کھیلتا ہوا پنجاب، صحت مند معاشرہ، روشن مستقبل

کھیلتا ہوا پنجاب، صحت مند معاشرہ، روشن مستقبل
تحریر: عبدالرئوف اعوان
کھیل کسی بھی معاشرے کی جسمانی و ذہنی صحت، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک متحرک اسپورٹس کلچر نہ صرف نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے تحت صوبہ پنجاب میں کھیلوں کے فروغ کیلئے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ’’ کھیلتا ہوا پنجاب‘‘ اور ایک صحت مند، باصلاحیت نسل کی تشکیل ہے۔
اسی وژن کے تسلسل میں خواتین کے لیے ’’ پنک گیمز‘‘ کا کامیاب انعقاد، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کیلئے سمر کیمپس کا انعقاد، اور روایتی کھیلوں جیسے کبڈی کے فروغ کیلئے خصوصی اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ مزید برآں، جدید کھیلوں کے فروغ کیلئے صوبہ بھر میں پیڈل ٹینس کورٹس کا قیام تیزی سے جاری ہے، جبکہ ہاکی جیسے قومی کھیل کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حال ہی میں چیس چیمپئن شپ کے انعقاد نے ذہنی کھیلوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ نیشنل گیمز میں پنجاب کی شاندار کارکردگی اور سب سے زیادہ گولڈ میڈلز کا حصول اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اتھلیٹس کیلئے ماہانہ وظائف اور دیگر سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان تمام اقدامات کے تسلسل میں سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیر اہتمام ملکی تاریخ کی سب سے بڑی وزیراعلیٰ پنجاب نیشنل میراتھن اور سائیکلنگ ریس 2026کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ صوبائی وزیر کھیل پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھر نے لاہور کے لبرٹی چوک میں اس میگا ایونٹ کا افتتاح کیا اور خود بھی سائیکلنگ ریس میں حصہ لے کر نوجوانوں کیلئے ایک عملی مثال قائم کی۔ اس میگا ایونٹ میں 11ہزار سے زائد اتھلیٹس اور شہریوں کی شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ پنجاب میں کھیلوں کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ صوبائی وزیر کھیل نے اس موقع پر کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریس ہے اور حکومت کا مقصد ملک کو حقیقی معنوں میں ’’ کھیلتا ہوا پاکستان‘‘ بنانا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اکتوبر اور نومبر میں مزید بڑے پیمانے پر میراتھن اور سائیکلنگ ایونٹس منعقد کیے جائیں گے، جن کیلئے ایک لاکھ اتھلیٹس کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ بین الاقوامی سطح پر دبئی جیسے ایونٹس کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس ایونٹ کی ایک نمایاں خصوصیت بین الصوبائی ہم آہنگی تھی، جہاں سندھ اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اتھلیٹس نے بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کیں۔ یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیل قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ایک مثر ذریعہ ہیں۔ صوبائی وزیر کھیل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پنجاب دیگر صوبوں کے ساتھ مل کر کھیلوں کے فروغ کیلئے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
مقابلوں کے نتائج کے مطابق 21کلومیٹر مردوں کی میراتھن میں ساہیوال کے محمد اختر نے پہلی، محمد عامر نے دوسری جبکہ محمد عرفان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 21کلومیٹر سائیکلنگ ریس میں کراچی کے علی الیاس نے پہلی پوزیشن اپنے نام کی، جبکہ خواتین کے مقابلوں میں ماہ نور اور زینب نے بالترتیب میراتھن اور سائیکلنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ویل چیئر ریس میں احمد یار نے نمایاں کامیابی حاصل کی، جبکہ خصوصی اتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی انعامات بھی دیئے گئے۔ صوبائی وزیر کھیل نے کامیاب اتھلیٹس میں مجموعی طور پر 38لاکھ روپے سے زائد کے انعامات تقسیم کیے، جبکہ دیگر شریک کھلاڑیوں کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔ ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں کیلئے پانی، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے گئے، جسے شرکاء نے سراہا۔
یہ میگا ایونٹ نہ صرف ایک کامیاب کھیلوں کی سرگرمی تھا بلکہ اس بات کا عملی ثبوت بھی کہ حکومت پنجاب کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں اور ایک صحت مند معاشرے کے قیام کیلئے سنجیدہ اور پُرعزم ہی۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی سطح پر کھیلوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گا۔





