Editorial

متاثرین سیلاب کی بحالی کیلئے اقدامات

 

ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اگرچہ تشویش ناک خبریں آنے کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم سندھ کے بعض حصوں میں سیلابی پانی تاحال تباہی مچارہا ہے تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق منچھر جھیل میں پانی کی سطح معمولی کم ہوئی ہے۔ پانی کے دبائو سے زیرو پوائنٹ پر 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے 5 سو دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی آبائی یونین کونسل واہڑ میں بھی پانی داخل ہونے سے ایک لاکھ 60 ہزار آبادی متاثر ہو چکی ہے۔ لاڑکانہ حیدرآباد انڈس ہائی وے پر پانی ہی پانی موجود ہے۔ دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔ سیلابی ریلا جامشورو میں داخل ہونے سے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ سیلاب مٹیاری اور سجاول کے کچے کے علاقوں کو بھی متاثر کرے گا۔ منچھر جھیل کے سیلابی ریلے سے انڈس ہائی وے پر بنا پل ٹوٹنے کی وجہ سے سیہون دادو روڈ پر ٹریفک مکمل طور پر بند ہوگئی۔ اب تک قیامت ڈھانے والی بارشیں اور سیلاب کیاتباہی لائے ہیں نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈی نیشن کمیٹی کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں اب تک 1325 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 12703 زخمی ہوئے ہیں۔ 3716 پھنسے ہوئے افراد کو ان ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نکالا جا چکا ہے۔ اب تک 4247 ٹن اشیائے خورونوش کے ساتھ 439 ٹن غذائی اشیاء اور 2163212 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں۔ 3570 ٹن خوراک، 379 ٹن غذائی اشیاء اور 1778212 ادویات کی تقسیم ہوئی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اپنی زندگی میں کبھی ایسی تباہی نہیں دیکھی، پانی اترنے پر جو وبائی امراض پید اہوں گے اب ہمیں اسکا چیلنج ہے، صاف پانی مہیا کرنا اور گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنا کھربوں کا کام ہے، ٹانک میں گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں، باہمی مشاورت سے اس بات پر غور کیا جائے گا کہ گھر تعمیر کروا کر دیئے جائیں یا رقوم دی جائیں۔ متاثرین کی بحالی میں تھوڑا وقت لگے گا، حق دار کو اس کا حق ہر صورت دلوایا جائے گا۔ چھوٹے ڈیم اور دیر پامنصوبے بناناہوں گے۔ اس صورتحال نے ہر چیزکو تباہ کیاہے۔ متذکرہ صورت حال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ اب بارشوں اور سیلاب سے ویسی ابتر صورت حال نہیں، جیسی حالیہ دنوں میں تھی اور اِس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی وجہ سے ہرآنکھ اشکبار تھی۔ متاثرین کو پاک فوج اور دوسرے ادارے محفوظ مقامات پر منتقل کرچکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اب جلد ہی متاثرین کی واپسی اور بحالی کاکام شروع ہوجائے گا۔ سیلاب اور بارشوں نے جو
تباہی مچائی اور متاثرین کی مدد کے لیے پاک فوج اور دوسرے اداروں نے جیسے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے جانی نقصان کو روکا اِس پر پاک فوج کے جوان، ریسکیو ادارے اور پھر متاثرین کو خیمے، خوراک، ادویات فراہم کرنے والی فلاحی تنظیموں اور وہ تمام پاکستانی قابل تحسین ہیں جنہوںنے ہم وطنوںکو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا اور اپنے حیثیت کے مطابق ہر ممکن مد د کی۔ ابھی بھی ملک بھر سے متاثرین کی امداد کے لیے سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا جارہا ہے تاکہ متاثرین سیلاب کو گھرلوٹنے تک کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہوا۔ پاک فوج سمیت اداروں اور فلاحی تنظیموں نے عوام کی مدد سے تاریخ کے سب سے بڑا سیلاب اور تباہی میں متاثرین کی بروقت مدد کی اور یہی جذبہ ہمیں دوسری قوموں سے منفرد کرتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی علاقوں میں سیلابی پانی اُتر چکا ہے اور لوگ واپس اپنے علاقوں میں جانا چاہتے ہیں لیکن وہاں سیلاب سے ہونے والی بدترین تباہی کے باعث ممکن نہیں اور ویسے بھی اُن متاثرہ علاقوں میں سیلابی پانی اور گندگی کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں اور سیلاب سے بچنے والے اِن امراض کا شکار نہ ہوجائیں اس کے لیے ابھی مقامی مشینری کو بہت کچھ کرنا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور خودوزیراعظم شہبازشریف بھی کہہ چکے ہیں کہ دریائوں کے راستے میں تجاوزات قائم کرنے کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے اور اِس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ گذارش کرنے کا مقصد یہی ہے کہ جب متاثرین کی گھروں کو واپسی اور انفراسٹرکچر کی بحالی پر کام شروع ہو تو منظم طریقے سے کام کیا جائے۔ مدنظر رکھا جائے کہ اب دریائوں کا راستہ نہیں روکنا اور وہ عمارتیں یا گھر جودریا کے پیٹ پر قائم کیے گئے تھے دوبارہ وہاں نہ بنیں بلکہ ایسی حکمت عملی وضع کی جائے کہ خدانخواستہ آئندہ ایسی صورت حال ہو تو تباہی کا تخمینہ قطعی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اب ہمارے سامنے آیاہے۔ لوگوں کو محفوظ مقامات پر رہائش گاہیں دی جائیں اور یقینی بنایاجائے کہ کوئی بھی اثرورسوخ کے ذریعے آبی گذرگاہوں میں تعمیرات نہ کرے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر بھی زور دیا ہے تو بلاشبہ اگرڈیم ہوتے تو اتنی تباہی نہ ہوتی جتنی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر لرز چکے ہیں لیکن یہاں ہم درخواست گذارہیں کہ ڈیموں کی تعمیر کی کبھی عوام نے مخالفت نہیں کی بلکہ جن لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے کالا باغ ڈیم اوردوسرے بڑے آبی منصوبوں کی مخالفت کی وہ سبھی کے سامنے ہیں۔ جن کو ڈیم کی تعمیر سے سندھ یا چارسدہ ڈوبنے کا خطرہ لاحق تھا انہوںنے دیکھ لیا ہوگا کہ ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہی یہ علاقے ڈوبے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف اگر ڈیموں کی تعمیر پر ایسے پراپیگنڈے کو رد کرکے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ڈیموں کی تعمیر کاآغاز کرادیں تو ان کا یہ ملک و قوم کے مفاد میں اعلیٰ اورتاریخ ساز کام ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button