ColumnQadir Khan

تعلیم سے محروم پختون بچی کا نوحہ .. قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی

پشتو شعرا میں بڑے بڑے نام گزرے ہیں۔ میں مسلمانوں کی حالت زار میں سب سے زیادہ پختونوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور ان کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بڑی سنجیدگی سے اس لیے لیتا ہوں کیونکہ اسلام کے نام پر انہیں بڑی آسانی سے استعمال کر لیا جاتا ہے اور پختون معاشرے کی کچھ روایات بھی ایسی ہیں کہ وہ حقائق کو پرکھے بغیر عمل بھی شروع کر دیتے ہیں۔ عینی مروت ایسی پختون خاتون کا نام ہے جس کے دل میں احساس اور اپنی قوم سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔وہ ایک چھوٹی پختون بچی کی آہ و فریاد اس طرح بیان کرتی ہے کہ دل خون کے آنسو رو پڑتا ہے۔
پختون بچی اپنے والد سے کہتی ہے کہ میں کتنی بدنصیب ہوں بابا، اگرچہ (چہرے پر) دو بڑی بڑی آنکھیں رکھتی ہوں، لیکن میری بینائی کام نہیں کرتی، میرے افکار نابینا ہیں بابا، میرا شعور جہالت کے گھپ اندھیروں میں گم ہے، میں کس قدر بدنصیب ہوں بابا، کہ پروردگار عالم نے مجھے گفتار کی صلاحیت سے نوازا ہے۔منہ میں زبان رکھتی ہوں، لیکن کلام کرنے کا حوصلہ نہیں، دل میں علم کی بے پناہ محبت ہے لیکن بدقسمت پختون ہوں کہ کوئی معلم ؍ رہنما نہیں زندگی میں، اگر دریائے جہالت میں ڈولتا ہوا یہ ذہن پھر سے غرقاب ہو جائے اور علم کا دیا روشن نہ ہو پائے تو اے بابا… اپنی اس نابینا بیٹی کو شہر خموشاں لے جانا اور دور جہالت کی ایک روایت کی پیروی میں میرے لیے بھی ایک قبر کھود لینا بابا۔ جب آپ میرے بے شعور ذہن اور میری بے مقصد زندگی کی تاریکیوں کو علم کی تابانی سے منور نہیں کر سکتے تو، میرے عزیز بابا، میرے لیے ایک قبر تیار کر دینا اور لحد کی تاریکی میں زندہ دفن کر کے چھوڑ آنا۔کہنے کو تو یہ ایک پختون بچی کا نوحہ ہے لیکن اصل میں یہ عالم اسلام کی تمام بچیوں کی آہ و فریاد ہے۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ اسلام و روایات کا نام لے کر فرسودہ رسوم کے تحت ہماری بچیوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں ان پر کسی کی آنکھ اشکبار نہیں ہوتی۔
شدت پسندی کے بدترین دور میں شمال مغربی سرحدی علاقوں میںلڑکیوںکے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن پختون بیلٹ میں بتدریج امن آنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو پڑھانے کے رجحان میں قدرے اضافہ ہو رہا ہے، گو یہ رفتار انتہائی سست ہے لیکن ماضی کے مقابلے میں اسے اطمینان بخش نہ سہی لیکن حوصلہ افزا ضرور کہا جا سکتا ہے۔مایوس کن صورتحال یہ بھی ہے کہ پاکستان میں 5 سے 16 سال عمر کے 2 کروڑ 23 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، سندھ میں سب سے زیادہ 52 فیصد غریب بچے سکول نہیں جاتے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 5 سے16 سال کے44 فیصد بچے سکول نہیں جا رہے۔ گذشتہ 19 سال میں اگرچہ پرائمری میں داخلے کی شرح 59 سے بڑھ کر 94 فیصد ہو گئی مگر صرف 70 فیصد بچے ہی پانچویں جماعت تک پہنچ پائے۔
