Column

امن معاہدے کے روشن امکانات

امن معاہدے کے روشن امکانات
تحریر : شاہد ندیم احمد
آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت خاص طور پر توانائی کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے،اس کی امن معاہدے میں مزید اہمیت بڑھ گئی ہے ، اٹھائیس فروری کو ایرا ن پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد اس گزر گاہ کی بندش سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، گزشتہ روزاس آبنائے کے کھلنے کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں تیل کے نرخ گرنا شروع ہو گئے، لیکن امریکہ کی بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے باعث ،ایک بار پھر آبنائے ہر مز پر پا بندی لگادی گئی ہے ،ایرانی تر جمان کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں، امریکا جب تک جہازوں کی آمدورفت کو پوری آزادی کے ساتھ بحال نہیں کرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت رہے گی۔
امر یکہ ایران میں پا کستانی مثالی سفارت کاری کے باعث بڑی حدتک اعتماد بحال ہورہا تھا ،اس میں اسرائیل لبنان جنگ بندی نے مزید اضافہ کیا ،لیکن امر یکہ کی بحری ناکہ بندی نے معاملات کسی حدتک پھر خراب کر دیئے ہیں ،صدر ٹرمپ کے ایک طرف دعوئے نہیں رک رہے تو دوسری جانب پاکستانی قیادت کی تعر یفوں پل باندھے جارہے ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ سارے دعوئے چھوٹے ہیں ، لیکن پا کستانی قیادت اپنی تعریفوں پر شکریہ ادا کررہے ہیں اور امن معاہد ے کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں سر گرداں دکھائی دیتے ہیں،تاہم اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کو عتماد سازی کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور اس سے بھی اہم یہ کہ ایسے اقدامات سے بچنا ہو گا ،جو کہ باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ مقامِ شکر ہے کہ ابھی تک کی پیش رفت ساری قباحتوں کے باوجود درست سمت کی جانب گامزن ہے، مگر ابھی حتمی معاہدے اور ایک دوسرے کے دل میں اپنی بات اتارنے اور اپنے حق میں زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کے لیے اعتماد کی سطح کو مزید بلند کرنا ہو گا، ایران اور امریکہ کو اس سطح پر لانے میں پاکستان کا مثبت اور بھر پور کردار تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، اس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا، جنگ بندی کے اعلان کے لیے فریقین کو راضی کرنے سے لے کر اسلام آباد مذاکرات کے اہتمام تک کی پیش رفت کی نظیر حالیہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی، ایران اور امریکہ کی نصف صدی کی تاریخ اختلافات اور عدم اعتماد سے عبارت ہے، اس اختلاف کے ساتھ فریقین کو ایک میز پر لا بٹھانا، کوئی آسان کام نہیں اور وہ بھی چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے سرے پر، اس کے لیے پاکستان کی قیادت نے جو کچھ کیا۔ فریقین کو راضی کرنے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی، بڑی کا میاب رہی ہے۔اس مذاکراتی عمل کے پہلے دور میںامریکی نائب صدر اور ایرانی سپیکر پارلیمان کو ایک دوسرے کی پوزیشن کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا، بعد ازاں رابطوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران سے مزید پیش رفت ممکن ہوئی، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان، اس کا ہی نتیجہ رہاہے، اگر اس کی بدولت دنیا میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور سٹاک مارکیٹس میں نمو ہے تو اس کے لیے دنیا کو جہاں پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے، وہیںاس امن معاہدے کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں پاکستان کی بھر پور مدد بھی کر نی چاہئے ، ایران امریکہ جنگ بندی اور امن کی راہ ہموار کر نے کے لیے اب تک پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے، اس نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے امکانات پیداکر دئیے ہیں۔
دنیا کے اس اہم ترین خطے کا آپسی اور بیرونی کشیدگیوں میں الجھنا علاقائی اور عالمی امن، اقتصاد اور ترقی کے لیے بڑا سنجیدہ خطرہ ہے۔ ایران امریکہ جنگ بندی اور امن معاہدہ، جس کے امکانات اب بڑی حد تک واضح ہو چکے ہیں، یہ معاہدہ ایران اور عرب ریاستوں کے تعلقات میں بھی اصلاح کا محرک بن سکتا ہے ،اگرمعاملات امریکہ کے ساتھ طے ہو سکتے ہیں تو جی سی سی کے ساتھ کیا مشکل ہو گی، لیکن اس کیلئے امر یکہ اور ایران کو ایک دوسرے کا اعتماد جیتنا ہو گا توہی امن معاہدہ پائے تکمیل کو پہنچ پائے گا ،پا کستان نے بڑی جاں فشانی سے فریقین کو قر یب لاکر ایک میز پر بیٹھا کر ایک نادر موقع دیا ہے، اس موقع کو بحریہ کی ناکہ بند ی اور آبنائے ہر مز کی پا بندی میں ضائع نہیں کر نا چاہئے ،اس سے خلیجی خطے کا جہاں مستقبل پُرامن، ترقی یافتہ اور روشن ہو گا ،وہیں اس کے ثمرات سے پوری دنیا کو بھی فائدہ حاصل ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button