میڈ مین تھیوری کا جدید ارتقاء

میڈ مین تھیوری کا جدید ارتقاء
تحریر : قادر خان یوسف زئی
بین الاقوامی تعلقات، عسکری حکمت عملی، اور تزویراتی پالیسی سازی کے وسیع تر دائرہ کار میں جبر، خوف، اور غیر یقینی صورتحال کو طویل عرصے سے گفت و شنید اور سودے بازی کے انتہائی موثر آلات کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس وسیع تر تاریخی اور سیاسی تناظر میں ’’ میڈ مین تھیوری‘‘ ایک انتہائی پیچیدہ، نفسیاتی، اور متنازعہ سیاسی نظریہ کے طور پر ابھرتی ہے۔ اس نظریے کا بنیادی اور کلیدی مقصد حریف ریاستوں اور ان کی قیادت کو جان بوجھ کر یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ مخالف رہنما مکمل طور پر غیر معقول، جذباتی، ذہنی طور پر غیر مستحکم، اور حد سے زیادہ غیر متوقع ہے۔ اس تزویراتی نظریے کی بنیاد اس نفسیاتی مفروضے پر قائم ہے کہ جب کوئی رہنما بظاہر غیر عقلی یا ’’ مجنونانہ‘‘ رویہ اپناتا ہے، تو وہ دھمکیاں جو عام اور پرامن حالات میں بالکل ناقابلِ یقین مجھی جاتی ہیں، وہ بھی حریف کی نظر میں انتہائی موثر اور قابلِ یقین بن جاتی ہیں۔تاریخی اور فلسفیانہ اعتبار سے اس سوچ اور حکمت عملی کے تانے بانے سولہویں صدی کے اوائل میں ملتے ہیں۔ سن 1517میں مشہور اطالوی مفکر اور سیاسی نظریہ دان نکولو میکیاولی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف Discourses on Livyمیں ان افکار کو قلمبند کیا اور استدلال پیش کیا کہ بسا اوقات سیاسی اور عسکری فوائد کے حصول کے لیے ’’ پاگل پن کا دکھاوا کرنا ایک انتہائی دانشمندانہ اقدام ہوتا ہے‘‘۔ تاہم، اس نظریے کو محض ایک فلسفیانہ خیال سے نکال کر باقاعدہ ریاستی پالیسی، عسکری ڈاکٹرائن، اور خارجہ امور کے ایک منظم ہتھیار کے طور پر امریکی صدر رچرڈ نکسن اور ان کی انتظامیہ نے سرد جنگ اور ویتنام جنگ کے انتہائی کشیدہ ماحول کے دوران متعارف کرایا۔
رچرڈ نکسن کا بنیادی تصور اور ویتنام جنگ میں تاریخی اطلاق رچرڈ نکسن کے دورِ صدارت میں اس نظریے کا باقاعدہ، منظم، اور ادارہ جاتی اطلاق سوویت یونین اور شمالی ویتنام کی کمیونسٹ قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ان سے من مانی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس نظریے کی تخلیق اور اس پر عمل درآمد کی اندرونی کہانی نکسن کے اسسٹنٹ اور وائٹ ہائوس کے چیف آف اسٹاف ایچ آر ہالڈیمین نے بیان کی۔ ہالڈیمین نے 1978 ء میں شائع ہونے والی اپنی یادداشتوں (The Ends of Power)میں انکشاف کیا کہ نکسن نے1968ء کے موسم گرما میں بحر الکاہل کے ساحل پر چہل قدمی کرتے ہوئے اس خطرناک نظریے کی بنیاد رکھی۔نکسن کا تزویراتی مقصد ماسکو اور ہنوئی کو سفارتی ذرائع سے یہ پیغام دینا تھا کہ امریکی صدر کمیونزم کے خلاف ایک خبط اور پاگل پن کی حد تک جنون میں مبتلا ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ دنیا میں یہ بات پھیلا دی جائے کہ غصے کی حالت میں نکسن کو روکا نہیں جا سکتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا ہاتھ ہر وقت ایٹمی بٹن پر ہوتا ہے۔ نکسن کا ماننا تھا کہ اس نفسیاتی دہشت کے نتیجے میں ویتنامی رہنما ہو چی منہ محض چند ہفتوں میں پیرس میں امن کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ نکسن نے یہ حکمت عملی سابق امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کے کوریائی جنگ کے تجربات اور ان کے مشاہدات کی بنیاد پر اخذ کی تھی۔ نکسن کے مطابق، آئزن ہاور نے 1953ء میں کوریائی جنگ کے تعطل کو اس وقت توڑا تھا جب انہوں نے خفیہ طور پر چین کی قیادت کو یہ پیغام بھجوایا کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو امریکہ شمالی کوریا پر ایٹمی بم گرا دے گا۔