ویسے تو پاکستان اور افغانستان میں تعلیمی اداروں کا جائزہ لیں تو حالات دگرگوں ہی نظر آتے ہیں لیکن یہاں میں نے ایسی پختون بچی کے نوحے سے بات شروع کی جسے حکومت کچھ نہیں دے پا رہی۔کراچی شہر میں پختون آبادیوں میں لڑکیوں کے سرکاری سکول نہیں ہیں، کٹی پہاڑی جس کی وجہ شہرت کچھ بھی ہویہاں ایک بھی سرکاری سکول نہیں، کراچی میں جس پختون آبادی کا ذکر کرتا چلا جاؤں، تو یہ سوال ان لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ شدت پسندی کے خلاف باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مدارس کے خلاف بولا تو بہت جاتا ہے لیکن ان آبادیوں کو بلدیاتی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جاتی۔یہ قدیم آبادیاں ہیں، پاکستان کی تشکیل سے پہلے سے یہاں انسان آباد ہیں لیکن زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ شاید کسی کو حیرانی نہ ہو کہ اب تو قبرستانوں میں بھی قومیت کے نام پر مردے دفن کیے جاتے ہیں، فلاں قومیت کا قبرستان ہے، فلاں برادری کا قبرستان ہے، فلاں کمیونٹی کا قبرستان ہے۔ اب تو مرنے والوں میں بھی لسانیت اور صوبائیت پیدا کی جا چکی ہے۔ مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے قصہ پارینہ بن گیا۔
پختون غیور قوم ہے، وہ مادہ پرست نہیں ہے ، وہ بنیاد پرست بھی نہیں ہے بلکہ وہ محبت کرنے والی، بہادر، ایماندار اور وفادار قوم ہے، لیکن بدقسمتی سے ان کے حقوق انہیں نہیں ملتے جس بنا پر نوجوان نسل غلط راستے اختیار کر لیتی ہے، بچیاں گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں، وہ لڑکوں کو تعلیم نہیں دے پاتے، لڑکیوں کو کیا دیں گے۔ مجبوری ہے، ورنہ جس قوم کی بچیوں نے دنیا بھر میں موقع ملنے پر نام روشن کیے وہ کیا نہیں کر سکتی۔بلاشبہ ہمارا معاشرہ کچھ ایسا تنگ نظر بھی ہے کہ والدین بے ہودہ معاشرے کی وجہ سے اپنی بچیوں کی حفاظت کے نام پر کچھ ایسی سختیاں اختیار کر لیتے ہیں جنھیں لوگ قدامت پسندی قرار دیتے ہیں۔
میں عینی مروت کے سامنے ہمیشہ شرمندہ رہوں گاکہ ہم اپنی قوم کی بچیوں کو اس کا حق نہیں دلا سکے، آج وہ ہم سے گلہ کرتی ہیں کہ ان کا بھی کچھ حق ہے لیکن ہم نے اپنے خودساختہ رسم و رواج میں ان کو بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ غیرت کے نام پر ہم اپنی قربانی نہیں دیتے بلکہ خود کو مقدس گائے سمجھتے ہیں۔ میری بچی تم نابینا نہیں ہو بلکہ یہ دنیا نابینا ہے، جو دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھ پا رہی، اسے صرف وہی نظر آ رہا ہے جس رنگ کی عینک پہنے ہوئے ہیں۔ میری بچی میں تعلیم کے نام پر بے حیائی کا مخالف ہوں، حیا کے نام پر بے پردگی کا مخالف ہوں، کیونکہ یہاں انسان نہیں گدھ رہتے ہیں۔
یہ معاشرہ ہی ایسا ہے کہ ہمیں اپنی عزت کی حفاظت کے لیے سینے پر گولیاں بھی کھانی پڑتی ہیں اور اپنی عزت کی جانب گندے ہاتھوں کو روکنے کے لیے ایسے چھلنی بھی کرنا پڑتا ہے، میری پختون بچی صرف تم ہی مظلوم نہیں ہو، یہاں ہر قوم کی بچی مظلوم ہے، لیکن کیا کریں، ان کو قلم، بستے سکول نہیں بلکہ ہتھیار اور ٹینک دیے جاتے ہیں۔ نہیں بیٹی، نہیں میں تمہیں شہر خموشاں میں غلط روایتوں کی آڑ لے کر دفن نہیں کر سکتا، میں فرسودہ رسوم کا سہارا لے کر اپنی پگڑی اونچی نہیں کر سکتا۔ یہ علم کی روشنی کسی فرد کی میراث نہیں ہے، ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ جب تاریخ میں پختون بچیوں کے شانہ بہ شانہ مرد نہیں بلکہ دوسری قومیت کی بچیاں کھڑی ہو کر اپنا حق استعمال کریں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button