Column

نیازیوں پر قیامت کی گھڑی ….. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی
ایک آئینی اور قانونی تبدیلی کے نتیجے میں ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوگیا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لفظی تبدیلی نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی ہے۔ بیان کرنے والے تو سینکڑوں وجوہات بیان کرتے ہیں، جن میں بیشتر کا سر پیر نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کی تعداد 154بھی اتحادی اور آزاد امیدوار شامل کرنے کے بعد وہ سادہ اکثریت حاصل کرسکے۔ پھر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اِن اتحادیوں اور ارکان اسمبلی میں حکومتی پالیسیوں کے سبب بد دلی پھیلتی گئی۔ قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں ان کے حاضر ارکان کی تعداد ایک سو بتائی گئی، اگر اِس تعداد کو درست مان لیا جائے تو اندازہ کرلیجئے کتنے ساتھی، ساتھ چھوڑ گئے۔ مرکزی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے، جس میں افواج پاکستان اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے نام لے لے کر وہ کچھ کہا جارہا ہے جو ضبطِ تحریر میں نہیں لایا جاسکتا۔ یہ مہم پاکستان اور پاکستان کے باہر سے آپریٹ کی جارہی ہے،اس میں مردوں کے علاوہ تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین پیش پیش ہیں۔ الزام تراشیاں اور بدزبانیاں تمام حدود سے گذر چکی ہیں، یہ سب کچھ اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر موجود شخصیات کے حکم پر کیا جارہا ہے، جس سے وطن عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے خاندانوںمیں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس میں آنے والے ہر دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔
اِس ملک دشمن مہم میں کچھ ریٹائرڈ اور بعض ریٹارٹرڈ شخصیات بھی شامل ہیں۔ مہم کا آغاز چند برس قبل ہوا تھا، ایک گانا تیار کرکے سوشل میڈیا پر ڈالاگیا جس کا مصرعہ اول تھا، وہی تو ہے جو نظام ہستی چلارہا ہے، اس کے آگے کیا تھا سب کو ازبر ہے۔ اسی زمانے میں ایک مشہور ملی نغمے کو بگاڑ کر افواج پاکستان کو تضحیک کا نشانہ بنایاگیا، اصل نغمہ تھا، اے وطن کے سجیلے جوانو! میرے نغمے تمہارے لیے ہیں۔ دشمنان پاکستان کے فنڈز سے چلنے والی اس مہم کے مرکزی کرداروں کو اُس وقت نشان عبرت بنادیا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ آج پانی سر سے گذرچکا ہے۔ ذرائع بتارہے ہیں کہ اعلیٰ ترین سطح پراِس ملک دشمن، افواج پاکستان دشمنی کے کرداروں کا نوٹس لیاگیا ہے لیکن صرف نوٹس لینا کافی نہیں۔ حالات اور وقت کا تقاضا کچھ اور ہے۔ ہمارے یہاں چھوٹے چوروں کو پکڑنے اور بڑے چوروں کے ہاتھوں پر بوسے دینے کی تاریخ موجود ہے۔ وقت آگیا ہے کہ بڑے چوروں اور بڑے بدمعاشوں سے اِس نیک کام کا آغاز کیا جائے۔ اِس معاملے میں بڑے سیاسی قد کاٹھ اور چھوٹے قدم میں تمیز نہ کی جائے۔ اِس ملک دشمن سرگرمی میں کوئی شخص رعایت کا مستحق نہیں۔ یاد رہے ملک
دشمنی کے معاملات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں بھیجے جاتے ہیں، ان میں دیت و قصاص اور ضمانتوں کی سہولت نہیں ہوتی۔ پس مجرمان کو تیز رفتار ٹرائل کے بعد مثالی سزا دی جائے، ایسی مثالی سزا جس کے بعد اِن جرائم پیشہ افراد کو مزید تخریب کاری کی جرأت نہ ہو۔