اس نظریے کی روشنی میں نکسن نے 1969ء میں متعدد خطرناک، اشتعال انگیز، اور غیر متوقع اقدامات کیے۔ اگست 1969 ء میں، نکسن نے رومانیہ کے صدر نکولائی چائو سسکو کے ذریعے کمیونسٹ بلاک کو دھمکی دی کہ اگر یکم نومبر تک امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے گا، جو کہ عسکری اضافے کی ایک واضح دھمکی تھی۔ مزید برآں، اکتوبر 1969ء میں، نکسن کی ہدایت پر امریکی فوج کو خفیہ طور پر ہائی الرٹ پر رکھا گیا، جسے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ریڈینس ٹیسٹ کا نام دیا گیا۔ اسی کڑی کے تحت، نکسن نے ’’ آپریشن جائنٹ لانس ‘‘ کا آغاز کیا، جس میں 18ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بی۔52بمبار طیاروں کو سوویت یونین کی سرحدوں کی جانب بھیجا گیا تاکہ سوویت قیادت کو اس بات کا یقین دلایا جا سکے کہ نکسن ویتنام جنگ کو ختم کرنے کے لیے عالمی ایٹمی تنازعہ چھیڑنے کا خطرہ مول لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ تزویراتی فیصلہ ایک وسیع تر ’’ لنکیج‘‘ پالیسی کا حصہ تھا، جس کے تحت ایک محاذ پر کامیابی ( جیسے کہ ایٹمی مذاکرات) کو دوسرے محاذ ( ویتنام) پر پیش رفت سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ تاہم، داخلی محاذ پر، نکسن کی اپنی کابینہ میں ان فیصلوں پر شدید اختلافات پائے جاتے تھے۔ جب مئی 1969ء میں نکسن ویتنام سے افواج کے انخلاء کے حوالے سے تقریر کرنے والے تھے، تو وزیر دفاع میلون لیرڈ اور وزیر خارجہ ولیم راجرز نے ان کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ نکسن کی یہ حکمت عملی اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں زیادہ تر ناکام رہی۔ سوویت یونین اور شمالی ویتنام پر اس غیر متوقع رویے کا وہ اثر ہرگز نہیں ہوا جس کی نکسن کو توقع تھی، کیونکہ کمیونسٹ قیادت نکسن کو حقیقی معنوں میں ’’ پاگل‘‘ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھی، اور اس حکمت عملی کے حد سے زیادہ خفیہ ہونے کی وجہ سے یہ مطلوبہ سفارتی دبا پیدا نہیں کر سکی۔ خود نکسن نے 1984ء میں مورخ جان ہوف کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ’’ میڈ مین تھیوری‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا، حالانکہ بعد ازاں 1985ء میں ٹائم میگزین کے ایک انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے چار مختلف مواقع پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کیا تھا۔
طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر جنون کا لبادہ اوڑھنا اور تہذیبوں کو مٹانے کی دھمکیاں دینا اب کوئی کارگر سفارتی ہتھیار نہیں رہا۔ 2026ء کی امریکہ، ایران جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ ’’ میڈ مین تھیوری‘‘ جدید اور باہم جڑی ہوئی دنیا میں ایک سٹریٹجک بوجھ ہے۔ یہ نظریہ شاید وقتی طور پر حریف کو حیرت میں ڈال دے یا عسکری تنصیبات کو تباہ کر دے، لیکن یہ نہ تو قوموں کے عزم کو توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان کی حکومتوں کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ عالمی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے، اتحادیوں کو بدظن کرتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں استحکام، فہم و فراست اور عالمی قوانین کی پاسداری ہی وہ واحد راستہ ہے جو اقوام عالم کو تباہی اور بربادی کی اس اندھی کھائی میں گرنے سے بچا سکتا ہے جس کی طرف مجنونانہ حکمت عملیاں دنیا کو دھکیل رہی ہیں۔





