عید الضحیٰ معاشی گردش کا بڑا وسیلہ بھی ہے

عید الضحیٰ معاشی گردش کا بڑا وسیلہ بھی ہے
تحریر: رفیع صحرائی
عیدالاضحیٰ صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایثار، اطاعت، محبت، مساوات اور معاشی گردش کا عظیم درس بھی ہے۔ یہ وہ مبارک موقع ہے جب مسلمان سنتِ ابراہیمیٌ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی محبوب چیز اللہ کی رضا کے لیے قربان کرتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جدید دور میں کچھ لوگ قربانی کو صرف گوشت، اخراجات یا جانور ذبح کرنے تک محدود کر کے دیکھتے ہیں جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔ قربانی دراصل ایک ایسی عبادت ہے جس کے روحانی، سماجی اور معاشی فوائد پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لبرلز کا ایک مخصوص طبقہ اکثر یہ سوال اٹھاتا دکھائی دیتا ہے کہ قربانی پر لاکھوں اور اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے یہ رقم غریبوں میں تقسیم کیوں نہ کر دی جائے؟ بظاہر یہ بات بہت دلکش محسوس ہوتی ہے لیکن اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ سوچ مذہبی شعائر کی اصل روح سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اسلام صرف خیرات کا مذہب نہیں بلکہ توازن کا دین ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور قربانی سب اپنی اپنی جگہ اہم عبادات ہیں۔ کسی ایک عبادت کو دوسری عبادت کے مقابل لا کھڑا کرنا دانشمندی نہیں۔
قربانی کا اصل مقصد محض گوشت حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ قرآنِ مجید میں واضح فرمایا گیا کہ اللہ کو نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس کے حضور بندوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاحبِ استطاعت مسلمان دنیا بھر میں اس فریضے کو عقیدت اور محبت سے ادا کرتے ہیں۔
اگر قربانی کو صرف معاشی زاویے سے بھی دیکھا جائے تو اس کے حیران کن فوائد سامنے آتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے دنوں میں پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں اربوں روپے کی معاشی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔ دیہاتوں میں سال بھر جانور پالنے والے کسانوں کو مناسب آمدنی ملتی ہے۔ چارہ اگانے والے، جانوروں کی خرید و فروخت کرنے والے بیوپاری، ٹرانسپورٹر، مزدور، قصائی، کھالوں کا کاروبار کرنے والے، چمڑے کی صنعت سے وابستہ افراد، حتیٰ کہ برف، مصالحہ جات اور دیگر اشیائے خور و نوش بیچنے والوں تک، سب کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ گویا قربانی ایک ایسا معاشی پہیہ چلاتی ہے جس سے لاکھوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں۔
ہمارے دیہی علاقوں میں بے شمار ایسے غریب خاندان موجود ہیں جن کی سال بھر کی امیدیں قربانی کے سیزن سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ایک کسان کئی ماہ تک محنت سے جانور پالتا ہے تاکہ عید کے موقع پر اچھی قیمت مل سکے۔ یہی رقم اس کے بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور آئندہ فصل کی تیاری میں کام آتی ہے۔ اگر قربانی کا سلسلہ ختم ہو جائے تو دیہی معیشت کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی طرح قربانی معاشرتی مساوات کا بھی خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف امیر اپنے جانور قربان کرتے ہیں تو دوسری طرف غریبوں کے گھروں میں بھی گوشت پہنچتا ہے۔ ایسے لاکھوں افراد جو مہنگائی کی وجہ سے سارا سال گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عیدالاضحیٰ پر عزت اور احترام کے ساتھ یہ نعمت حاصل کرتے ہیں۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کی تقسیم کا تصور دے کر انسانیت، بھائی چارے اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیا ہے۔
بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے دور میں بعض لوگ مذہبی شعائر کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی قربانی کو جانوروں پر ظلم کہا جاتا ہے اور کبھی اسے فضول خرچی قرار دیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ دنیاوی آسائشوں، مہنگی گاڑیوں، قیمتی موبائل فونز، پرتعیش شادیوں اور بے مقصد تقریبات پر اٹھنے والے اخراجات پر خاموش رہتے ہیں۔ اگر لاکھوں روپے کی ایک شادی یا کروڑوں روپے کی لگژری زندگی قابلِ اعتراض نہیں تو پھر اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی قربانی پر اعتراض کیوں؟۔
حقیقت یہ ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا، تکبر اور خود غرضی کو قربان کرنے کا سبق بھی ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے سب کچھ ہیچ ہے۔ یہی جذبہ قوموں کو مضبوط بناتا اور معاشروں میں اخوت پیدا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو قربانی کی اصل روح سے آگاہ کریں۔ انہیں بتایا جائے کہ یہ محض رسم نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت، معاشی تعاون اور سماجی فلاح کا حسین امتزاج ہے۔ اگر ہم قربانی کے فلسفے کو سمجھ لیں تو احساس ہو گا کہ اسلام کا ہر حکم انسانیت کی بھلائی اور معاشرے کی بہتری سے جڑا ہوا ہے۔
بلاشبہ عیدالاضحیٰ دولت کی گردش کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے اور روحانی تربیت کا بہترین وسیلہ بھی۔ یہ تہوار ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں دیا جانے والا مال کبھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیر، برکت اور خوشحالی کا سبب بنتا ہے۔





