28ویں آئینی ترمیم: ابہام، سیاسی حکمتِ عملی اور جمہوری سوالات

28ویں آئینی ترمیم: ابہام، سیاسی حکمتِ عملی اور جمہوری سوالات
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئین ہمیشہ ایک ایسا دستاویز رہا ہے جس پر وقتاً فوقتاً بحث بھی ہوتی رہی ہے اور اسے بدلنے کی کوششیں بھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آئین میں ترمیم کا عمل کبھی بھی صرف قانونی ضرورت نہیں رہا، بلکہ یہ ہمیشہ سیاسی طاقتوں کے درمیان کشمکش، ریاستی ترجیحات اور ادارہ جاتی توازن کا عکس رہا ہے۔ آج ایک بار پھر 28ویں آئینی ترمیم کی باتیں سیاسی فضا میں گونج رہی ہیں، لیکن اس بار معاملہ پہلے سے زیادہ غیر واضح، پیچیدہ اور قیاس آرائیوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔
حکومت کی جانب سے مختلف سطحوں پر جو بیانات سامنے آ رہے ہیں، وہ ایک واضح سمت دینے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ کوئی فوری فیصلہ نہیں ہو رہا اور تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، جبکہ دوسری طرف مختلف حساس نوعیت کے معاملات کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے جن میں این ایف سی ایوارڈ، آبادی کے تناسب، پانی کی تقسیم اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق امور شامل ہیں۔ یہی تضاد اس پورے معاملے کو ایک عام آئینی بحث سے نکال کر ایک سیاسی معمہ بنا دیتا ہے۔
پاکستان میں آئینی ترامیم کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہر بڑی ترمیم کسی نہ کسی بڑے سیاسی یا ریاستی موڑ کے ساتھ جڑی نظر آتی ہے۔ ماضی میں آٹھویں ترمیم نے صدر کو غیر معمولی اختیارات دئیے، جس نے پارلیمانی نظام کے توازن کو متاثر کیا۔ بعد ازاں تیرہویں ترمیم نے اس توازن کو واپس پارلیمان کی طرف موڑا۔ سترہویں ترمیم نے ایک بار پھر اختیارات کی سمت بدل دی، جبکہ اٹھارویں ترمیم کو وفاقی اکائیوں کے حقوق اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آئینی ترامیم ہمیشہ صرف قانونی تبدیلی نہیں رہیں بلکہ سیاسی نظام کی نئی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتی رہی ہیں۔
اب جب 28ویں آئینی ترمیم کی بات ہو رہی ہے تو فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا یہ صرف چند انتظامی مسائل کے حل کے لیے ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑا آئینی اور سیاسی ایجنڈا موجود ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ابھی تک کسی بھی سطح پر واضح نہیں کیا گیا۔
رانا ثنا اللہ کی جانب سے جن امور کا ذکر کیا گیا ہے ان میں این ایف سی ایوارڈ خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ دراصل وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا بنیادی فارمولا ہے۔ پاکستان جیسے وفاقی ملک میں یہ محض مالیاتی نظام نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا ایک ستون ہے۔ جب بھی اس میں تبدیلی کی بات کی جاتی ہے تو صوبوں میں بے چینی پیدا ہونا فطری امر ہے کیونکہ ہر صوبہ اپنے وسائل اور حقوق کے حوالے سے حساس رویہ رکھتا ہے۔ اس لیے اگر واقعی اس معاملے پر غور ہو رہا ہے تو یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور دور رس اثرات رکھنے والی بحث ہوگی۔
اسی طرح آبادی کا مسئلہ بھی پاکستان میں ہمیشہ سے متنازع رہا ہے۔ مردم شماری کے نتائج پر مختلف صوبوں میں تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ آبادی نہ صرف قومی اسمبلی کی نشستوں کی تقسیم کا تعین کرتی ہے بلکہ ترقیاتی فنڈز، ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے آبادی کے تناسب میں کسی بھی تبدیلی یا اس کی بنیاد پر آئینی ترمیم کا ذکر سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔
پانی کی تقسیم کا معاملہ بھی پاکستان کے ان چند مسائل میں سے ایک ہے جو براہ راست صوبائی تعلقات اور وفاقی ہم آہنگی سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے درمیان پانی کی تقسیم پر اعتماد کی کمی ایک پرانا مسئلہ ہے۔ اگر اس موضوع کو کسی آئینی بحث سے جوڑا جائے تو یہ محض انتظامی نہیں بلکہ جذباتی اور سیاسی سطح پر بھی شدید ردعمل پیدا کر سکتا ہے۔
