
جگائے گا کون؟
پاکستان امن کی امید کا مرکز
تحریر: سی ایم رضوان
ایک محتاط اندازے کے مطابق مشرق وسطیٰ جاری جنگ سے خطے کو 194ارب ڈالر تک کے معاشی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق خطے کی جی ڈی پی میں 3.76فیصد تک کمی آ سکتی ہے، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں 70فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے، تیل کی قیمت 72سے بڑھ کر 120ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اور اس میں روز بروز اضافہ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے مزید 40لاکھ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں، جس میں عراق، لبنان اور شام سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، خطے میں16لاکھ سے 36 لاکھ تک ملازمتیں خطرے میں ہیں۔ اس کے علاوہ اگر یہ جنگ مزید طویل ہوتی ہے تو خطہ کی تباہی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھوک میں اضافے کے خدشات مزید وسیع اور خوفناک ہو سکتے ہیں۔ افسوس کہ ان خطرات سے خدشات کو اچھی طرح جان بوجھ کر بھی ٹرمپ جیسا شیطان صفت حکمران جنگ پر مصر ہے۔ تاہم اب اس کے خلاف ایران کی ثابت قدمی نے اس کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے اور میڈیا میں خوفناک دھمکیوں کے ساتھ ساتھ وہ در پردہ اس جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ پاکستان کا کردار اس جنگ کے پہلے روز ہی سے مصالحت اور امن والا ہے۔ اب انہی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ دو روز سے دنیا بھر میں اسلام آباد اکارڈ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ اکارڈ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور جنگ بندی کے لئے تیار کیا گیا ایک مجوزہ دو مرحلہ امن منصوبہ ہے۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں امن قائم کرنا، فوری جنگ بندی، اور آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے، جس کے تحت ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کر سکتا ہے۔ پاکستان نے یہ فریم ورک ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے پیش کیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنا شامل ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 15سے 20دنوں کے اندر مستقل جنگ بندی اور ایٹمی معاہدے کو حتمی شکل دینا شامل ہے۔ اس معاہدے کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی متوقع ہے۔ رائٹرز کی مطابق، اس تجویز پر بات چیت جاری ہے، جس میں پاکستان کے آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے میں ہیں۔ تاہم، ایرانی حکام نے ابھی تک کسی ڈیڈ لائن یا دبا کو قبول نہ کرنے کا موقف اپنایا ہوا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے البتہ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے۔ اور وہ مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان نے جامع جنگ بندی کا فریم ورک امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ شیئر کر دیا ہے اور معاہدے پر دونوں اطراف سے عملدرآمد کے لئے غوروخوض کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کیلئے اس نئے منصوبے میں پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اتوار کی شب رات بھر ان تجاویز کے معاملے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور جنگ بندی سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ امریکی اور برطانوی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کو 45روز کے لئے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تجاویز پر مشتمل مسودہ موصول ہو گیا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاو?س حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی امن تجویز زیر غور ہے، ٹرمپ نے ابھی منظوری نہیں دی۔ تاہم پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز ایسے کئی خیالات میں سے ایک ہے، جن پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق آپریشن ایپک فیوری جاری ہے۔ دوسری طرف امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق دو ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے مختلف تجاویز پر مشتمل یہ مسودہ تیار کیا گیا ہے جو کئی روز سے جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان ممالک کو اُمید ہے کہ 45روزہ جنگ بندی کے دوران بات چیت کے بعد اس جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک بھر سے ایک کروڑ 20لاکھ افراد نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لئے خود کو رجسٹرڈ کرا لیا ہے۔ 