سوشل میڈیا کی بے لگام صحافت اور نام نہاد اینکرز و پوڈ کاسٹرز

سوشل میڈیا کی بے لگام صحافت اور نام نہاد اینکرز و پوڈ کاسٹرز
عقیل انجم اعوان
سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو عام آدمی تک پہنچایا یہ ایک مثبت تبدیلی تھی مگر ہر آزادی کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے اور جب ذمہ داری کو نظر انداز کر دیا جائے تو آزادی انتشار میں بدل جاتی ہے۔ آج ہم اسی انتشار کے دور سے گزر رہے ہیں جہاں صحافت جیسا سنجیدہ اور حساس شعبہ بھی غیر تربیت یافتہ ہاتھوں میں کھیل بن چکا ہے۔ جو شخص کل تک کسی دکان پر بیٹھا تھا یا کسی اور شعبے سے وابستہ تھا آج ایک مائیک، کیمرہ اور چند لائٹس خرید کر خود کو اینکر اور تجزیہ کار سمجھنے لگا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ صحافت کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
روایتی صحافت میں ایک طویل سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ رپورٹر بننے کے لیے میدان میں اترنا پڑتا تھا، خبریں جمع کرنا، حقائق کی چھان بین کرنا، سینئرز سے سیکھنا پھر کہیں جا کر کوئی فرد اینکر کے مقام تک پہنچتا تھا۔ سوال پوچھنے کا ایک سلیقہ ہوتا تھا گفتگو کا ایک معیار ہوتا تھا اور سب سے بڑھ کر مہمان کی عزت کا خیال رکھا جاتا تھا۔ آج یہ تمام اصول روندے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے نام نہاد اینکرز اور پوڈ کاسٹرز نے صحافت کو ایک تماشہ بنا دیا ہے جہاں مقصد معلومات دینا نہیں بلکہ سنسنی پیدا کرنا رہ گیا ہے۔
یہ لوگ تحقیق کے نام پر کچھ نہیں کرتے۔ ایک موضوع اٹھاتے ہیں اس کے متعلق چند ادھورے جملے ذہن میں رکھتے ہیں اور پھر کیمرے کے سامنے بیٹھ کر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ ان کے سوالات میں نہ گہرائی ہوتی ہے نہ ترتیب۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوال کرنے والا خود اس موضوع سے ناواقف ہے جس پر وہ گفتگو کر رہا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ان کی اپنی کم علمی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سامعین کے ذہنوں میں بھی غلط معلومات منتقل کرتا ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان پوڈ کاسٹرز کا مقصد اکثر مہمان کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ وہ مہمان کو بلاتے ہیں اس سے تلخ اور ذاتی نوعیت کے سوالات کرتے ہیں اس کی بات کاٹتے ہیں اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور پھر اس تمام عمل کو ’’ جرنلزم‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہ دراصل کردار کشی کا ایک نیا انداز ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ پا رہا ہے۔ مہمان کی تذلیل کو ویوز اور لائکس کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور یہی اس زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ہر شخص خود کو عقلِ کل سمجھنے لگا ہے۔ نہ اسے تنقید برداشت ہے نہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار ہے۔ یہی رویہ ان نام نہاد اینکرز میں بھی نظر آتا ہے۔ اگر کوئی ان کے طرزِ گفتگو یا سوالات پر اعتراض کرے تو فوراً دفاعی انداز اختیار کر لیتے ہیں یا تنقید کرنے والے کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے بالکل برعکس ہے جہاں خود احتسابی کو اہمیت دی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا کی صحافت کا ایک اور نقصان یہ ہوا ہے کہ سنجیدہ موضوعات کو بھی ہلکے انداز میں پیش کیا جانے لگا ہے۔ ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، سماجی مسائل جیسے اہم موضوعات پر بھی غیر سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے۔ ایسے افراد جو ان معاملات کی باریکیوں سے ناواقف ہوتے ہیں وہ اپنی رائے کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام میں کنفیوژن بڑھتی ہے اور حقائق دھندلا جاتے ہیں۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر یہ سب ہو کیوں رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی باقاعدہ ضابطہ اخلاق نافذ نہیں۔ جو چاہے جیسے چاہے جو کچھ چاہے کہہ سکتا ہے۔ نہ کوئی ادارتی نگرانی ہے نہ کوئی تربیت کا نظام۔ یہی خلا ایسے افراد کے لیے موقع بن جاتا ہے جو بغیر کسی تیاری کے اس میدان میں کود پڑتے ہیں۔ انہیں نہ صحافت کی اقدار کا علم ہوتا ہے نہ اس کی ذمہ داریوں کا احساس۔
