ColumnImtiaz Ahmad Shad

زیادہ سے زیادہ دبائو کا کھیل

ذرا سوچئے
زیادہ سے زیادہ دبائو کا کھیل
امتیاز احمد شاد
امریکہ اور ایران کے درمیان اس وقت کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی ماحول، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی، امریکی فوجی نقل و حرکت، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اگر حالات مزید بگڑے تو یہ تنازع صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے جنگی بحران کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت مقف اختیار کیا ہے۔ وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ٹرمپ نے حالیہ انٹرویوز اور تقاریر میں یہ بھی کہا کہ ایران اگر اپنی اشتعال انگیز سرگرمیاں بند نہ کرے تو امریکہ فیصلہ کن ردعمل دے سکتا ہے۔ ان بیانات کے بعد عالمی میڈیا میں یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ آیا امریکہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی یا سخت اقتصادی محاصرہ مزید بڑھانے جارہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ایران کے خلاف ’’ زیادہ سے زیادہ دبائو‘‘ کی نئی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے، بین الاقوامی بینکنگ نظام تک اس کی رسائی کم کرنے اور ایرانی فوجی قیادت پر مزید پابندیاں لگانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اسرائیل اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن نے خلیج میں اپنی بحری اور فضائی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری طرف ایران نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی امریکی دبا کے سامنے نہیں جھکے گی۔ ایران کے اعلیٰ فوجی حکام مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت اشارے دئیے ہیں، جو دنیا کی تیل سپلائی کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ عالمی منڈیوں میں اسی خدشے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو دیکھا جارہا ہے۔
حالیہ صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ اگرچہ ابھی شروع نہیں ہوئی، لیکن دونوں ممالک عملی طور پر ’’ سائبر، سفارتی اور پراکسی جنگ‘‘ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے ممالک اس کشیدگی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ گروہوں اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں نے خطے میں خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ امریکہ اسرائیل کی مکمل حمایت کر رہا ہے جبکہ ایران کھل کر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے ’’ دورہ چین‘‘ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں مختلف سیاسی اور سفارتی تجزیے سامنے آئے ہیں، کیونکہ امریکہ اس وقت ایک ساتھ چین، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ چین پر دبائو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایران کے معاملے پر بھی بیجنگ کا کردار اہم سمجھتی ہے، کیونکہ چین ایران کا ایک بڑا معاشی اور سفارتی اتحادی ہے۔ موجودہ حالات میں اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست سفارتی ملاقات کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم عمان، قطر اور دیگر خلیجی ممالک پسِ پردہ رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جاسکے۔
اس تمام بحران میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور خلیجی ممالک سب کے ساتھ تعلقات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اس بحران میں نہایت محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکومت مسلسل یہ موقف اختیار کر رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال کئی حوالوں سی حساس ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی معیشت، توانائی، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر پڑیں گے۔ سب سے پہلے تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے لیے بڑا معاشی بحران پیدا کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ سرحدی کشیدگی بڑھ سکتی ہے، جبکہ فرقہ وارانہ عناصر بھی ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
پاکستان اس وقت سفارتی سطح پر توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان ایران کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اپنے معاشی اور دفاعی مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قیادت نے حالیہ بیانات میں بار بار خطے میں ’’ امن، تحمل اور مذاکرات‘‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرے تو وہ موجودہ بحران میں ایک موثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے، اور اب بھی اسلام آباد کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع سمجھا جارہا ہے۔ چین بھی خطے میں استحکام چاہتا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ عالمی تجارت اور توانائی کے منصوبوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال صرف امریکہ اور ایران کے تنازع تک محدود نہیں رہی۔ اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور روس سب اس بحران کو اپنی اپنی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک ایران کے علاقائی اثر و رسوخ سے پریشان ہیں۔ روس اور چین ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں تاکہ خطے میں امریکی اثر کم کیا جاسکے۔
اگر آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔ عالمی معیشت، تیل کی قیمتیں، اسٹاک مارکیٹس اور بین الاقوامی تجارت شدید دبائو کا شکار ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بھی مسلسل دونوں فریقوں کو تحمل کا مشورہ دے رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا ٹرمپ کی سخت پالیسی ایران کو مذاکرات پر مجبور کرے گی یا خطہ مزید خطرناک تصادم کی طرف بڑھے گا۔ فی الحال دونوں ممالک سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں، اور یہی صورتحال دنیا بھر میں تشویش پیدا کر رہی ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ خطے میں امن اور استحکام صرف سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی تدبر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

جواب دیں

Back to top button