Column

در در پاؤں پاؤں اور پھر گریبان …. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

ماضی میں پیر پگاڑا کے دلچسپ بیانات اخبارات کی زینت بنتے تھے۔پیر پگاڑا کا ماضی کاوہ بیان بھی بہت دلچسپ تھا جو انہوں نے محمد خان جونیجو کے وزیر اعظم پاکستان بننے پر دیا تھا کہ”جونیجو ہمارا آدمی ہے اور ہم نے اِسے جنرل ضیاء الحق کو اُدھار دیاہے۔جب چاہیں گے منافع کے ساتھ واپس لے لیں گے“۔اسکے علاوہ”ہم جی ایچ کیو کے ساتھ ہیں،ہم خیال،بوٹوں کی آمد،مارچ میں ڈبل مارچ،مارچ پاسٹ،ہم حال،چوہے بلی کا کھیل،دودھ کارکھوالابلا“اور اِس سے ملتے جلتے استعارے پیر صاحب کے سیاسی بیانیہ کے اظہار کے کوڈ ورڈزتھے جو ذو معنی اور اپنے اندر عوام الناس کی دلچسپی کا سامان سمیٹے ہوا کرتے تھے۔یہ استعارے مارشل لا کے قوانین و ضوابط کی زد سے باہر تھے۔پیر صاحب اِن استعاروں کو سیاسی رہنماؤں سے صلاح مشوروں اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اپنے ہربیان اور اخبارنویسوں کے سوالوں کے جواب میں استعمال کرتے تھے۔سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے اِس دور میں پیر صاحب کے دلچسپ بیانات سب سے زیادہ پڑھے جاتے تھے۔1984میں جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ڈھونگ ریفرنڈم کروانے کے بعدملک بھر میں غیر جماعتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تو چاروں صوبوں میں گروپ بندی اور صف آرائی شروع ہو گئی۔حروں کے مذہبی پیشوا پیر پگاڑا کا کراچی میں موجود کنگری ہاؤس ملکی سیاست کا مرکز بن چکا تھا۔پیر صاحب یہاں روزانہ دوپہر کو آتے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں سے نہ صرف ملاقاتیں کرتے بلکہ اپنے مریدوں (حروں)سے ملاقات کرتے ہوئے اپنا دیدار بھی کرواتے تھے۔ کنگری ہاؤس میں عوام کی مشکلات کے حل کے لیے بھی ایک دفتر بنا ہوا تھا جس میں عوامی شکایات پر پیر پگاڑا حکم صادر کرتے اور صوبائی حکومت کا ایک ڈپٹی سیکرٹری اِن احکامات پر عملدرآمد کروایا کرتا تھا۔ پاکستانی فیوڈل کلاس کلچر میں وہ پاکستان کے سب سے طاقتور پیر ہونے کے باوجود اپنے مہمانوں کی کافی اپنے ہاتھ سے بناتے تھے،سگریٹ پیش کرتے اور ہنسی مذاق میں پاکستان کے حال اور مستقبل کا پورا زائچہ نکال کر رکھ دیتے۔ وہ ملاؤں کے نہیں صوفیوں کے قریب تھے۔ وہ لبرل پیر اور عورتوں کی آزادی کے قائل تھے۔

پاکستان میں ضیاء الحق کی بدترین آمریت کے دور میں اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں کارٹونسٹ فیقا نے اِتنے کارٹون ضیاء کے نہیں بنائے ہوں گے جتنے جاوید اقبال اور دوسرے کارٹونسٹوں نے پیر پگاڑا کے بنائے اور مزے کی بات ہے کہ پیر پگاڑا نے اِن میں سے بہت سے کارٹون چھانٹ کر جمع کیے ہوئے تھے۔ وہ واحد سیاستدان اور طاقتور شخصیت تھے جو اپنے کارٹونزاور اپنے خلاف چھپی ہوئی کسی بھی چیز پر شاید ہی کبھی اعتراض کرتے۔1985 کے الیکشن میں پیر پگاڑا بادشاہ گر بن کر سامنے آئے۔لاہوربلکہ پنجاب میں جو سب سے پہلا انتخابی سیاسی گروپ سامنے آیا اِس کانام شیخ اصغر گروپ تھا۔اٹک سے ملک اللہ یار آف کھنڈا کا گروپ بھی بہت بڑااور پسندیدہ تھا جبکہ پیرپگاڑاکے قریبی عزیز(برادر نسبتی) مخدوم زادہ حسن محمود وزارت اعلیٰ کے سب سے مضبوط تھے۔ مخدوم زادہ حسن محمود پیر پگاڑا کے بہت قریبی تھے۔ پیر پگاڑا جب بھی لاہور آتے تو مین بلیوارڈ گلبرگ میں واقع مخدوم حسن محمود(والدسابق گورنر مخدوم احمد محمود) کی رہائش گاہ پر ہی ٹھہرا کرتے تھے گو کہ نواز شریف1981 میں گورنر غلام جیلانی کے پاس3سال بطور”چھوٹا“ خدمت کر کے صوبائی وزیر بن چکا تھالیکن اِن انتخابی سیاسی گروپوں میں نواز شریف کا نام دور دور بھی نہیں تھا۔ انتخابات کے بعد بھی ملک اللہ یارآف کھنڈااور مخدوم حسن محمود ہی وزارت اعلیٰ کے اصل امیدوار تھے لیکن بقول سابق وفاقی وزیر داخلہ میاں زاہد سرفراز،گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی نے اِن سے ایک دن رائے مانگی بلکہ انہیں درخواست کی کہ اگرجنرل ضیاء الحق اِن سے نواز شریف کو وزیر اعلیٰ بنانے کی بابت رائے مانگیں تو وہ سفارش کر دیں۔

میاں زاہد سرفراز کے بقول اگلے دن جب جنرل ضیاء الحق نے اِن سے رائے مانگی تو انہوں نے پہلے ملک اللہ یار آف کھنڈاکا نام لیالیکن جب جنرل ضیاء الحق نے نواز شریف کا نام لیاتومیاں زاہد سرفراز کے بقول انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو کہا تھا کہ ملک اللہ یار آف کھنڈا سیاسی شخص ہے جبکہ آپ ایسا شخص لانا چاہتے ہیں جو موم کی ناک کی مانند ہو کہ آپ اِسے جہاں اور جیسے چاہیں موڑ سکیں۔اِس لیے نواز شریف جیسا شخص آپ کو سوٹ کرے گا۔اِس طرح سندھ میں غوث علی شاہ۔ بلوچستان میں جام غلام قادر خان۔سرحد(کے۔پی۔کے)میں ارباب جہانگیر خان وزیر اعلیٰ نامزد ہوئے اور یہ تینوں وزراء اعلیٰ پیر صاحب پگاڑا کے حمایت یافتہ بلکہ فراہم کیے ہوئے تھے لیکن پنجاب میں صورتحال یک دم تبدیل ہو گئی اور اب ملک اللہ یارآف کھنڈااور مخدوم حسن محمود کا مقابلہ یک دم نواز شریف اور مخدوم حسن محمود کے درمیان رہ گیا تھا۔ ملک اللہ یار آف کھنڈا جو کہ پیر پگاڑا کے حمایت یافتہ تھے یکدم ریس سے باہر ہو گئے اور پھر پیر پگاڑا کے اسلام آباد والے بنگلے میں جب وزارت اعلیٰ  پنجاب کے لیے پیر پگاڑہ فائنل انٹرویو کر رہے تھے تو سب سے پہلے مخدوم حسن محمود (برادر نسبتی) کو بلا کر کہا کہ وہ صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دیں اور جیتی ہوئی قومی اسمبلی کی نشست پر حلف اٹھائیں۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اتنی قریبی رشتے داری کے باوجود مخدوم حسن محمود کو یہ انکار اچھا نہیں لگا تھا۔اِس کے بعد نواز شریف کو قریباً 4 گھنٹے انتظار کے بعد پیر صاحب پگاڑا نے اندر بلایا اور نواز شریف نے انہیں ہر طریقے سے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔پیر صاحب پگاڑا عقل مند اور جہاں دیدہ سیاست دان تھے۔جب اِنہیں معلوم ہوا کہ غلام جیلانی کی سفارش اور حمایت سے جنرل ضیاء الحق پنجاب میں اپنا بغل بچہ لانا چاہ رہا ہے تو وہ خاموش ہو گئے کیونکہ تین صوبوں اور مرکز میں حکومتیں اِن کے ہی لوگوں کی بن رہی تھیں۔ویسے بھی جنرل ضیاء الحق 1985 میں تمام حکومتیں پیر پگاڑا کو نہیں دینا چاہ رہے تھے۔مئی 1988 میں جنرل ضیاء الحق نے جب اپنی ہی بنائی ہوئی اسمبلیاں توڑیں تو نواز شریف نے محمد خان جونیجو کی پیٹھ میں چھرا گھونپااورنگران وزیراعلیٰ پنجاب بن بیٹھا۔ اِس سے پہلے دسمبر 1985 میں گوالمنڈی کی دکانوں سے اقتدار میں پہنچانے والے غلام جیلانی خان کو تبدیل کر کے شاہ محمود قریشی کے والد مخدوم سجاد قریشی کو گورنر پنجاب بنانے والا احسان فراموش بھی میاں نواز شریف ہی تھا۔ گجرات کی چودھری فیملی کو نواز شریف کی سیاسی تربیت کرنے کا حکم بھی جنرل ضیاء الحق نے ہی دیا تھا اور ایک وہ بھی وقت تھا کہ نواز شریف کی تقریریں وغیرہ بھی چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی ہی لکھا کرتے تھے۔ 1990 میں جب پنجاب میں وزارت اعلیٰ پر چودھری برادران کا حق بنتا تھا تو نواز شریف نے اپنے کارخاص انگوٹھا چھاپ غلام حیدر وائیں کو وزیر اعلیٰ بنا ڈالا اور پھر جب 1993 میں میاں منظور وٹو کی تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں پنجاب کی تاریخ کے سب سے ہوشیار اور ذہین و فطین گورنر چوہدری الطاف نے آئینی چالیں چل کر شریف برادران کو مٹی چاٹنے پر مجبور کیا تو شریف برادران نے گجرات کے چودھریوں کو درخواست کی تھی کہ اراکین پنجاب اسمبلی کو اکٹھا کر کے پنجاب کے اقتدار کو بچایا جائے گو کہ چودھری برادران نے بھرپور کوشش کی اور لاہور ہائیکورٹ نے اِن کے حق میں فیصلہ بھی دے دیا تھا لیکن گورنر چودھری  الطاف نے چند منٹوں میں ہی پنجاب اسمبلی دوبارہ توڑ کر اِن کے سب خواب چکنا چور کر دئیے۔(یہ وہ ہی دور تھا جب نواز شریف نے سپریم کورٹ سے اپنی اسمبلی بحال ہونے کے بعد لاہور کے گورنر ہاؤس پر پولیس اور رینجرز کی مدد سے قبضہ کرنے کی گھناؤنی کوشش بھی کی تھی)پھر جب 1997 میں نوازشریف کو حکومت دی گئی تو سب احسانات بھلا کر شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔2000 میں سزا یافتہ شریف فیملی جب ڈیل کر کے جدہ گئی تو اِس وقت بھی چودھری برادران کو اکیلا چھوڑ دیا گیا اور پھر ڈیل کے ذریعے واپسی پر عباس شریف کی وفات پر چودھری برادران کی تعزیت کے لیے آنے کی درخواست بھی قبول نہ کی۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ آج شہباز شریف کیسے چودھری برادران کے سیاسی ڈیرے پر پہنچ گیا؟سچ تو یہ ہے کہ میاں شہباز شریف اورحمزہ شریف کے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے کیسوں کے فیصلے بہت قریب ہیں اور اِنہیں سزاؤں سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ رہی بات تحریک عدم اعتماد کی تو 1989 میں اسحاق خان اور فوج بھی محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف تھے اور اسامہ بن لادن سے لیے ہوئے پیسے بھی سیاست میں جھونکے گئے تھے لیکن تحریک عدم اعتماد بری طرح ناکام ہوئی تھی تو اب جبکہ چوں چوں کا مربہ اپوزیشن کرپشن میں لتھڑی ہوئی ہے تو یہ سب مفاد پرستوں کا ٹولہ عمران خان کے خلاف کیسے عدم اعتماد کی تحریک لا کر کامیاب ہو سکتا ہے؟پیر پگاڑا اکثر کہا کرتے تھے کہ شریف برادران جب مشکل میں ہوتے ہیں تو پاؤں پڑتے ہیں اور جب مشکل سے نکل جاتے ہیں تو گریبان پکڑتے ہیں۔آج بھی عوام دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان سے فرار میں ناکامی کے بعد بدترین کرپشن پرسزائیں ملنے کے خوف سے شریف برادران دردرپاؤں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن ماضی ہمیشہ مستقبل کا پتا دیتا ہے اِس لیے مستقبل میں چودھری برادران سمیت کوئی بھی شریف برادران سے اپنے گریبان پکڑوانے کو تیارنظرنہیں آرہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button