روایتی میڈیا میں ایک خبر نشر ہونے سے پہلے کئی مراحل سے گزرتی تھی۔ رپورٹر خبر لاتا تھا ایڈیٹر اس کی تصدیق کرتا تھا پھر اسے نشر کیا جاتا تھا۔ اس پورے عمل میں غلطی کے امکانات کم ہو جاتے تھے۔ سوشل میڈیا پر یہ تمام مراحل ختم ہو چکے ہیں۔ جو بات ذہن میں آئی فوراً پوسٹ کر دی گئی۔ نہ تصدیق، نہ تحقیق، نہ ذمہ داری۔ یہی وجہ ہے کہ جھوٹی خبریں اور افواہیں تیزی سے پھیلتی ہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض پوڈ کاسٹرز جان بوجھ کر متنازع موضوعات چنتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کر سکیں۔ وہ مہمان کو اشتعال دلاتے ہیں اسے ایسے سوالات کرتے ہیں جن کا مقصد صرف ردعمل حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس عمل میں نہ صرف مہمان کی عزت مجروح ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی نفرت اور تقسیم کو فروغ ملتا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی خطرناک ہے کہ نوجوان نسل بڑی تعداد میں سوشل میڈیا سے متاثر ہو رہی ہے۔ وہ انہی پوڈ کاسٹرز کو اپنا آئیڈیل سمجھنے لگے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بغیر کسی محنت اور تربیت کے بھی شہرت حاصل کی جا سکتی ہے تو وہ بھی اسی راستے پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا دائرہ بنتا جا رہا ہے جہاں غیر سنجیدگی کو فروغ مل رہا ہے اور معیار مزید گرتا جا رہا ہے۔
صحافت کا مقصد ہمیشہ سچ کی تلاش، عوام کو درست معلومات فراہم کرنا اور معاشرے کی اصلاح رہا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے اس نئے رجحان نے ان تمام مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اب مقصد صرف ویوز، سبسکرائبرز اور اشتہارات کا حصول رہ گیا ہے۔ اس دوڑ میں اخلاقیات، اصول اور اقدار سب کچھ قربان کیا جا رہا ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سوشل میڈیا مکمل طور پر منفی ہے۔ اس نے کئی مثبت پہلو بھی اجاگر کیے ہیں مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کا استعمال بغیر کسی تربیت اور ذمہ داری کے کیا جائے۔ اگر کوئی شخص واقعی صحافت میں آنا چاہتا ہے تو اسے اس کے بنیادی اصول سیکھنے ہوں گے تحقیق کرنا سیکھنا ہوگا سوال کرنے کا سلیقہ اپنانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر انسانیت اور احترام کو مقدم رکھنا ہوگا۔
ریاست اور متعلقہ اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر صحافت کے نام پر ہونے والی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے کچھ بنیادی اصول وضع کرنا ضروری ہیں۔ یہ اصول آزادیِ اظہار کو محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہونے چاہئیں۔ ساتھ ہی ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ ہر ویڈیو، ہر پوڈ کاسٹ کو بغیر سوچے سمجھے قبول نہ کریں۔ سوال اٹھائیں، تحقیق کریں اور ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کریں جو غیر سنجیدہ یا توہین آمیز ہو۔ جب تک عوام خود معیار کا مطالبہ نہیں کریں گے تب تک یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔
سوشل میڈیا کی بے لگام صحافت نے ایک ایسا بحران پیدا کر دیا ہے جس کا حل صرف تنقید سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ صحافت کو دوبارہ اس کے اصل مقام پر لانے کے لیے سنجیدگی، تربیت اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔ ورنہ یہ شور، یہ ہنگامہ اور یہ غیر سنجیدہ رویے ہماری اجتماعی سوچ کو مزید کمزور کرتے رہیں گے اور سچ کہیں پیچھے رہ جائے گا۔





