Column

ریڈیو کہانی ……  ناصر نقوی

ناصر نقوی

جدید دور میں بھی ریڈیو معلومات، خبروں اور آگاہی کے حوالے سے اپنا منفرد مقام رکھتا ہے، حالانکہ دنیا بھر میں نت نئے چینلز روزانہ کی بنیاد پر متعارف کرائے جارہے ہیں، چند سال پہلے عام لوگوں کا خیال تھاکہ چینلز کی بھر مار ریڈیو کو کھا جائے گی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ایسا اِس لیے ممکن نہیں کہ دور دراز علاقوں میں صرف پہنچ ہی ریڈیو کی ہے۔ بی بی سی، وائس آف جرمنی،   ریڈیو سلون اور آل انڈیا ریڈیو کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان نے اپنے خوبصورت اور منفرد پروگراموں سے اِس کی کامیابی میں نہ صرف اپنا کردار ادا کیا بلکہ اِس کی افادیت کا جادو عام کیا، آج بھی ریڈیو نشریات دنیا کی 95 فیصد آبادی تک پہنچ رکھتی ہے اور ایک سروے کے مطابق ریڈیو سننے والوں کی تعداد 4.2 ارب کے قریب ہے۔ اگر اِن سامعین کاغیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ راز بھی فاش ہوجائے گا کہ سپر پاور امریکہ کے 24کروڑ42 لاکھ سپر لوگ ریڈیو کی افادیت سے استفادہ حاصل کرتے ہیں، یہی نہیں، اِس ترقی یافتہ ریاست کے امریکی سامع اوسطاً روزانہ ڈھائی سے تین گھنٹے ریڈیو سنتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں جدید سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک محتاط سروے کے مطابق دنیا بھر میں 66 ہزار پانچ سو سے زائد ریڈیو سٹیشنز کام کررہے ہیں، وطن عزیز پاکستان میں شہروں کے مقابلے میں آبادی دیہی علاقوں میں زیادہ رہتی ہے جہاں نہ ہی اخبارات کی رسائی ہے اور نہ ہی ٹی وی کی، ویسے بھی اِن کم ترقی یافتہ دیہاتوں میں تعلیم وتربیت کی بھی کمی ہے، ایسے حالات میں ذریعہ ابلاغ صرف اور صرف ریڈیو ہے جس سے معلومات، حالات حاضرہ کے پروگراموں کے ساتھ تفریحی پروگرام بھی عوامی، دلچسپی کا باعث ہیں۔ پہلے پہل پاکستان میں صرف میڈیم ویوز پر معلومات ریڈیو پاکستان لوگوں تک پہنچتا اور اسکی نشریات کھیتوں، کھلیانوں اور صحراؤں تک پہنچتی تھی پھر دنیا میں جدید راستے تلاش کیے گئے تو ایف ایم ریڈیو کو بے حد پذیرائی ملی۔ پاکستان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسر ے دورِ اقتدار1994 میں پہلا ایف ایم ریڈیو سٹیشن بنا اور اِسے اِس قدر پذیرائی ملی کہ اَ ب ایک محتاط اندازے کے مطابق دو سو سے زائد ایف ایم  ریڈیو اپنی نشریات باقاعدگی سے جاری رکھے ہوئے ہیں لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ ہوا کے دوش پر اِس وقت سب سے اہم میڈیا ایف ایم ریڈیو ہے تو بے جانہ ہو گا۔

