Columnمحمد مبشر انوار

اُڑان کا موسم !!! ….. محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو چکی اور اپوزیشن نے حکومتی بنچ سنبھال لیے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرنے کے لیے اپوزیشن کو کیاکیا پاپڑ بیلنے پڑے،کہاں کہاں سر رگڑنا پڑا اور اسی طرح حکومت نے کہاں کہاں گریہ زاریاں کیں، کیسے اس تحریک کو ناکام کرنے کی کوششیں کی،یہ سب اب تاریخ کا حصہ بن چکاہے ۔ یہ قصہ بھی ویسے ہی دفن ہو جائے گا جیسے اس سے قبل کئی ایک قومی راز تاریخ نے اپنے سینے میں دفن کر رکھے ہیںاور بعد ازاں کوئی دوسرا ملک اس راز سے پردہ اٹھا دیتا ہے لیکن آج ٹیکنالوجی کے دور میں ایسے واقعات دوسرے ممالک فوری افشا بھی کر دیتے ہیں ۔ تحریک عدم اعتماد میں غیر ملکی مداخلت کا حوالہ تو خیر پڑوسی ملک بھارت سے بھی موصول ہو چکا ہے کہ وہاں کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم مودی سے سوال کیا ہے کہ کھربوں ڈالر کے ہتھیار ،پاکستان سے جنگ کرنے کے لیے کیوں خریدے جبکہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے بھی کم میں خریدا جا سکتا ہے۔ اس ایک ٹویٹ میں ایک طرف بھارتی عناد، بغض اور نفرت واضح ہے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اوردوسری طرف پاکستانی بدبو دارسیاست کا پردہ بھی چاک کیا ہے، اسی طرح گیرٹ ولڈرز ،جو گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا خالق تھا،اس کا ٹویٹ بھی اس امر کی غماضی کرتا ہے کہ عمران خان نے حقیقی معنوں میں حرمت رسول ؐکی عالمی سطح پر نگہبانی کی ہے،خواہ اس کا ماضی یا حال کیسا بھی رہا ہے لیکن اس حرمت رسولؐ پر اس نے عالمی سطح پر نہ صرف دل سے مقدمہ لڑا بلکہ اس میں کامیاب بھی رہا ہے۔یوں عمران خان نے بھی پاکستانی سیاست میں وہی چورن بیچا جو اس سے پہلے سیاسی رہنما بیچتے رہے ہیں لیکن دوسرے رہنماؤں کی مذہبی کارکردگی بہرطور عمران خان سے کم رہی اور اس وقت عمران خان کا امریکی مخالفت،مذہبی جذبات اور ’’عوامی‘‘ غیرجانبداری کا چورن بک رہا ہے ۔

عدم اعتماد کی کامیابی میں پس پردہ کون سے عوامل روبہ کار آئے کہ عمران خان کو گھر بھیجنا وقت کی اہم ترین ضرورت بلکہ ایک چیلنج بن گیا ،جس کو حاصل کرنے کے لیے عوام کو متحرک ہونا پڑا،موجودہ صورتحال میں ’’عوامی‘‘تحرک کی بنیادی وجہ ایک ہی رہی، جس سے عمران خان مسلسل انکار کرتے رہے اور تادم تحریر وہ بنیادی وجہ ہنوز اپنی حیثیت میں برقرار ہے جبکہ باقی سارا نظام الٹ پلٹ ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت گو کہ ختم ہو گئی لیکن پاکستان کے قومی اداروں نے اس میں کیا کردار ادا کیا ہے،اس کے حوالے سے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ عالمی میڈیا نے جس طرح کارٹون شائع کئے ہیں، ان کو یہاں ضبط تحریر میں لانا بھی ممکن نہیں ۔
عمران خان کی حکومت ختم ہو چکی لیکن اس حکومت کے خاتمے میں کس نے کیا کردارادا کیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور آنے والا مؤرخ یہ ضرور لکھے گا کہ اس حکومت کا خاتمہ کم از کم قومی مفاد کے تحت نہیں ہوا بلکہ ذاتی مفادات مد نظر رکھے گئے۔واقفان حال ان ذاتی مفادات سے بخوبی واقف ہیں کہ ذاتی مفادات سے میری مراد کیا ہے اور وجہ تنازعہ میں اس قدر شدت کیوں اور کیسے ہوئی کہ ضبط تحریر لاتے ہوئے واقعتا ’’پر‘‘جلتے ہیں۔ عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے پر جو اگلا لائحہ عمل اختیار کرنے جا رہے ہیں،اس سے کئی پہلو سامنے آنے والے ہیں کہ اپنی حکومت ختم ہونے پر عوام کو جس طرح متحرک کیا گیا ہے کیا وہ مناسب ہے؟ایسی حرکت پر نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف کو کس طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن آج خود وہی رویہ چہ معنی دارد؟چشم فلک نے اتوار کی شب حیران کن منظر دیکھا کہ حکومت سے معزوب ہونے والے وزیراعظم کی پکار پر عوام جوق درجوق سڑکوں پر نکل آئے اور معزول وزیراعظم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا،اسی طرح پیر کی شب شہباز شریف کے وزیراعظم بننے پر نون لیگی کارکنوں نے بھی جشن منایا۔ البتہ پیر کے شب تحریک انصاف کے کارکن سڑکوں پر نظر نہیں آئے،اس پر وہ قابل ستائش ہیں کہ کسی بھی قسم کے ٹکراؤ کی صورتحال نہیںبننے دی، دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی رہنما کے بغیر احتجاج کے لیے آئے تحریک انصاف کے کارکنان نے ضبط کا مظاہر کیا اور ملک کے کسی بھی حصے سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے،جو نہ صرف خوش آئند بلکہ دوسری جماعتوں کے لیے قابل تقلید بھی ہے۔