امریکہ و یورپ کے علاوہ بھارت میں بیٹھے کئی گروپ یہی کام کررہے ہیں، ان میں دوہری شہریت رکھنے والے مردوخواتین بھی ہیں۔ بعض غیر ملکی شہریت کی حامل عورتیں تسلسل کے ساتھ ننگی گفتگو کرتے ہوئے اہم اداروں اور اُن کے سربراہوں کو زد پر رکھے ہوئے ہیں، ہمارے آئی ٹی کے ماہرین کو سوچنا ہوگا کہ کس طرح اِس لغو گفتگو اور پراپیگنڈے کو روکا جاسکتا ہے یا فلٹر کیا جاسکتا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے نصف سے زائد عمر برطانیہ اور یورپ کے مختلف شہروں میں گذاری، جس کا وہ فخریہ ذکر کرتے کبھی نہیں تھکتے، ان کا دعویٰ درست تھا کہ انہوںنے یورپی اقوام کو بہت قریب سے دیکھا ہے لیکن وہ یورپ کی خوبیوں پر مشتمل کوئی ایک قانون اپنے ملک میں رائج نہ کرسکے۔ مثلاً یورپ میں ملاوٹ کا تصور نہیں، اشیائے خورونوش یا ادویات میں ملاوٹ کا کیس آجائے تو سخت ترین سزا کا قانون موجود ہے لہٰذا کوئی اِس کا تصورنہیں کرسکتا، اسی طرح جھوٹے الزمات یا کسی کی تضحیک کرنے والے کو معافی نہیں ملتی۔ عمران خان بذات خود ایک ایسا ہی مقدمہ برطانیہ میں جیت چکے ہیں لیکن اُن کے زمانہ حکومت میں ہر شخص کو پگڑی اچھال پروگرام کی کھلی چھٹی حاصل رہی۔ ذرائع بتاتے ہیں وہ اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی پر مبنی پروگرام دیکھ کر اظہار مسرت کرتے تھے، ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے کسی مخالف سے کبھی کوئی رعایت نہیں برتی بلکہ اِس معاملے میں شرمناک کردار ادا کیا۔ اِن کی دیکھا دیکھی بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی یہی روش اختیار کرلی اور اب صورت حال نہ گفتہ بہ ہوچکی ہے۔
عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک نئے عزم سے سیاسی برائیوں کے خلاف کمر کس کے باہر نکلے ہیں، وہ اپنے تمام عام جلسوں میں ان تمام برائیوں کا ذکر اُسی زور و شور سے کریں گے جس طرح اقتدار میں آنے سے قبل کیا کرتے تھے۔ انہیں ماضی میں بھی پذیرائی ملی وہ آئندہ بھی سراہے جائیں گے کیوں کہ ان کی بعض باتیں صرف سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ تلخ حقائق ہیں۔ ان میں امیر و غریب کے لیے انصاف کے مختلف پیمانے، وراثت کی سیاست کے علاوہ ملک کو اپنے خاندان کی جائیداد و جاگیر سمجھتے ہوئے اس کے وسائل کو جی بھر کے لوٹنا اور ہوشربا جرائم کے بعد سزائوں سے بچ نکلنا ہے۔
ان کے اقتدار سے جڑی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تمام عمر مافیاز کی مذمت کرنے والے کے ہاتھ جب اقتدار و اختیار آیا تو ان کی قرار واقعی مرمت کرنے کی بجائے اس وقت بھی ان کی صرف مذمت پر تکیہ کیاگیا۔
ان کے زمانہ اقتدار میں جمہوریت کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا، جمہوریت اپنے حُسن کے جلوے خوب خوب بکھیرتی رہی، ان کی تفصیل کے لیے کالم نہیں کتاب درکار ہے۔ جمہوریت کا تازہ ترین حُسن ملاحظہ فرمائیے۔ آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت قائم تھی۔ عبدالقیوم نیازی صاحب کو سربراہ بنایاگیا، تحریک انصاف کو زبردست اکثریت حاصل تھی، آج تحریک انصاف کے اپنے ہی ممبران نے آزاد کشمیر حکومت کے سربراہ عبدالقیوم نیازی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے۔ یوں عبدالقیوم نیازی بھی اب چند دن کے مہمان ہیں، یہ اپنی طرز کا دنیا بھر میں پہلا واقعہ ہوگا جب کسی سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ اپنے قائد، اپنے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں اور بالآخر اسے کامیاب بنادیں۔
کارکردگی کے اعتبار سے خان کی اِس بنائی گئی ٹیم کی کارکردگی گینز بک ورلڈ ریکارڈ میں اعلیٰ مقام حاصل کرے گی۔
مقام حیرت ہے امریکہ تحریک انصاف کو کوڈی کوڈی کرنے پر تُلا ہوا ہے اور ہم کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔
ترین ارکان کے ایوان میں تحریک کو کامیابی فقط ستائیں ارکان کے ووٹ کی ضرورت ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف ہر شخص ووٹ دینے کے لیے بازی لے جانا چاہتا ہے، خیال تھا کہ عمران خان نیازی کو رخصت کرنے کے بعد امریکہ کو قرار آجائے گا لیکن ایسا لگتا ہے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نیازیوں کو گھر سے بے گھر کیا جائے گا۔
نیازیوں پر قیامت کی گھڑی ہے، لوک گلوکار طفیل نیازی اور ڈاکٹر اجمل نیازی بھلے وقتوں چل بسے ورنہ امریکہ نے انہیں بھی چھوڑنا نہیں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button