2010ء میں سپین نے ریڈیو کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے ریڈیو کا عالمی دن منانے کی تجویز دی، جسے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے زیر اہتمام اَب ہر سال 13فروری کو منایا جاتاہے۔ موجودہ جدید دور میں بھی ریڈیو نہ صرف آگاہی اور معلومات کا ایک اہم، موثر اور سستا ترین ذریعہ ابلاغ ہے بلکہ اِس کی مقبولیت ماضی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہو چکی ہے کیونکہ یہ ٹی وی اور اخبارات کی رسائی نہ ہونے والے دور دراز علاقوں میں بسنے والوں کی آگاہی اور تفریح کا واحد ذریعہ ہے۔ پاکستان میں ریڈیو نے ہمیشہ مثبت سرگرمیوں سے اپنی انفرادیت قائم رکھی قدیم ترین ذریعہ ابلاغ ہونے کے باوجود اِس کی اہمیت جنگ اور امن میں کبھی بھی کم نہیں ہوئی 14/ اگست 1947 ء کو جب سے ممتاز براڈ کاسٹر مصطفےٰ علی ہمدانی نے ”یہ ریڈیو پاکستان ہے“ کی صدا بلندکی، اِس وقت سے اب تک ریڈیو پاکستان نے اچھے برے حالات میں اپنا منفرد مقام قائم رکھا، اِس کی تاریخ میں نامور دانشور وں، شاعروں اور ادیبوں نے اپنے اپنے دور میں خوب رنگ بھر ے، ہونہار نونہالوں کی تربیت کے لیے موہنی حمید کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پہلا ریڈیو لاہور تھا جہاں سے تحریک آزادی کی کامیابی پر دنیا بھر میں پہلی مرتبہ پاکستان کا نام سنا گیا۔ ریڈیو پاکستان نے اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے لیکن اِس کا ایک یادگار، تاریخی اور سنہری دور 1965 ء کا تھا جب پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا، اِس وقت کے صدر جنرل محمد ایوب خان نے ریڈیو پاکستان سے قوم سے خطاب میں کہا کلمہ حق لاالہ۔۔کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ اِسے سبق سکھا دو کہ اِس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ اِس خطاب کے بعد ریڈیو پا کستان لاہور کی گہما گہمی قابل دید تھی ملک کے تمام بڑے شاعر صوفی تبسم، مشیر کاظمی، فیض احمد فیض سمیت شب و روز ریڈیو پر گزارتے۔ملکہ ترنم نور جہاں، مالا، شوکت علی، عنایت حسین بھٹی، مسعود رانا، منیر حسین سب کے سب اپنا بوریا بستر لے کر ریڈیو پر بسیرا کر چکے تھے۔
ملک کے تمام ممتاز موسیقار وں کا ڈیرہ بھی ریڈیو پاکستان لاہور تھا، جہاں شعرااکرام ملی نغمے لکھتے، موسیقار دھن ترتیب دیتے اور گلو کار انہیں اپنی خوبصورت آواز سے یادگار بنا دیتے،اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ اگر ہماری افواج نے سرحدوں پر دشمن کے دانت کھٹے کیے تو ریڈیو نے یہی جنگ اپنے شعراء گلوکاروں اور فنکاروں کے ذریعے لڑی، آج بھی اگر برسوں گزرنے کے بعد اِن ملی نغمے کو سناجائے تو ہر محب وطن پاکستانی جوش وجذ بے سے سرشار ہو جاتا ہے۔ اے وطن کے سجیلے جوانوں، میرے نغمے تمہارے لیے ہیں، بھلا نور جہاں کی آواز میں اِس نغمے کو کون فراموش کر سکتا ہے۔ جنگ65ء کی جیت میں ریڈیو محاذ انتہائی مضبوط تھا آج بھی اِس سے نشر کیے جانے والے پروگرام ملک و ملت کے استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، یعنی ریڈیو پاکستان کی روایات اپنے ماضی سے نہ صرف جڑیں ہوئی ہیں بلکہ سنہرے اور کامیاب مستقبل کی راہیں ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اِس کے سیاسی، معلوماتی اور کرنٹ افیئر کے پروگراموں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ ریڈیو ایف ایم کی دنیا نے اپنا ایک علیحدہ مقام بنا لیا ہے۔ اِس کی افادیت کو تسلیم کرتے ہو ئے مختلف تعلیمی اداروں، چیمبر آف کامرس، محکمہ ٹریفک اور علاقائی زبانوں کے ایف ایم ریڈیو ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہے ہیں اور دن بدن اِن کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اِن حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ میڈیاکے جدید ترین دور میں بھی ریڈیو کی عزت و تکریم میں کمی نہیں ہوئی۔ ترقی کے تیز دور میں بھی ایف ایم ریڈیو کا سفر جاری ہے۔ سینکڑوں کمرشل اور ایجوکیشنلز ایف ایم ریڈیو ز موجود ہیں، یہی نہیں موجودہ حالات و ضرورت کے مطابق ریڈیو کی موبائلز ایپس اور سیٹلائٹ عوامی خدمت میں سرگرم ہیں۔عوامی آگاہی، معلوماتی اور تفریحی پروگراموں کے علاوہ ایف ایم پر موسیقی کے پروگراموں کو بھی پسند کیا جارہاہے جبکہ چھپے رستم کرونا اور ڈینگی جیسی بیماری میں بھی ریڈیو نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا بلکہ کسی بھی ملکی سانحات اور حادثات میں ریڈیوآج بھی اپنے سامعین کو بروقت اور حقیقی خبریں پہنچا رہا ہے اِس کا مطلب ہے کہ میڈیا، خواہ کتنی بھی ترقی اور جدت اختیار کر لے ریڈیو کی قدر میں کمی نہیں ہو گی اور اِس کی ضرورت و اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا یعنی ریڈیو کو نظر انداز کرنے والے کسی غلط فہمی کا شکار ہیں،ریڈیو خبروں تک پہلی رسائی تھی اور ہر دور میں رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button