Column

پاکستان کے امن پیغام کی دُنیا میں گونج

پاکستان کے امن پیغام
کی دُنیا میں گونج
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے غیر ملکی دورے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری، متوازن خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہیں۔ سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور ایران جیسے اہم ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دی بلکہ پاکستان کو ایک ذمے دار، امن پسند اور سنجیدہ عالمی کردار کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔ ان دوروں کے بعد دونوں رہنمائوں کی وطن واپسی پر یہ حقیقت مزید واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں ایک مثبت اور تعمیری قوت کے طور پر ابھر رہا ہے اور قوم کا سر فخر سے بلند ہے۔ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت اور عالمی رہنماں سے ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان عالمی امور میں اپنی موثر موجودگی کو یقینی بنارہا ہے۔ وزیراعظم نے نہ صرف پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور مکالمے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ یہ وہ پیغام ہے جس کی آج کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جنگ، تنازعات اور کشیدگی کے اس دور میں پاکستان کا امن کا پیغام عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ وزیراعظم کا ترکیہ کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم اور سعودی عرب و قطر کے ساتھ تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو صرف بیانات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اسے موثر بناتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی اور دیگر شعبوں میں پیش رفت کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، جو مستقبل میں پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے میں ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورت حال، سفارتی رابطوں اور امن کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشرق وسطیٰ اس وقت مختلف تنازعات اور کشیدگی کا شکار ہے، ایسے میں پاکستان کا کردار ایک ذمے دار ثالث اور امن کے داعی کے طور پر سامنے آنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے اور یہی اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ آج دنیا پاکستان کی ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جارہا ہے اور اسے ایک ایسے ملک کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے جو امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ کامیابی محض حکومتی سطح پر نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ ایک خوش آئند لمحہ ہے کہ ان کا ملک عالمی برادری میں عزت و وقار کے ساتھ اپنا مقام بنا رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک متوازن اور اصولی خارجہ پالیسی اپنائی ہے۔ چاہے وہ علاقائی تنازعات ہوں یا عالمی سطح پر کشیدگی، پاکستان نے ہر موقع پر امن، انصاف اور مکالمے کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ حالیہ دوروں نے اس اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے اور پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنایا ہے۔ ان سفارتی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نہ صرف سیاسی اور سفارتی سطح پر بلکہ انسانی ہمدردی اور عالمی ذمے داری کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ سیلاب، قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں کے دوران پاکستان نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کیا اور متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کیے۔ یہی جذبہ اسے ایک ذمے دار ریاست بناتا ہے۔ اس وقت دنیا جن چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان میں جنگ، دہشت گردی، معاشی عدم استحکام اور سیاسی کشیدگی شامل ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے امن، برداشت اور مکالمے پر زور دینا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے یہ دورے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان ان چیلنجز کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ ان کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ قوم کے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ آج پاکستان کا نام عالمی سطح پر مثبت انداز میں لیا جارہا ہے۔ ایران جنگ کے مذاکرات کے ذریعے تصفیے اور امن کے لیے ہماری قیادت کی سفارتی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حالیہ دورے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی اور قیادت کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ امن کا پیامبر ہے، جو دنیا میں استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ قوم کا سر فخر سے بلند ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں بھی پاکستان اسی عزم اور جذبے کے ساتھ عالمی سطح پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
معاشی خودمختاری کی جانب قدم
پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو 2ارب ڈالر کی واپسی ایک اہم معاشی پیش رفت کے طور پر دیکھی جارہی ہے، جو نہ صرف مالی نظم و ضبط بلکہ حکومتی عزم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ رقم سیف ڈپازٹ کے طور پر پاکستان کے اکانٹ میں موجود تھی، جس پر پاکستان قریباً 6فیصد کے حساب سے سود بھی ادا کر رہا تھا۔ ایسے میں اس قرض کی واپسی بظاہر ایک مشکل مگر ضروری فیصلہ محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت جب عالمی معیشت بے یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ یہ اقدام اس بات کا عندیہ بھی دیتا ہے کہ پاکستان اپنی مالی ذمے داریوں کو بروقت ادا کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی ساکھ کا انحصار اس کی مالی شفافیت اور قرضوں کی بروقت ادائیگی پر ہوتا ہے۔ یو اے ای کی جانب سے اس رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ ایک سفارتی اور معاشی چیلنج تھا، جس سے پاکستان نے ذمے داری کے ساتھ نمٹنے کی کوشش کی۔ اگرچہ اس فیصلے سے فوری زرمبادلہ کے ذخائر پر دبا پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ اقدام پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی اعتماد کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان وسائل سے مالا مال مُلک ہے، یہاں کی زمینیں سونا اُگلتی ہیں۔ زمینوں کے اندر بے پناہ معدنی ذخائر مدفن ہیں۔ تیل و گیس کے بے پناہ ذخیرے ہمارے ملک کے طول و عرض کی زمینوں میں پوشیدہ ہیں۔ ضروری ہے کہ خودانحصاری کی پالیسی کی جانب قدم بڑھائے جائیں۔ اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ حکومت معاشی استحکام کے لیے دیرپا اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا پاکستان مستقبل میں ایسے مالی دبا سے نمٹنے کے لیے اپنی برآمدات، ٹیکس نظام اور سرمایہ کاری کے ماحول کو کس حد تک بہتر بنا پائے گا۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر اس کے ثمرات اسی صورت میں حاصل ہوں گے جب حکومت مسلسل اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے اور معیشت کو بیرونی سہاروں سے نکال کر خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرے۔

جواب دیں

Back to top button