10روز قبل پاسداران انقلاب کی جانب سے عوام سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک کی خود مختاری یقینی بنانے کے لئے ایرانی فوج میں شامل ہوں جس پر بھر پور رد عمل سامنے آیا ہے اور 12ملین افراد 10روز کے اندر خود کو رجسٹرڈ کرا چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی میڈیا نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں سیستان ایران سے تعلق رکھنے والوں کو ایران کے لئے لڑنے کی خاطر تیار دکھایا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایران ایک مرکزی کردار بن چکا ہے۔ تاہم، جو چیز اس وقت سب سے اہم اور غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے، وہ امریکہ میں ایران کے حوالے سے منقسم عوامی رائے ہے۔ یہی رائے نہ صرف واشنگٹن کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملیوں کا توازن بھی متاثر کر رہی ہے۔ حالیہ سروے اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق امریکی عوام میں ایران سے متعلق رائے دو واضح دھڑوں میں منقسم ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو ایران کو امریکہ کے لئے ایک حقیقی خطرہ قرار دیتا ہے اور سخت پالیسی، پابندیوں اور حتیٰ کہ فوجی کارروائی کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ گروہ بھی موجود ہے جو سفارت کاری، مذاکرات اور نیوکلیئر معاہدے کی بحالی کو ترجیح دیتا ہے۔
47 فیصد امریکی ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں، 33فیصد ایران کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں، 20فیصد افراد ایران سے متعلق پالیسیوں میں غیر جانبداری کے قائل ہیں، اسی منقسم رائے نے پالیسی سازی میں امریکی انتظامیہ کو شدید دبا میں ڈال دیا ہے۔ امریکی حکومت ایک طرف عالمی اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف اندرونی سیاسی مخالفت کا سامنا بھی ہے۔ دوسری طرف یورپ میں بھی ایران کو ایک پیچیدہ چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کی اسٹیبلشمنٹ کی کوشش ہے کہ خطہ میں لگی ہوئی یہ آگ جلد سے جلد بجھ جائے اور امن کے قیام کی راہ ہموار ہو۔ اس سلسلے میں پاکستان پر نہ تو کوئی سیاسی و سفارتی دبا ہے اور نہ ہی وہ یہ کردار کسی عالمی طاقت کی خوشنودی کے لئے کر رہا ہے بلکہ خطہ میں امن کا قیام اس کی اپنی ضرورت اور ترجیح ہے۔ جو لوگ پاکستان کے اس ثالثانہ مصالحتی کردار کو کمزور یا امریکا کے زیر اثر قرار دینے کی باتیں کرتے ہیں انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے اعتماد اور احترام کے اظہار کے باوصف پاکستان سفارت کاری کے ساتھ ساتھ خطہ میں اپنی سٹریٹجک حیثیت اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کی حیثیت سے بھی مصالحت کا کردار ایک باعزت ثالث کے طور پر کر رہا ہے جو کہ ہر حوالے سے ایک اچھی کوشش تسلیم کیا جانا چاہئے۔ ان حالات میں بھارت اور پی ٹی آئی ٹرولز کے پیٹ میں جو مروڑ اٹھ رہے یہ ان کی اپنی حاسدانہ اور سطحی سوچ تو ہو سکتی ہے مگر اس سوچ کا نہ تو کوئی علاج ہے اور نہ ہی انہیں مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور تاریخی روابط اس کو مشرق وسطیٰ میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لئے موزوں بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے تجربے اور روابط کو استعمال کر کے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے اور مصالحت کو فروغ دینے میں مدد کر رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری مضبوط اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر نوعیت میں موجود ہیں۔ تاہم، پاکستان کو اپنی طاقت اور صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ اس کو اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ خوش کن امر یہ ہے کہ پاکستان کا مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے ساتھ فوجی تعاون بھی موجود ہے اس کی فوجی صلاحیتوں کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی امن کی خواہش کو مشرق وسطیٰ میں نافذ کرنے اور دنیا میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لئے کوشش کر رہا ہے۔ اس کے لئے پاکستان کے تجربے اور روابط کو امریکہ اور ایران یکساں طور پر استعمال کرنے کے حق میں ہیں۔ دنیا بھر میں جنگ کے خطرات اور نقصانات کے تذکرے کے ساتھ پاکستان امن کے مرکز کے طور پر آج قابل ذکر قوت کے طور پر ابھرا ہے اور اس کا کریڈٹ موجودہ فوجی اور سیاسی دونوں قیادتوں کو جاتا ہے۔
پاکستان زندہ باد۔





