رونمائی ۔طلوع سحر

رونمائی ۔طلوع سحر
محمد مبشر انوار
اپنی گزشتہ تحریر کا اختتام ان الفاظ پر کیا تھا، قارئین معذرت کہ آج کا عنوان پاکستان ڈاکٹرز گروپ ریاض کی نئی شائع شدہ کتاب کا نام ہے، جس کی تقریب رونمائی آج سفارت خانہ پاکستان میں ہوئی۔ اس کتاب میں پاکستان ڈاکٹرز گروپ ریاض کی کاوشوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے،1987ء سے قائم ہونے والی اس تنظیم نے کیسے مرحوم ڈاکٹر ریاض جواد خواجہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا، کیسے مستحق تارکین وطن کی مدد کی، کن مراحل سے گزرے، سفارت خانہ پاکستان نے کیسے سرپرستی کی اور آج پاکستان ڈاکٹرز گروپ کس مقام پر ہے اور کیا کیا کارہائے نمایاں سر انجام دے چکا ہے۔ مرحوم ڈاکٹر ریاض خواجہ اور ڈاکٹر اسد رومی کو حکومت پاکستان تمغہ امتیاز سے نواز چکی ہے جبکہ کیسے گروپ کے دیگر ارکان، ذاتی اور اجتماعی حیثیت میں خدمت خلق کر رہے ہیں، اس کتاب ’’ طلوع سحر‘‘ پر اگلے کالم میں لکھوں گا ان شاء اللہ۔
اپنے وعدے کے مطابق آج پاکستان ڈاکٹرز گروپ کی اس کاوش پر لکھوں گا بشرطیکہ سوچ پھر حالات حاضرہ کی طرف نہ نکل جائے کہ حالات انتہائی سے زیادہ غیر یقینی اور گھمبیر ہیں اور کسی بھی وقت کچھ بھی متوقع ہے لیکن بہرحال اس کو اگلی تحریر پر اٹھا رکھتے ہیں کہ کہیں پھر دماغی رو اس طرف نہ نکل جائے،تو آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ’’ رونمائی۔ طلوع سحر‘‘ پاکستان ڈاکٹرزگروپ ریاض کا خدمت خلق سے بھرپور سفر۔اس سفر کی ابتداء کیوں اور کیسے ہوئی، اس کے پیچھے کئی ایک دردناک کہانیاں ہوں گی کہ انسان جب معاش کے لئے ہجرت کرتا ہے تو اسے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے صرف وہی آشنا ہیں، جو ہجرت کا یہ دکھ جھیل چکے ہیں یا جھیل رہے ہیں۔ بالعموم اس ہجرت کے بعد، مہاجر کی زندگی دیار غیر میں ہی تمام ہو جاتی ہے لیکن اس کے کندھوں پر لدی ذمہ داریوں کے بوجھ آخر وقت تک، اس کے کندھوں پر موجود رہتے ہیں اور ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہونے کے لئے وہ اپنی تمام آسائشیں تج کر، آخری لمحہ تک کوششوں میں مصروف رہتا ہے حتی کہ اکثریت بعد ازاں تابوت میں اپنے آبائی وطن، گائوں، شہر یا گھر منتقل ہوتی ہے جبکہ کئی ایک اس سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس سے محروم رہنے والوں کی پس پردہ کیا مسائل ہوتے ہیں، ان سے بھی اکثر پردیسی بخوبی واقف ہیں کہ کہیں خاندان میں اجنبیت، پرایا پن اور کہیں دوست احباب کے دھوکے اور چالبازیاں بہرکیف، ایک مہاجر کا دل کن دکھوں کی آماجگاہ ہوتا ہے، اس سے صرف وہی واقف ہوتا ہے البتہ اوراق پلٹیں تو اکثریت ان دکھوں کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ معدودے چند ایسے بھی ہیں جو بہرحال اپنے مقاصد حاصل کر کے، یا اپنا وقت یہاں پورا کر کے، بخیر و عافیت واپس اپنے ملک پہنچ جاتے ہیں اور انتہائی پرسکون و آسودہ زندگی بھی گزارتے ہیں لیکن ان کی تعداد انتہائی کم دکھائی دیتی ہے۔ بچپن میں تندرستی ہزار نعمت پڑھا ضرور تھا لیکن اس کا صحیح ادراک اس وقت ہوا جب بیماریوں نے آن گھیرا اور بچپن میں پڑھی اس حقیقت کا مطلب سمجھ آیا، صحت مند زندگی جیسی نعمت اللہ کریم ہر شخص کو عطا کرے دیار غیر میں خرابی صحت بہت مشکلات سے دوچار کرتی ہی بالخصوص علاج معالجہ اور تیمار داری۔