دوسری طرف متبادل لائحہ عمل اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا ہے،جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی حکومت کو فوری طور پر ایک بحران کا شکار کر دیا جائے اور نئی حکومت نئے انتخابات پر مجبور ہو جائے لیکن کیا یہ نئی حکومت کے لیے مشکل ہو سکتا ہے ؟بالخصوص جب نئی حکومت کے سامنے قریباً سوا؍ڈیڑھ سال کا عرصہ موجود ہو اور نئی حکومت کے سامنے مفادات کا انبار کثیر ہے کہ کس طرح اگلے انتخابات میں اپنی اکثریت ممکن بنائی جائے۔بہرطور ایک حقیقت واضح ہے کہ عمران خان کی کال پر نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی ان کے حامی نکلے ہیں اور ایسا دوسری مرتبہ دیکھنے میںآیا ہے کہ جب عوام کی اتنی بڑی تعداد حکومت ختم ہونے پر سڑکوں پر نکلی ہے وگرنہ تو قائدین کو یہاں تک کہنا پڑا کہ میرے کانوں میں یہ آوازیں تواتر سے پڑتی رہی کہ ’’قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘لیکن جب پلٹ کر دیکھا تو کوئی نظر نہیں آیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد،ادارے دوبارہ ایسی غلطی کرنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی جو قیمت اداروں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے،وہ بھی کسی صورت کم نہیں اور عوام مسلسل میوزیکل چیئر کے اس کھیل سے باہر نہیں نکل رہی۔البتہ اس مرتبہ جو واضح فرق نظر آ رہا ہے وہ واقعتا خیرہ کر دینے والا ہے کہ ایکس مین سروس سوسائٹی ،جن کی مجموعی تعداد قریباً تین ملین کے قریب ہے،کے کئی ایک ممبران نے اپنی ویڈیوز بنا کر عمران خان کے حق میں آواز اٹھائی ہے،جو آج سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
نئی حکومت ،جو گیارہ جماعتوں کا اتحاد ہے،کس طرح بروئے کار آئے گی،کیسے ہر اتحادی کو مطمئن کیا جائے گا،کس طرح ساخت اور ہیت طے ہوگی،یہ یقینی طور پر ایک مشکل امر ہو گا لیکن یقین ہے کہ گھاگ سیاستدان اس مشکل سے نکل ہی آئیں گے اور بالفرض متوقع مفادات حاصل نہیں بھی ہوتے ، تب بھی وہ حکومت کی مخالفت کم ازکم نہیں کریں گے۔ اگلے انتخابات میں یہ سب اتحادی کس طرح میدان عمل میں آئیں گے،اس کے متعلق فی الوقت یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ ایک حقیقت واضح ہے کہ پیپلز پارٹی بہرطور پنجاب سے اپنا حصہ ضرور طلب کرے گی کہ مفاہمتی؍ڈرائنگ روم کی سیاست میں جو نقصان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ہوا ہے،اس کا ازالہ بھی ضروری ہے لیکن کیا پنجاب میں پیپلز پارٹی کو حصہ مل پائے گا؟مستقبل کا سیاسی نقشہ بہرطور الجھا ہوا اور پیچیدہ لگ رہا ہے۔مختلف نظریات کی حامل یہ جماعتیں ملکی خدمت میں کیا نئے کارہائے نمایاںسرانجام دیتی ہیں،مستقبل میں اس کا بھی پتہ چل جائے گا،البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پیر کے روز تک مارکیٹ میں ڈالر کی اونچی اڑان میں یکلخت واضح کمی دیکھنے میں آئی اور ڈالر کی قدر میں آٹھ روپے کی کمی ہوئی ہے۔
اس پس منظر میں بظاہر عمران خان کے لیے یہ زیادہ مناسب نظر آتا ہے کہ اپنی پوری جماعت کے ساتھ مستعفی ہو کر عوام سے رابطہ قائم کرے اور حکومت کو مجبور کر دے کہ نئے انتخابات کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہ رہے لیکن ایسا ہوتا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری طرف حقائق اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیںکہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد ان الیکٹ ایبلز پر مشتمل ہیںاور ان کی اکثریت بہرطور اپنی پرانی جماعتوں سے وابستگی آج بھی قائم ہے کہ سیاست میں دروازے بند نہیں کئے جاتے البتہ ایک نئی ابھرتی سیاسی جماعت کو ناکام کرنے اور سٹیٹس کو قائم رکھنے کے لیے اس نئی جماعت میں شامل کی جاتی ہے۔اس کا مظاہرہ پاکستانی تاریخ میں بارہا دیکھا گیا ہے اور پیپلز پارٹی بھی اس صورتحال سے گذر چکی ہے لیکن وہ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی تھی جبکہ آج کی پیپلز پارٹی ان تمام تجربات کو بھول کر پاور پالیٹکس کا حصہ بن چکی ہے۔اگر پی ٹی آئی من حیث الجماعت اسمبلیوں سے مستعفی ہوتی ہے تو یہ امر یقینی ہے کہ ان اراکین کی اکثریت،جو پی ٹی آئی میں شامل ہوئی تھی،کے لیے انتہائی آسان ہو جائے گا اوروہ باآسانی پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ کر اپنی پرانی جماعتوں میں لوٹ جائیں گے کہ اقتدار پرست پنچھیوں کی اڑان کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button