حکومت کی طرف سے یہ بات بار بار کہی جا رہی ہے کہ کسی بھی ترمیم سے پہلے تمام اتحادیوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ بظاہر یہ ایک مثبت اور جمہوری طرزِ عمل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ابھی تک کوئی واضح مسودہ یا فریم ورک موجود ہی نہیں تو پھر اعتماد میں لینے کا عمل کس بنیاد پر ہوگا؟ یہی وہ خلا ہے جو اس پورے معاملے کو غیر واضح بناتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ کہنا کہ ان سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں ہوئی، اس بحث کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں پیپلز پارٹی ہمیشہ آئینی معاملات میں ایک اہم فریق رہی ہے، خاص طور پر اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اگر ایک بڑی اتحادی جماعت ہی اس عمل سے لاعلم ہے تو پھر یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اصل مشاورت کس سطح پر ہو رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت جو صورتحال ہے وہ کسی حتمی آئینی عمل سے زیادہ ایک ابتدائی سیاسی جائزہ معلوم ہوتی ہے۔ یعنی حکومت مختلف بیانات اور اشاروں کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر کسی بڑی آئینی تبدیلی کی کوشش کی جائے تو سیاسی ردعمل کیا ہوگا۔ یہ ایک عام سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے، لیکن آئینی معاملات میں اس طرح کا ابہام ہمیشہ غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو ووٹر کی عمر سے متعلق بحث ہے۔ اگر واقعی ووٹر کی عمر میں تبدیلی کی کوئی تجویز زیر غور ہے تو یہ معاملہ براہ راست جمہوری اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک میں ووٹ دینے کی عمر 18سال تسلیم شدہ ہے، کیونکہ یہ عمر شہری بالغ ہونے اور سیاسی شعور کے آغاز کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ صرف قانونی بحث کو جنم دے گی بلکہ جمہوری اقدار پر بھی سوالات اٹھائے گی۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں نوجوان آبادی ایک بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا، سیاسی سرگرمیوں اور عوامی شعور میں نوجوانوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ایسے میں ووٹر کی عمر میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سیاسی طور پر حساس اور متنازع معاملہ بن سکتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ 28ویں آئینی ترمیم آئے گی یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اگر آئے گی تو اس کا دائرہ کار کیا ہوگا اور اس کے پیچھے سیاسی اتفاقِ رائے کتنا مضبوط ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی آئینی تبدیلیاں وسیع مشاورت کے بغیر کی گئیں تو ان کے اثرات دیرپا سیاسی کشیدگی کی صورت میں سامنے آئے۔
اس وقت سب سے اہم ضرورت شفافیت اور وضاحت کی ہے۔ آئینی معاملات میں ابہام صرف سیاسی افواہوں کو جنم دیتا ہے اور عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ اگر واقعی کوئی بڑی آئینی ترمیم زیر غور ہے تو اس کا واضح خاکہ، اس کے مقاصد اور اس کے اثرات کو کھل کر بیان کرنا ضروری ہے تاکہ بحث قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق پر مبنی ہو۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 28ویں آئینی ترمیم کی موجودہ بحث صرف ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ ہے۔ یہ اشارہ کس سمت جاتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا، لیکن اس وقت جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ ابہام ہے، اور سیاست میں ابہام ہمیشہ نئے سوالات کو جنم دیتا ہے، جو اکثر وقت کے ساتھ بڑے سیاسی فیصلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔





