکھر جائیں، وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف میں ان جیسا زیرک، دانشمند اور سمارٹ کوئی دوسرا نہیں، خان صاحب قومی اداروں کے خلاف بغیر کسی رکاوٹ کے بول رہے ہیں اور ان کے نائب شاہ محمود قریشی بھی ان بیانات پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ بیٹی کے ضمنی الیکشن کی مصروفیت کے باعث لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ شیخ رشید اور فواد چودھری ان بیانات کے مطلب کچھ اور نکال رہے ہیں بلکہ فواد چودھری کا یہ بیان غور طلب ہے کہ خان نے
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے دو دو ہاتھ کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ 11ستمبر کے بعد سب کچھ منظر عام پر آ جائے گا، ملکی حالات سیاسی پس منظر میں بھی بے یقینی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ نقادوں اور تجزیہ کاروں سمیت میری رائے بھی یہی ہے کہ ستمبر ہر لحاظ سے خان اعظم کے لیے ستمگر ثابت ہو گا لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی طرح خان اعظم کے قریبی ساتھی انہیں سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں بلکہ وہ ان کے جذبات بھڑکانے میں اپنا اپنا کام ذمہ داری سے کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے ڈیوٹی فل ہر دور میں ہوتے ہیں جو کسی بھی غلط فہمی کو ہوا دے کر بڑھا دیتے ہیں، ابھی چند ماہ قبل خان اعظم نے بیان دیا تھا کہ آرمی چیف کا انتخاب وزیراعظم کا استحقاق ہے میرا نہیں، اس اصول پر بطور وزیراعظم انہوں نے سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کی تھی لیکن اب انہیں غداری کا دورہ پڑا تو پہلے تمام بڑے سیاستدانوں کو میر جعفر، میر صادق قرار دیا پھر زبان و بیان کی توپ کا رخ موڑ کر فوج کی جانب کر دیا حالانکہ وہاں سسٹم مضبوطی کے ساتھ نہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں وزیراعظم کی منظوری اور سپہ سالار کی مشاورت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
ان کے حالیہ جلسوں کے خطابات غمازی کرتے ہیں کہ انہیں نیا پاکستان، ریاست مدینہ اور حقیقی آزادی، غلامی نہیں کے نعروں میں صرف اپنی من مانی کرنی ہے۔ پاکستانی عوام کے خواب بکھرتے ہیں تو انہیں کیا، کوئی انہیں یہ بات سمجھانے کی زحمت بھی نہیں کر سکتا، کہ وقت ظالم شے ہے جسے بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ذرا سا غور کریں تو ابھی چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ انہیں بیان کی درستگی کا مشورہ دے رہا تھا اور اب اسی ہائی کورٹ نے پولیس کو بنی گالہ میں گھس کر تحقیقات کی اجازت دے دی ہے۔ پھر بھی خان اعظم
اپنے آپ کو کارنرڈ ٹائیگر اور زیادہ خطرناک قرار دے کر حکومت کے ساتھ قومی اداروں کو چیلنج کر رہے ہیں جبکہ حقیقی چیلنج سیلاب متاثرین کی بحالی ہے۔ دوسری جانب ایک چیلنج یہ ہے کہ ٹائیگر خونخوار ہو چکا ہے۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میں روز بروز خطرناک ہوتا جا رہا ہوں۔ یہ یقیناً انہوں نے حکومت کو نہیں، یہ دھمکی کسی اور کو دی ہے کیونکہ حکومت کے خلاف بولنا ان کا حق ہے وہ اپوزیشن میں ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو اس سے بالا سمجھتے ہیں لہٰذا جو منہ میں آ رہا ہے وہ بول رہے ہیں، ہر حکومت اپنے مخالفین اور اپوزیشن کے خلاف مقدمات بناتی ہے۔ عمران خاں نے بھی کسی کو نہیں بخشا، مقدمات بنے، پکڑ دھکڑ بھی ہوئی،سیاسی جماعتوں نے ردعمل دیا لیکن عوامی سطح پر برداشت کیا، صرف اس لیے کہ انہیں احتساب کے لیے مینڈیٹ دیا تھا پھر بھی ساڑھے تین سال میں کسی کو سزا نہیں ہو سکی، اور موجودہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ آج یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم نے کسی کی گاڑی میں چرس رکھ کر مقدمہ نہیں بنایا، عمران خان صاحب اپنے نادان دوستوں اور اپنے مخصوص ایجنڈے پر جلسے میں کوئی نئی پھلجڑی چھوڑ کر سابق بیانوں کی درستگی کی کوشش کرتے ہیں لیکن نتائج الٹ یوں نکل رہے ہیں کہ جلسے کے شرکاء کی تعداد پر جوش جذبات میں وہ کچھ بول جاتے ہیں کہ ایک نیا سیاپا پڑ جاتا ہے۔ ضدی اور لاڈلے بچے کو ہر موقع پر محفوظ راستہ دیا جاتا ہے پھر بھی زبان کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی نئی مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ جلسہ فیصل آباد کا ہو کہ بہاولپور اور پشاور کا، ہر جلسے میں کوئی نہ کوئی بات قابل اعتراض موجود ہے کیونکہ پاکستان کے آئین، قانون اور روایات سے اختلاف رکھتے ہیں پھر بھی دوسرے غدار، میر صادق، میر جعفر ہیں اور وہ انتہائی ذمہ دار پاکستانی، اسلام آباد کی عدالت سے دہشت گردی کے مقدمے میں ضمانت ملی، تو بھی عدالت میں جج زیبا چودھری سے معافی نہیں مانگی تاکہ وہ اسے سکینڈل بنا کرخبروں اور ان کا سوشل بریگیڈ کھیل سکے، پھر بھی خوش نہیں بلکہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مجھے ایک سوچی سمجھی سازش کے تخت دیوار سے لگایا جا رہا ہے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گی۔ اب پشاور میں اپنی ہوم گرائونڈ میں خوب گرجے برسے، نتیجتاً غداری کا مقدمہ بنوا بیٹھے، وہ اپنے غصے اور جذبات میں بھول گئے کہ سپہ سالار کی تقرری قومی ادارے کے میرٹ اور وزیراعظم کی صوابدید پر ہوتی ہے، حالانکہ اپنے دور حکومت میں وہ خود اپنے دستخط سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع ملازمت دے چکے ہیں پھر یہ شوشا چھوڑ دیا کہ ایسا نہیں ہونے دوں گا کہ چور، ڈاکواور لٹیرے نواز شریف اور آصف زرداری اس اہم عہدے کی تقرری کریں، دنیا ہمارا مذاق بنا رہی ہو گی کہ پاکستان کیسی ایٹمی طاقت ہے جہاں ایک اچھی اور پیشہ ور فوج کے سپہ سالار کی تقرری میں بھی پھڈا ہوتا ہے وہ یقیناً عمران خان کے ان عجیب و غریب بیانات پر بھی مسکراتے ہوں گے کہ ایک سابق وزیراعظم کتنی غیر ذمہ دارانہ بحث کے ذریعے سیاست میں ہر جگہ الجھائو پیدا کر رہا ہے۔
بات یہ ہے کہ ٹائیگر ہو یا کہ شیرہو، تو درندے یعنی جانور، لیکن خان صاحب کی ڈکشنری میں غیر جانبدار کو جانور کہتے ہیں لہٰذا سب کو تسلیم کر لینا چاہیے اس لیے کہ وہ جھوٹ سچ بولنے کے باوجود صادق اور امین کے سندیافتہ ہیں ۔ شیر والے تین مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد گنوا کر بھی اس حد تک خونخوار نہیں ہوئے جیسے ٹائیگر ہو چکا ہے ۔اس راز سے عمران خان بھی واقف ہیں لیکن ضد، انا اور خوش فہمی میں وہ سب حدیں عبور کرتے جا رہے ہیں پھر بھی کہتے ہیں مجھے مار دیا جائے گا، زہر دے دیں گے یا نااہل کر کے الیکشن سے باہر کر دیں گے، لیکن اپنی عادتیں بدلنے کو تیار نہیں، موجودہ معاشی و سیاسی بحران ہی کیا کم تھا، غریب پاکستانیوں کے لیے ایسے میں موسمی تبدیلی نے ’’ادھم چوکڑی‘‘ مچا دی اور خواب بکھر گئے، کون جانے کہ کب سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا، متاثرین کی بحالی کے لیے کیا کچھ کیا جا سکے گا؟ لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ خواب بکھر جائیں تو قوموں کو واپس اپنے راستوں پر آنے کے لیے برسوں لگ جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button