بے خطر سپہ سالار

بے خطر سپہ سالار
تحریر : محمد محسن اقبال
انسان کے لیے اس دنیا میں اپنی جان سے بڑھ کر کوئی شے عزیز نہیں۔ اس کی حفاظت کی خاطر وہ ہر خطرے سے گزرنے اور ہر آزمائش کو سہنے کے لیے تیار رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور بس ایک ہی بار ملتی ہے، ایک ایسی امانت جس کی نگہبانی ہر ممکن احتیاط کے ساتھ کرنا لازم ہے۔ لیکن انہی انسانوں میں کچھ ایسے شیر دل بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذات کی پروا کیے بغیر، نہ صرف اپنے وطن بلکہ اپنے ہمسایوں اور امتِ مسلمہ کی خاطر آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں جو صرف وہی لوگ سرانجام دے سکتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ پر کامل یقین اور فولادی عزم کی روشنی ہو۔ انہی مردانِ حق میں ایک نام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھی ہے، جن کی شخصیت آج عالمِ اسلام میں بے مثال جرات اور ایثار کی علامت بن چکی ہے۔
ایک نہایت نازک گھڑی میں، جب مشرقِ وسطیٰ پر جنگ کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور فضا میں خطرے کی گونج سنائی دے رہی تھی، انہوں نے تہران، برادر اسلامی ملک ایران کے باوقار دارالحکومت، کا سفر اختیار کیا۔ یہ سفر کسی بھی طرح معمولی نہ تھا۔ ایک ایسے خطے میں قدم رکھنا جہاں حالیہ جھڑپوں کی تپش ابھی باقی ہو اور جہاں کسی بھی لمحے حالات بھڑک سکتے ہوں، یقیناً غیر معمولی جرات کا تقاضا کرتا تھا۔ اگرچہ پاکستان کے شاہینوں نے فضا میں ایک مضبوط حفاظتی حصار قائم کر رکھا تھا، مگر اس سفر میں شامل ہر فرد جانتا تھا کہ اصل حفاظت صرف اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے۔ اسرائیل، جو اپنی چالاکی اور انسانیت سوز کارروائیوں کے لیے بدنام ہے، پہلے ہی ایرانی قیادت کو نشانہ بنا چکا تھا۔ اس کے باوجود اس مردِ مجاہد کے دل میں نہ خوف تھا نہ تردد۔ ان کے سینے میں قرآن کی روشنی ہے، ایک ایسا قلعہ جو ہر آزمائش میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
تہران پہنچنے پر جو استقبال ہوا، وہ رسمی پروٹوکول سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جس خلوص اور گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا، وہ اسلامی اخوت کی زندہ تصویر بن گیا۔ اس کے بعد وہ سیدھا ایران کے دفاعی ہیڈکوارٹر ’’ خاتم الانبیائ‘‘ پہنچے، جہاں اعلیٰ عسکری قیادت سے تفصیلی اور بامقصد ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ محض ایک رسمی دورہ نہ تھا، بلکہ ایک جرات مندانہ سفارتی قدم تھا جس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ شدید ترین حالات میں بھی تدبر اور تحمل انتقام پر غالب آ سکتے ہیں۔
دنیا نے ان کی جرات کا مظاہرہ اس سے قبل بھی دیکھا، جب گزشتہ مئی میں انہوں نے دشمن کو اس کے اپنے گڑھ میں جا کر ایسا جواب دیا کہ مخالفین ششدر رہ گئے اور دوست ممالک کو نئی امید ملی۔ لیکن ان کی عظمت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ جب امن، دوستی اور ثالثی کا وقت آتا ہے تو وہ اسی اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایرانی قیادت نے ان کی بہادری اور امن پسندی کو کھلے دل سے سراہا اور ان میں صرف پاکستان کے سپہ سالار ہی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ایک رہنما کی جھلک دیکھی۔
آج عالمِ اسلام کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جہاں ان کی جرات اور خدمات کا ذکر نہ ہوتا ہو، جکارتہ کی گہما گہمی سے لے کر دمشق کی قدیم گلیوں تک، اناطولیہ کے پہاڑوں سے لے کر شمالی افریقہ کے ساحلوں تک۔ حتیٰ کہ وہ قوتیں بھی جو کبھی مخالف تھیں، اب ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور دکھائی دیتی ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ، جو ماضی میں پاکستان کے حوالے سے تعصب کا شکار رہے، اب اس مردِ مومن کی قیادت کو سراہنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت میں اسلامی تاریخ کے عظیم سپہ سالاروں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، حضرت خالد بن ولیدؓ کی عسکری بصیرت، طارق بن زیاد کا ایمان افروز عزم، اور صلاح الدین ایوبیؒ کی عدل و شجاعت۔ ان کی طرح وہ بھی جانتے ہیں کہ جب نیت خالص ہو اور دل اللہ کی رہنمائی سے وابستہ ہو تو راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں اور کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔
ان دنوں ان کا مشن اسلام آباد میں ہونے والی سابقہ سفارتی کوششوں کا تسلسل ہے۔ اپنے رفقاء اور اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطہ مزید خونریزی سے بچ سکے۔ ایسے وقت میں جب دنیا عدم اعتماد اور طاقت کے کھیل کا شکار ہے، پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس پل کے معمار ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ فخر کا ہے۔ جب کئی قومیں خطرات سے گریزاں ہیں، اس سرزمین کا ایک فرزند نہ صرف اپنے ملک بلکہ وسیع تر انسانی اور اسلامی مفاد کے لیے میدان میں اترا ہے۔ ان کی قیادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل عظمت عہدوں میں نہیں بلکہ اس جرات میں ہے جو دوسروں کے لیے خطرات مول لے۔
اللہ تعالیٰ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، انہیں ان کے عظیم مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے، اور پاکستان کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔ اللہ کرے کہ جنگ کے خطرناک سائے چھٹ جائیں اور امن و اخوت کی روشنی اس خطے کو منور کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی مردانِ حق انسانیت کو یہ سبق دیتے ہیں کہ جب جرات ایمان سے جڑ جائے تو تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتا ہے۔




