Column

تحریک عدم اعتماد پر اعتماد ….. روشن لعل

روشن لعل

ہمارے آئین کے مطابق کسی بھی منتخب حکومت کو ختم کرنے کاواحد قانونی و جمہوری طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے۔ آئین ایسی مضبوط ترین حکومت کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد لانے سے نہیں روکتاجس کی مخالفت میں پیش کی گئی تحریک کامیاب ہونے کا رتی برابر امکان نہ ہو۔ مگر ہم نے دیکھاکہ یہاں ناقابل برداشت اختلافات ظاہر کرنے کے باوجود مانگے تانگے سے قائم کی گئی ایک کمزور ترین حکومت کے خاتمے کے لیے منقسم اپوزیشن کے ایک بڑے دھڑے نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی بجائے وہ طریقے استعمال کرنے پر زور دیا جنہیں کسی طرح بھی آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عمران حکومت کے خاتمے کے حوالے سے اپوزیشن کے مختلف دھڑوں کے مختلف موقف عوام پر اِس حد تک عیاں ہیں کہ یہاں کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کون سا دھڑا حکومت کے خلاف عدم اعتماد پیش کرنے پر زور دے رہا تھا اور کون اِس سے گریز کر رہا تھا۔

یہ بات بھی یہاں سب پر واضح ہے کہ حکومت کے خاتمے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عدم اعتماد کی بجائے استعفوں، لانگ مارچ اور دھرنے پر زور دینے کی وجہ سے اِس کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلاف کس حد تک جا پہنچاتھا۔ اِس ختلاف کی وجہ سے اِن جماعتوں نے اپنی وہ توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف صرف کیں جنہیں حکومت کے خلاف استعمال ہونا چاہیے تھا۔ اِن دونوں جماعتوں نے قریباً ایک سال تک حکومت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی مخالفت کر کے نہ جانے کیا کھویا اور کیا پا یا مگر اب وہ اِس بات پر متفق ہیں کہ ایک دوسرے کے تعاون سے عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں گی۔ اِس اتفاق کا اظہار اِس ملاقات کے بعد کیا گیا جو جاتی امرا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ہوئی۔ اِس ملاقات کے لیے شہباز شریف نے میاں نواز شریف کے کہنے پر بلاول اور آصف علی زرداری کو خاص طور پر مدعو کیا تھا۔ عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر یہ دونوں جماعتیں کس حد تک سنجیدہ ہیں اِس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقات کے دو دن بعد آصف علی زرداری، عمران حکومت کی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سے ملنے چلے گئے۔ اِس ملاقات سے اگلے روز ایک اور حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے خصوصی طور پر میاں شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اِن ملاقاتوں کے بعد ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے تعاون کی حامی بھر لی ہے۔ گو کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) نے تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن سے تعاون کا اعلان نہیں کیا مگر پھر بھی اِن کے اِ س رویوں کو حکومت کے لیے نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اِن دونوں جماعتوں نے حکومت کے ساتھ کھڑے رہنے کا واضح اعلان کرنے کی بجائے اپوزیشن کی تجویز پر غور فکر اور مشاورت کا عندیہ دیا ہے۔
اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں پر اگر حکومتی ردِ عمل کو دیکھا جائے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران حکومت اپنے خلاف اپوزیشن کی سرگرمیوں کو سرسری کارروائیاں سمجھنے کی بجائے حقیقی خطرہ تصور کر رہی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کوششوں کو حکومت کی طرف سے اپنے لیے خطرہ تصور کرنے کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن جماعتوں کی باہمی اور حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتوں کے بعد اپنے اتحادیوں پر اعتماد کا اظہار کرنے کی بجائے جلسے کرنے اور عوامی رابطہ مہم کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔ اِس اعلان سے یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ حکومت کو شاید اب وہ سہارے میسر نہیں رہے جو اتحادیوں کو اِس کے ساتھ جوڑے رکھنے کے کام پر لگے رہتے تھے۔ شاید اِسی وجہ سے عمران خان نے عوامی رابطے کا اعلان کیا ہے کہ اِس کی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی اِس کی سیاست کو ختم شد تصور نہ کیا جائے۔
ؑعمران خان کا اپنے اتحادیوں پر بھروسہ متزلزل ہونے کے باوجود کچھ مبصر ِان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کو مشکوک تصور کر رہے ہیں۔ ایسے مبصروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خاص طور پر چودھری برادران کو جو کچھ دے رکھا ہے،اپوزیشن جماعتیں اگر اِنہیں اِس سے بڑھ کر دینے کی پیشکش نہیں کریں گی تو وہ کبھی عمران کو چھوڑ کر ان کے قریب نہیں آئیں گے۔ یاد رہے کہ عمران حکومت کو گرانے کے لیے پی ڈی ایم بناتے وقت لائحہ عمل کے طور پر جس 26 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا گیا تھا اِس میں سرفہرست ملک کے مختلف شہروں میں جلسوں کا انعقاد، پھر پی ٹی آئی کی مختلف حکومتوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکوں کا پیش کیا جانا اور اِن تحریکوں کی ناکامی کی صورت میں لانگ مارچ دھرنے اور آخر میں اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن رکھا گیا تھا۔ پی ڈی ایم نے مختلف شہروں میں جلسوں کا اہتمام تو انتہائی کامیابی سے کر لیا تھا مگر تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی بجائے اسمبلیوں سے استعفے دینے کی بحث اِس لیے شروع کر دی گئی تھی کیوں کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی مسلم لیگ (ق) کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی اور مسلم لیگ (ق) کے پرویز الٰہی صرف اِس صورت میں تعاون کے لیے آمادہ ہو سکتے تھے کہ اگر اِنہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ سونپی جاتی۔ (ن) لیگ کی قیادت نے پیپلزپارٹی پر تو دباؤ ڈالا کہ سندھ میں اپنی حکومت اِن کی خواہشوں پر قربان کر دے مگر وہ خود پنجاب کی حکومت پرویز الٰہی کے سپرد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اب تحریک عدم اعتماد کے لیے پیپلز پارٹی سے متفق ہوگئی ہے مگر ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کو دینے کے لیے تیارہے یا نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن)  کی ترجیحات کیا ہیں اور اِس کی قیادت نے کس حد تک لچک دکھاتے ہوئے بلاول اور آصف علی زرداری کو تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے پیش رفت کرنے کا کہا ہے، یہ ابھی غیر واضح ہے۔مسلم لیگ (ن) کی ترجیحات جو بھی ہوں مگر یہ بات طے ہے کہ اگر تو (ن) لیگ نے کسی ایسی جگہ معاملات طے کر لیے ہیں جہاں سے مسلم لیگ (ق) کو عمران خان کے ساتھ جوڑا گیا تھا تو پھر پرویز الٰہی حسب سابق عہدے پر رہتے ہوئے بھی تحریک عدم اعتماد کے لیے تعاون کر سکتے ہیں لیکن بصورت دیگر اِن کی فرمائشیں کچھ اور ہوں گی۔ لگتا ہے آنے والے دنوں میں یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ عمران خان کو لانے والوں کے خلاف جدوجہد کا نعرے لگانے والی (ن) لیگ نے اگر تحریک عدم اعتماد پر اعتماد کیا ہے تو اِس کی حقیقت کیا ہے۔
 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button