پھانسی کے بعد بھٹو کی میت کو آخری غسل دینے والے حیات محمد کا انکشاف

پھانسی کے بعد بھٹو کی میت کو آخری غسل دینے والے حیات محمد کا انکشاف
تحریر : راجہ شاہد رشید
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد میرے ملک و قوم جو سب سے بڑا عوامی لیڈر ملا تھا بلاشبہ وہ فخر ایشیا، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید ہی تھے، صد افسوس کہ ہم نے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا، بھٹو کے جانے کے بعد ہمیں اس طرز و لیول کا لیڈر آج تک نہیں ملا۔ بھٹو نے اپنی جان تو دے دی مگر آمریت سے سمجھوتا نہیں کیا، میرا اپنا ہی ایک شعر ہے کہ۔
پھانسی چڑھ کر شیر بھٹو، نعرہ حق بول گیا
فکر وہ اپنی آفاقی ، سچ میزان پہ تول گیا
بہت ہی کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بعد اُن کے جسدِ خاکی ( میت ) کو غسل دینے والے بابا حیات محمد کا تعلق تحصیل تلہ گنگ کے ایک دور افتادہ گائوں سے تھا اور پچیس برس قبل ایک اخبار نے اس کا انٹرویو شائع کیا تھا، جس میں 3اور 4اپریل کی درمیانی رات بھٹو شہید کی میت کو آخری غسل دینے کی داستان بیان کرتے ہوئے حیات محمد نے بتلایا کہ’’ میں مولوی غلام اللہ کی مسجد میں خادم تھا، بھٹو صاحب کی پھانسی سے ایک دن پہلے رات کو کچھ فوجی ایک گاڑی میں ڈال کر مجھے لے گئے، انہوں نے سب سے پہلے میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور مجھے تسلی دی کہ پریشان نہ ہونا تمہیں چھوڑ دیں گے، وہ دو گھنٹے گاڑی میں لے کر پھرتے رہے، مجھے پتا ہی نہیں چلا وہ مجھے کہاں لے گئے، ایک کمرے میں لے جا کر میری پٹی کھولی تو میں نے جائے نماز مانگی، انہوں نے دے دی، میں نے پوچھا مجھ سے کیا غلطی ہوئی، جواب ملا کہ بس دو دن بعد تمہیں چھوڑ دیں گے، رات کے کھانے کے بعد وہ مجھے کسی اور جگہ لے گئے، ایک کمرے میں بند کر دیا، میری نیند اُڑ گئی، آدھی رات کو دو آدمی آئے اور مجھے کہا ایک میت کو غسل دینا ہے، وہ مجھے ساتھ لے گئے، رات ایک ڈیڑھ بجے کا وقت ہوگا، مجھے دو بڑی بالٹیاں گرم پانی اور صابن تولیہ غسل کا سامان دے دیا گیا، دو جوان بھی مدد کے لئے میرے پاس بٹھا دئیے، دس بارہ افسر کھڑے تھے اور ارد گرد بہت سے فوجی جوان بندوقیں اٹھائے ڈیوٹی دے رہے تھے، ایک فوٹو گرافر تھا، ایک لمبے قد کا آدمی ویڈیو بنا رہا تھا، ایک جلاد بھی موجود تھا۔ چند منٹ بعد میں حیران رہ گیا، میں نے دیکھا آٹھ دس افسروں اور مسلح سپاہیوں کے ساتھ ایک بہت ہی کمزور آدمی جو ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ رہا تھا، بہت آہستہ آہستہ چلتا ہوا ہماری طرف آرہا تھا اور سب سے پیچھے دو آدمی خالی سٹریچر اُٹھائے چل رہے تھے، قریب آنے پر میں نے بغور دیکھا وہ بھٹو صاحب تھے، انہیں ہتھکڑی لگی تھی، ایک سپاہی نے ہتھکڑی کی زنجیر پکڑی تھی، میں دیکھ کر ڈر گیا، مجھے سمجھ آگئی کہ یہ مجھے بھٹو صاحب کی میت کو غسل دلانے کیلئے لائے ہیں، بھٹو صاحب بہت ہی کمزور تھے، ان سے چلا نہیں جا رہا تھا، وہ بہت آہستہ چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ چل رہے تھے لیکن ان کے چہرے پر بہت سکون اور اطمینان تھا، ہمارے قریب پہنچ کر ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، انہوں نے ہتھکڑی سے اپنا ہاتھ ہلکا سا ہلایا جس طرح وہ جلسوں جلوسوں میں ہلایا کرتے تھے، بھٹو صاحب ہمارے سامنے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے پھانسی گھاٹ تک گئے اور پھانسی کے تختے پر جا کر کھڑے ہوگئے، جلاد نے ان کے ہاتھ پیچھے باندھے، ان کے پائوں بھی باندھ کر ان کے چہرے پر کالے رنگ کا نقاب چڑھایا، اس وقت بھٹو صاحب نے سر کو دائیں بائیں دو تین بار ہلایا جیسے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ اس کی ضرورت نہیں اس کو اتار دو۔ اس کے بعد جلاد نے رسہ ان کی گردن میں ڈالنے کے بعد ہینڈل کھینچ دیا اور وہ نیچے موت کے کنوئیں میں لٹک گئے، قریبا آدھے گھنٹے بعد جلاد نے جب انہیں نیچے اُتارا تو اس کے چند منٹ بعد ایک زوردار چیخ کی آواز سنائی دی اور جلاد بے ہوش ہوگیا، فوجی جوانوں نے اسے سٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس میں ڈالا اور تیزی سے لے گئے، اس کے بعد بھٹو صاحب کی میت کو غسل دینے کے لئے موت کے کنوئیں کے ساتھ ہی رکھے ہوئے لکڑی کے تختے پر لایا گیا اور میں نے دو آدمیوں کی مدد سے ان کی میت کو غسل دینا شروع کیا تو یہ دیکھ کر میں حیران ہو گیا کہ بھٹو صاحب کی آنکھیں ابلی ہوئی یعنی باہر کی طرف نکلی ہوئی نہیں تھیں، جیسے پھانسی کے بعد ہو جاتی ہیں، ان کی زبان بھی باہر نہیں نکلی ہوئی تھی، ان کی گردن بھی نہ تو لمبی ہوئی تھی اور نہ ہی گردن کا منکا یا ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، بھٹو صاحب کے چہرے پہ اتنا نور تھا جیسے چودھویں کا چاند ہو، سب سے بڑی حیرت کی بات یہ تھی کہ میں نے بھٹو صاحب کی پھانسی کا عمل اپنے سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود ان کی گردن پر رسے کا کوئی نشان تک نہ تھا، یہ سب دیکھ کر میرا سارا جسم پسینے سے گیلا ہو گیا، میں نے آیت الکرسی پڑھنا شروع کی، میرے ہاتھ، میرا سارا جسم کانپ رہا تھا، بھٹو صاحب کے سر کے پچھلے حصے پر گومڑا بنا ہوا تھا، جیسے انہیں وہاں مارا گیا ہو، ان کی گردن کے پچھلے حصے پر بھی چوٹ کا نشان تھا، اس کے علاوہ ان کی کنپٹیوں، کاندھوں، کمر اور ٹانگوں پر جگہ جگہ نیل پڑے تھے، جیسے کسی سخت چیز سے انہیں مارا گیا ہو، بھٹو صاحب کے پورے جسم پر جگہ جگہ چھالے بھی تھے، میں بھٹو صاحب کی میت کو غسل دے رہا تھا اس وقت بھی فوٹو گرافر اور ویڈیو بنانے والا دونوں تصویریں اور فلم بنارہے تھے، میت کو غسل دینے کے بعد مجھے دوبارہ اسی کمرے میں لے گئے، کمرے میں پہنچتے ہی مجھے تیز بخار ہو گیا، ڈاکٹر آیا اس نے مجھے چیک کیا اور دوائی دی، شام تک بخار اُتر گیا تو میرے کمرے میں ایک بڑی مونچھوں والا آدمی آیا، اس نے مجھے کچھ پیسے دیئے اور سختی سے کہا کہ تم نے آج یہاں جو کچھ دیکھا اگر کبھی کسی سے اس کا ذکر کیا تو تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی خیر نہیں، رات کو وہ مجھے واپس چھوڑ گئے۔ جنرل ضیاء کی وفات کے بعد جب میں نے اپنے قریبی عزیزوں کو اس بارے میں بتایا اور ان کے ذریعے سینہ بہ سینہ مزید لوگوں کو پتہ چلا تو بھٹو صاحب کے کئی چاہنے والے لوگوں سے پوچھتے مجھ تک پہنچتے اور بھٹو صاحب کی عقیدت میں میرے ہاتھ چومتے رہے لیکن اس سے قبل میں نے کسی سے یہ بات نہیں کی، میرے خیال میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کے ساتھ بہت ہی زیادتی و ظلم کیا ہے‘‘۔ عمران خان کے ساتھ تو ڈھیلیں و ڈیلیں جاری ہیں اور ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کا رونا رونے والوں کو بھی دوبارہ نوکری پہ رکھ لیا گیا ہے، میرے خیال میں پاکستان کی تاریخ میں کسی اور سیاسی لیڈر پر اس قدر مظالم کے پہاڑ نہیں ٹوٹے ہوں گے جو شہید ذوالفقار علی بھٹو پر توڑے گئے۔