اس پس منظر میں مشرق وسطی میں پاکستانی افرادی قوت کو ابتداء میں بہت سی مشکلات کا سامنا رہا اور اگر آج کے حالات کا موازنہ ماضی سے کیا جائے، تو آج حالات قدرے بہتر اور آسودہ ہیں ماسوائے ان احباب کے لئے جو یہاں کے قوانین کی پابندی نہیں کرتے یا بوجوہ ایسے حالات کا شکار ہو جاتے ہیں، پاکستان ڈاکٹرز گروپ ایسے ہی حالات کے شکار افراد کے لئے معرض وجود میں آیا۔ پاکستان ڈاکٹرز گروپ کی داغ بیل 1987ء میں اس کے روح رواں اور انتہائی متحرک و فعال اور درد دل رکھنے والے شفیق ڈاکٹرز، ڈاکٹر غوری، ڈاکٹر شاکر، ڈاکٹر محمد اشرف مرحوم اور ڈاکٹر ریاض خواجہ اکٹھے ہوئے اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پاکستانی تارکین وطن کی فلاح و بہبود اور خصوصا صحت کے حوالے سے ایک مشترکہ فورم تشکیل دینے کی بابت گفتگو کی۔ گو کہ ابتداء میں، اس نیک مقصد کی خاطر، فقط چند لوگ ہی میسر تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا کہ بقول شاعر میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل ۔۔ لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔ پاکستان ڈاکٹرز گروپ ریاض نے اپنے قیام کے بعد، مختلف جہتوں میں بیک وقت کارنامے سر انجام دئیے، جس میں بنیادی طور پر ، پاکستانی ڈاکٹرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ،ان کے خاندانوں کے لئے غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کرنا،مستحق تارکین وطن کے لئے علاج و معالجے کی بہترین سہولیات مہیا کرنا اور سب سے بڑھ کر دیار غیر میں رہتے ہوئے،وطن عزیز میں کسی بھی مشکل صورتحال میں،اپنی استعداد سے بڑھ کر پاکستان ،پاکستانیوں اور بلاامتیاز حکومت وقت کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا شامل رہا ہے،وہ خواہ جنگی صورتحال ہو، قدرتی آفات ہوں یا کوئی بھی معاملہ ہو،پاکستان ڈاکٹرز گروپ ریاض کو ہمیشہ صف اول میں دیکھا گیا ہے اور اسے بجا طور پر دیگر تنظیموں کی طرح دیار غیر میں پاکستان کا ہراول دستہ کہنا،انتہائی مناسب اور موزوں ہو گا۔بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان ڈاکٹرز گروپ کا لگایا گیا پودا آج تناور درخت بن چکا ہے اور اس کا دائرہ کار اب محدود وسائل میں انتہائی وسیع ہو چکا ہے کہ اس میں شامل ڈاکٹرز ،سالانہ دو مرتبہ سفارت خانہ پاکستان میں ’’ فری میڈیکل کیمپ‘‘ کا انعقاد بھی کرتے ہیں کہ جس میں ریاض اور قرب و جوار سے مستحق ہم وطنوں کو ،اپنی اپنی فیلڈ کے ماہر ترین ڈاکٹرز کی خدمات بلامعاوضہ میسر ہوتی ہیں ،علاوہ ازیں اگر کسی مریض کو اس سے ہٹ کر بھی کوئی مدد یا تعاون درکار ہو تو پاکستان ڈاکٹرز گروپ اپنی استطاعت اور حدود کے اندر رہتے ہوئے،فراہم کرتے ہیں۔ بات فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پاکستان ڈاکٹرز گروپ ،سفارت خانہ میں آنے والے مستحق مریضوں کو حتی المقدور ادویات بھی فراہم کرتا ہے،جو ڈاکٹرز گروپ اپنے ذاتی وسائل اور ذرائع سے اکٹھی کرتا ہے،دیار غیر میں جہاں علاج معالجے کی خدمات انتہائی مہنگی ہیں،کسی مستحق کے لئے یہ کسی نعمت غیر متبرکہ سے کم ہرگز نہیں۔ پاکستان ڈاکٹرز گروپ میں شامل ہر شخص،اپنی ذات میں ایک نابغہ روزگار شخصیت ہے کہ مٹی کی محبت میں ان آشفتہ سروں نے ایسے ایسے قرض چکانے کی کوشش کی ہے ،جو کسی بھی طور آج کی مادہ پرست دنیا میں ان پرواجب نہیں تھے،اپنے اپنے آبائی علاقوںمیں کئی ایک نے تن تنہا بڑے بڑے منصوبے شروع کررکھے ہیں،جو بعد ازاں احباب کے ساتھ ملنے سے،ان علاقوں کی تقدیر بدل رہے ہیں،کبھی ان پر بھی تفصیل سے لکھوں گا۔بہرحال یہاں سفارت خانہ پاکستان ،پاکستان حج رضاکار گروپ،نسٹ ایلومینائی کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں رضا کار گروپ بھی مختلف حوالوں سے پاکستان ڈاکٹرز گروپ کے ہمراہ ہوتے ہیں جبکہ سفارت خانہ پاکستان اس نیک کام میں ہمیشہ پاکستان ڈاکٹرز گروپ کی سرپرستی کرتا ہے اور تمام سفراء و سفارت خانہ کا عملہ اس نیک کام میں بھرپور تعاون فراہم کرتا ہے۔نیکی کے اس سفر میں اب تک،حکومت پاکستان ،اس گروپ کومختلف اوقات میں دو مرتبہ تمغہ امتیاز سے نواز چکی ہے،سابقہ صدر برادرم ڈاکٹر اسدرومی کو امسال تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ہے جبکہ مرحوم ڈاکٹر ریاض جے خواجہ کو بھی تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔
طلوع سحر میں ایک طرف جہاں پاکستان ڈاکٹرز گروپ کے قیام سے لے کر آج تک کے واقعات کو ڈاکٹر عطا الرحمان نے قلمبند کیا ہے وہیں وزرائ، سفراء ، کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات اور صحافیوں کے تاثرات بھی اس کتاب میں درج ہیں۔ یہ کتاب درحقیقت پاکستان ڈاکٹرز گروپ کے شاندار سفر کی داستان ہی نہیں بلکہ یہ وہ دستاویز ہے،جو آج کی ان کاوشوں کو اگلی نسل تک پہنچائے گی کہ ہمارا بہت سا ایسا اثاثہ،جسے آنے والی نسلوں اور مورخین کے لئی محفوظ ہونا چاہئے تھا، مشعل راہ ہونا چاہئے تھا،بوجوہ دستاویز کی شکل اختیار نہیں کر پایااور ایسے کئی ایک کارہائے نمایاں،بغیر دستاویز کے ہی تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے۔ جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ قوموں میں اپنی کاوشوں کو دستاویزی ثبوت کے طور پر محفوظ کرنے کا فہم و ادراک بخوبی موجود ہے اور ان کی کاوشیں آج بھی نئی نسل اور تاریخ میں محفوظ اور نئے آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہیںگو کہ سماجی طور پر بروئے کار آنے والے، اپنی نمائش کے خواہاں نہیں ہوتے اور ان کا مقصد اللہ رب العزت کے ہاں سے اجر کے علاوہ کچھ بھی نہیں،ایسی لوگوں کو میں اللہ کے منتخب شدہ لوگ تسلیم کرتا ہوں اور اللہ رب العزت سے ہمیشہ دعا گو رہا ہوں کہ ایسے لوگوں پر اپنا خصوصی کرم رکھے اور ہمیں بھی اپنے منتخب لوگوں میں شامل کر لے۔طلوع سحر کی رونمائی میں شرکت سے دلی طور پر انتہائی سکون میسر ہواکہ آج کی مادہ پرست دنیا میں ،اللہ کے ایسے منتخب لوگوں کی محفل میں بیٹھنے کا موقع میسر آیا،ڈاکٹر شہزاد ممتاز،ڈاکٹر بدر جمیل اور ڈاکٹر اسد رومی و پاکستان ڈاکٹرز گروپ،آپ کی دعوت کا بہت شکریہ!!





