ColumnRoshan Lal

جنگ کے بعد ِ، پاکستانی خوشحالی کے خواب؟

جنگ کے بعد ِ، پاکستانی خوشحالی کے خواب؟
تحریر : روشن لعل

ماضی میں اپنا یہ معمول رہا کہ جس کسی نے بھی پاکستان کی ترقی اور اس کے عوام کی خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا یا خواب دیکھا تو اس کی سپاس گزاری نہ کرنے کے باوجود اس کے لیے دل کے کسی گوشے میں احساس التفات ضرور پیدا ہوا۔ ان دنوں، امریکہ و اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں کئی لوگ تھوک کے حساب سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خواب بیچ رہے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ ان کے لیے دل میں توجہ، محبت یا عنایت کا رتی بھر جذبہ پیدا نہیں ہو رہا۔ مذکورہ لوگوں کے لیے الفت کے جذبات پیدا نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی طرف سے سہانے خواب تو بیچے جارہے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا جارہا کہ ان خوابوں کے شرمندہ تعمیر ہونے کے لیے جن لوازمات کی ضرورت ہے وہ کہاں سے آئیں گے۔
جو لوگ ان دنوں پاکستان کی خوشحالی کے خواب بیچ رہے ہیں ان کی بڑی تعداد یوٹیوبرز اور سوشل میڈیائی دانشوروں پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اپنے بہترین جغرافیائی محل وقوع کے باوجود اگر پاکستان ماضی میں معاشی ترقی نہیں کر سکا تو ایسا ہونے کی وجہ کچھ خلیجی ممالک کی مبینہ سازشیں ہیں۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ہمارے خلاف کی گئیں سازشوں کے ماضی میں کامیاب ہونے کے باوجود ایران اور امریکہ کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کے لیے ترقی و خوشحالی کے نئے دروازے کھلنے کے قریب ہیں۔ ان لوگوں کے اس خیال کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ ، ایران ، امریکہ، جنگ کے دوران آبنائے ہرمز بند ہونے پر بحری جہازوں کی بڑی تعداد نے ، پاکستانی بندرگاہوں کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کے متبادل طور پر استعمال کیا، بعض لوگوں کے نزدیک ،آبنائے ہرمز کے بند ہونے کا امکان کیونکہ مستقبل میں بھی زمانہ حال کی طرح موجود رہے گا ، اس لیے سرمائے اور منافع کے مستحکم تحفظ کے لیے، مستقبل قریب میں پاکستانی بندرگاہیں عالمی تجارت کے لیے ترجیح بن جائیں گی۔ جب پاکستانی بندرگاہیں ، عالمی تجارت کا گڑھ بن جائیں گی تو اس کے اثرات یقینی طور پر ہمارے ملک اور عوام کی معاشی خوشحالی کی صورت میں برآمد ہوںگے۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اگر پاکستان کے بہترین جغرافیائی محل وقوع کے باوجود اس کی بندرگاہیں عالمی بحری تجارت کے لیے ترجیح نہیں بن سکیں تو اس کی وجوہات ان گنت داخلی کمزوریوں ، کوتاہیوں اور ناعاقبت اندیشیوں کے ساتھ بیرونی سازشیں بھی ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ داخلی کمزوریوں کی بدستور موجودگی کی باوجود امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پاکستان میں معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔جو لوگ خاص پیرائے میں ان مواقع کا ذکر کر رہے ہیں، ان میں سے کوئی بھی یہ سوچنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا کہ مبینہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے جس قسم کے بہترین انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے وہ یہاں کس حد تک موجود ہے۔
سہانے خواب بیچنے والے یقین کی حد تک اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ عنقریب پاکستان کی بندرگاہیں متحدہ عرب عمارات کی بندرگاہوں کا متبادل بن جائیں گی لیکن جب وہ سوچتے ہی نہیں تو بتائیں گے کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کے حجم اور انفراسٹرکچر میں کیا اور کتنا فرق ہے۔ پاکستان میں پورٹ قاسم، کراچی پورٹ اور گوادر پورٹ نام کی تین بندرگاہیں موجود ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات میں دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے والی دس کمرشل بندرگاہوں کے علاوہ مختلف جزائر پر خصوصی ٹرمینلز بھی بنائے گئے ہیں۔ پاکستان کی تینوں بندرگاہوں پر ایک وقت میں 70سے 80کمرشل بحری جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں جبکہ سالانہ گنجائش 1500سے1900بحری جہازوں کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی تمام بندرگاہوں پر بحری جہاز لنگر انداز ہونے کی مجموعی گنجائش کے حتمی اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہو سکے لیکن اگراس کی صرف ایک بندرگاہ جبل علی کی بات کی جائے تو وہاں سالانہ 6500بحری جہاز لنگر انداز ہونے کی گنجائش موجود ہے ۔ متحدہ عرب امارات کی دس میں سے صرف ایک بندرگاہ پر ایک سال میں پاکستان کی تینوں بندرگاہوں سے 4600تا 5000زیادہ بحری جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بحری جہازوں کی آمدو روانگی اور ان میں سامان رکھنے اور نکالنے کے لیے جس معیار کی جدید مشینری، کمپیوٹرائزڈ سسٹم اور تربیت یافتہ افراد کو استعمال کیا جاتا ہے ، پاکستان کی بندرگاہیں ابھی اس معیار تک پہنچنے میں بہت پیچھے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے نئی جدتیں سامنے آنے پر متحدہ عرب امارت کی بندرگاہیں انہیں اختیار کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں جبکہ وسائل کی کمی کی وجہ سے پاکستانی بندرگاہوں پر جدتوں کی طرف اکثر اس وقت رجوع کیا جاتا ہی جب کوئی مزید نئی جدت ان کی جگہ لینے کے لیے تیار ہو چکی ہوتی ہے۔ پاکستانی بندرگاہوں پر انفراسٹرکچر کا معیار متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں سے کس حد تک کم ہے اس بارے میں مزید بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن اس حوالے سے اگر ہم اپنی کم مائیگی کو سمجھنا چاہیں تو اس کے لیے یہ جان لینا ہی کافی ہے کہ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سال 2024ء میں پاکستان کی بندرگاہوں کی کل ٹریڈ ویلیو تقریباً 85.45بلین امریکی ڈالر رہی جبکہ متحدہ عرب کی کل ٹریڈ ویلیوایک ٹریلین امریکی ڈالر تک ہے جس میں برامدات کی ویلیوتقریباً570بلین امریکی ڈالر اور درامدات کی ویلیوتقریباً 470امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی ٹریڈ ویلیوکا فرق مد نظر رکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بندرگاہوں کے انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ میں ہم کس حد تک پیچھے ہیں۔ اب ان لوگوں کی عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ ، ایران، جنگ بندی کے بعد بھی تجارتی مال بردار بحری جہازوں کی ترجیح پاکستانی بندرگاہیں ہی رہیں گی۔
جو لوگ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملہ کے بعد یہ خواب بیچنا شروع ہو گئے ہیں کہ پاکستان معاشی طور پر متحدہ عرب امارات کا متبادل بننے کے لیے تیار بیٹھا ہے ان کا مقصد یو ٹیوب کے ذریعے اپنی گمراہی عام لوگوں میں منتقل کر کے چند ڈالر کمانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ایران پر امریکی حملے کے بعد متحدہ عرب عمارات نے پاکستان سمیت کچھ دیگر ملکوں کو اپنا حمایتی یا غیر حمایتی تصور کرتے ہوئے دونوں کے درمیان ایک عبوری لائن کھینچ دی ہے۔ پاکستان میں کچھ غیر ذمہ دار قسم کے میڈیائی دانشور اپنے اشتعال انگیز تبصروں کے ذریعے اس عبوری لائن کو مستقل بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ یہ عبوری لائن اگر مستقل ہو گئی تو اس سے پاکستان کو کسی قسم کا کوءی فائدہ نہیں بلکہ شدید معاشی نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ گوادر سمیت ، پاکستان کی دیگر بندرگاہوں کو ناکام بنانے کے لیے جو سازشیں ہو تی رہیں اس میں کوئی ایک نہیں بلکہ کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی شامل تھے۔ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ان بین الاقوامی کھلاڑیوں کو براہ راست چیلنج کر کے فی الحال حاصل ہونے والے فائدوں سے ہاتھ دھونے کی بجائے ہمیں زیادہ توجہ آستین کے ان سانپوں پر مرکوز کرنی چاہیے جو ہمیں معاشی نقصان پہنچانے والوں کا آلہ کار بن کر کام کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button