بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست

بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست
میری بات
روہیل اکبر
ہماری کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش کے ہاتھوں ٹیسٹ میچ میں بھی بری طرح شکست کھا گئی جس کے بعد پوری قوم حیران اور پریشان ہے سفارشی کلچر نے قومی کھیل ہاکی کو برباد کرنے کے بعد اب باقی کی کھیلوں میں بھی پنجے گاڑ دئیے ہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم پر عوام کا غصہ صرف ایک ہار کا ردعمل نہیں بلکہ برسوں کی ٹوٹی امیدوں، ادھورے خوابوں اور بار بار ملنے والی مایوسیوں کا نتیجہ بنتا جا رہا ہے جب ایک قوم اپنی خوشیاں، دعائیں، جذبات اور راتوں کی نیندیں اپنی ٹیم کے نام کر دے تو پھر شکست صرف میدان میں نہیں ہوتی بلکہ دلوں کے اندر بھی ایک طوفان اٹھتا ہے پاکستان کی عوام کرکٹ کو صرف کھیل نہیں سمجھتی بلکہ یہ اُن کے جذبات، غیرت اور قومی وقار کا حصہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ جب ٹیم بار بار غلط فیصلوں، کمزور کارکردگی اور غیر سنجیدہ انداز کا مظاہرہ کرتی ہے تو عوام کے دلوں میں غصہ پیدا ہونا فطری بات بن جاتی ہے سوال یہ نہیں کہ عوام غصے میں کیوں ہے سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ایک ہی غلطیوں کو قوم برداشت کرتی رہے گی ہر ٹورنامنٹ سے پہلے بڑے بڑے دعوے، ہر پریس کانفرنس میں بلند و بانگ باتیں، ہر اشتہار میں قوم سے وعدے، مگر میدان میں پہنچتے ہی وہی پرانی کمزوریاں، وہی ناقص فیلڈنگ، وہی غیر ذمہ دارانہ شاٹس اور وہی شکست سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان کا نوجوان جب اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے میچ دیکھتا ہے، جب ایک مزدور سارا دن محنت کے بعد ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپنی ٹیم کی جیت کی امید لگاتا ہے، جب ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان کی فتح کی دعا کرتی ہے تو پھر شکست صرف اسکور بورڈ پر نہیں لکھی جاتی بلکہ لاکھوں دلوں پر لکھی جاتی ہے دنیا کی بڑی ٹیمیں مسلسل محنت، پلاننگ اور ڈسپلن سے آگے بڑھ رہی ہیں جبکہ پاکستان میں آج بھی سفارش، گروپ بندی اور غیر مستقل فیصلے کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں ایک میچ جیت کر ہیرو بن جانا اور اگلے ہی دن بری طرح ہار جانا اس بات کی علامت ہے کہ کہیں نہ کہیں نظام کمزور ہے قوم کو صرف جذباتی تقاریر نہیں بلکہ نتائج چاہیے پاکستان کے عوام نے ہمیشہ اپنی ٹیم کو سر آنکھوں پر بٹھایا، شکست کے بعد بھی محبت دی مگر اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید دراصل اُس درد کی آواز ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں موجود ہے لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر کب تک پاکستان کی کرکٹ صرف ماضی کی یادوں پر زندہ رہے گی؟ کب نئی سوچ آئے گی؟ کب میرٹ مضبوط ہوگا؟ کب کھلاڑی میدان میں قوم کی عزت کے لیے لڑتے نظر آئیں گے؟ آج عوام کا غصہ صرف کھلاڑیوں پر نہیں بلکہ اُس پورے نظام پر ہے جس نے پاکستان کرکٹ کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا قوم کو ایسے کھلاڑی چاہیے جو صرف اشتہاروں میں نہیں بلکہ میدان میں بھی شیر بن کر کھیلیں ایسے کپتان چاہیے جو دبا میں بکھریں نہیں بلکہ ٹیم کو سنبھالیں ایسے فیصلے چاہیے جن سے پاکستان کا وقار بلند ہو کیونکہ پاکستان کی عوام اب صرف ہار جیت نہیں دیکھتی بلکہ جذبہ، محنت، غیرت اور ذمہ داری دیکھتی ہے۔ اگر ٹیم لڑ کر ہارے تو قوم آج بھی سینے سے لگانے کو تیار ہے مگر بغیر جذبے کے شکست قوم کو اندر سے توڑ دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہر گلی، ہر چائے کے ہوٹل، ہر فیس بک پوسٹ اور ہر یوٹیوب ویڈیو میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ آخر پاکستان کرکٹ کب بدلے گی؟ کب وہ دن آئے گا جب پاکستانی ٹیم دنیا کے سامنے صرف نام کی نہیں بلکہ کھیل کی بھی بادشاہ بنے گی قوم آج بھی اپنی ٹیم سے محبت کرتی ہے مگر اب یہ محبت جواب مانگ رہی ہے، جذبہ مانگ رہی ہے اور میدان میں ایسا پاکستان مانگ رہی ہے جسے دیکھ کر ہر پاکستانی فخر سے کہہ سکے کہ یہ ہے ہماری ٹیم۔ دنیا کی ٹیمیں جب میدان میں اترتی ہیں تو اُن کے چہروں پر اعتماد، پلاننگ اور جیت کی بھوک نظر آتی ہے مگر پاکستانی قوم اکثر اپنی ٹیم کی باڈی لینگویج میں خوف، دبا اور بے یقینی محسوس کرتی ہے یہی چیز عوام کے غصے کو مزید بڑھا دیتی ہے قوم یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اگر شکست بھی ہو تو لڑ کر ہو آخری گیند تک جذبے کے ساتھ ہو مگر جب میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹیم بکھری ہوئی نظر آئے تو عوام کے دلوں میں سوال اٹھنا لازمی ہے پاکستان کی تاریخ عظیم کھلاڑیوں سے بھری پڑی ہے عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، جاوید میانداد اور شاہد آفریدی جیسے نام آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں کیونکہ اُنہوں نے صرف میچ نہیں کھیلے بلکہ قوم کو فخر دیا آج کی نسل بھی ایسے ہیرو مانگ رہی ہے جو میدان میں غیرت کا نشان بن سکیں بنگلہ دیش سے شکست کے بعد عوام صرف سوشل میڈیا پر غصہ نہیں نکال رہی بلکہ وہ دراصل اپنی محبت کا حساب مانگ رہی ہے کیونکہ پاکستان میں کرکٹ ہر غریب اور امیر کا مشترکہ جذبہ ہے گلیوں میں کھیلنے والا بچہ بھی پاکستانی ٹیم کی جیت پر خوش ہوتا ہے اور ایک بزرگ بھی ٹیم کی شکست پر افسردہ ہو جاتا ہے یہی وہ طاقت ہے جو کرکٹ کو پاکستان کا سب سے بڑا جذبہ بناتی ہے مگر افسوس جب یہی جذبہ بار بار ٹوٹتا ہے تو پھر عوام کے لہجے سخت ہو جاتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ اگر کھلاڑی صرف شہرت، پیسے اور اشتہارات میں مصروف رہیں گے تو میدان میں کارکردگی کیسے آئے گی؟ اگر ڈسپلن کمزور ہوگا تو ٹیم مضبوط کیسے ہوگی؟ اگر میرٹ کے بجائے پسند ناپسند چلے گی تو پاکستان آگے کیسے بڑھے گا؟ یہ سوالات آج ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں قوم اب صرف وعدے نہیں بلکہ عملی تبدیلی چاہتی ہے ایسے کوچ چاہیے جو ٹیم میں چنگاریاں بھر سکیں ایسے سلیکٹر چاہیے جو صرف میرٹ پر فیصلے کریں ایسے کھلاڑی چاہیے جو سبز ہلالی پرچم کی عزت کو اپنی ذاتی شہرت سے زیادہ اہم سمجھیں کیونکہ پاکستان کی جرسی صرف کپڑا نہیں بلکہ پوری قوم کی عزت کی علامت ہے آج اگر عوام غصے میں ہے تو اس کے پیچھے درد بھی ہے، محبت بھی ہے اور امید بھی کیونکہ اگر قوم کو اپنی ٹیم سے محبت نہ ہوتی تو شاید کوئی تنقید بھی نہ کرتا حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام آج بھی اپنی ٹیم کی ایک شاندار جیت کے انتظار میں بیٹھی ہے ایک ایسی جیت جو صرف اسکور بورڈ پر نہ ہو بلکہ قوم کے دل جیت لے ایک ایسی کارکردگی جو دنیا کو بتا دے کہ پاکستان ابھی زندہ ہے پاکستان کا جذبہ ابھی ختم نہیں ہوا اور پاکستانی قوم آج بھی اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی ہے مگر اب وہ میدان میں غیرت، محنت اور سچی لگن دیکھنا چاہتی ہے۔





